دفتر خارجہ کی پالیسی بریفنگ

طالبان کے ساتھ مذاکرات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، پاکستان

افغانستان میں جمہوریت کا تسلسل خطے کے لیے نہایت اہم ہے اس لیے افغانستان میں حالیہ صدارتی انتخابات خوش آیند ہیں، پاکستان فوٹو:فائل

MANDI BAHAUDDIN:
طالبان کے ساتھ مذاکرات پر بعض اطراف سے اعتراضات کے جواب میں پاکستان نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے لہٰذا اس حوالے سے کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں افغانستان کی طرف سے اس اعتراض کے جواب میں کہ حکومت پاکستان کے طالبان کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں حقانی نیٹ ورک نے افغانستان میں اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں، کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے جس میں کسی کو مداخلت یا اعتراض کرنے کا کرئی حق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں جمہوریت کا تسلسل خطے کے لیے نہایت اہم ہے اس لیے افغانستان میں حالیہ صدارتی انتخابات خوش آیند ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ افغان صدارتی انتخابات کے فوری بعد پاک افغان سرحد کھول دی گئی ہے۔ پاکستان افغان عوام کی مدد جاری رکھے گا لیکن افغان طالبان سے مذاکرات افغان حکومت کا کام ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان کی حکومت تحریک طالبان پاکستان سے جو مذاکرات کر رہی ہے وہ اس کا اندرونی معاملہ ہے' افغانستان یا دنیا کے کسی اور ملک کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے' اس میں بھی پاکستان کا کوئی کردار نہیں۔ افغانستان میں اگر افغان طالبان کوئی کارروائی کر رہے ہیں تو اسے روکنا وہاں کی حکومت کا کام ہے۔ افغان حکومت اگر طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے تو اس پر بھی پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ افغانستان کی حکومت کو اپنے معاملات پر توجہ دینی چاہیے بجائے اس کے کہ وہ پاکستان پر اعتراضات کرے۔


ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ میں بعض دیگر موضوعات پر بھی بات چیت کی جن میں ایران کے ساتھ تعلقات اور بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کی بحالی کے معاملات بھی تھے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ روابط ہیں اور یہ بات بطور خاص قابل ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صرف ایک معاملے پر نہیں چلتے۔ مغوی ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں کے بارے میں ترجمان نے وضاحت کی کہ ان کی رہائی پاکستان میں عمل نہیں آئی' نیز وزیر اعظم نواز شریف ایرانی حکومت کی دعوت پر ایران جا رہے تھے تاہم اب تک ان کے دورۂ تہران کی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستانی حکام اور ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی محافظ پاکستانی سرزمین پر لائے گئے نہ ہی یہاں رہا ہوئے۔ بعض قوتیں پاکستان اور ایران کے تعلقات میں خرابی پیدا کرنے کی خواہاں ہیں۔ ایرانی محافظوں کے اغوا کے معاملے بھی پاکستان دشمن قوتوں نے اپنا کھیل کھیلا۔

ایران اور پاکستان کی حکومتوں نے حالات کی نزاکت کو سمجھا ہے اسی لیے دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے۔ پاکستان بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے' بھارت میں جو جماعت بھی کامیاب ہوئی اس سے تعلقات مستحکم بنائیں گے۔ جنوبی ایشیاء میں دیر پا امن کے قیام کا انحصار کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل پر ہے۔ بھارت میں اس وقت انتخابات کا عمل جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ وہاں جو جماعت برسراقتدار آئے گی پاکستان نے اسی کے ساتھ اپنے معاملات طے کرنے ہیں۔ پاکستان کی حکومت کی حالات کے بارے میں پالیسی درست سمت میں ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کو اس امر کا احساس ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے' اس لیے مذاکرات کے آپشن کو اختیار کر کے تنازعات کو حل کرنے کے عمل کا آغاز کرنا چاہیے۔ دوسری جانب دونوں ملکوں میں ایسے طاقتور طبقے بھی موجود ہیں جو نہیں چاہتے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی ہو۔ اب بھارت میں برسراقتدار آنے والی قیادت پر بھاری ذمے داری عائد ہو گی کہ پاکستان کے ساتھ متنازعہ معاملات کو حل کرنے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کرے۔
Load Next Story