پاک چین تعلقات۔۔۔ وقت کی ضرورت

چین واحد ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات انتہائی مضبوط چلے آ رہے ہیں۔

چینی انجینئرز اور ماہرین اس وقت پاکستان میں مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ فوٹو:فائل

چین واحد ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات انتہائی مضبوط چلے آ رہے ہیں۔ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے موجودہ دور حکومت میں دونوں ممالک کے یہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں اور حکومتی کوششوں ہی کا نتیجہ ہے کہ چین نے پاکستان میں مختلف شعبوں میں 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے جو بہت بڑی سرمایہ کاری ہے، دنیا کا کوئی اور ملک پاکستان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کر رہا۔ چینی انجینئرز اور ماہرین اس وقت پاکستان میں مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے چین میں بائو فورم برائے ایشیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی ترقی کے لیے امن و استحکام ناگزیر ہے، تنازعات سے گریز اور تنازعات کے حل کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے، اقتصادی نمو یقینی بنانے کے لیے امن کے طریقوں کو تقویت دینی چاہیے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ یورپ نے سائنسی اور اقتصادی میدان میں بہت تیزی سے ترقی کی ہے مگر اب ان حالات میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ ایشیا جس تیزی سے ترقی کر رہا ہے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقتصادی طاقت کو مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہوتا دیکھ رہے ہیں جب کہ ایشیا تیزی سے عالمی معیشت کا پاور ہائوس بنتا جا رہا ہے۔ ایشیا میں جاپان اور کوریا کے بعد چین بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ معاشی ماہرین چین کی ترقی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ آیندہ آنے والے وقت میں عوامی جمہوریہ چین دنیا کی معاشی سپرپاور ہو گا۔

انھی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو مضبوط سے مضبوط بنا رہے ہیں' وہ بخوبی جانتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں یہ معاشی تعلقات پاکستان کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہوں گے۔ دنیا میں کوئی بھی ملک ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر معاشی تعلقات قائم کیے بغیر ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکتا۔ ترقی کی منازل تیزی سے طے کرنے کے لیے پاکستان چین، ترکی اور اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات خوشگوار بنانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ علاقائی ممالک کے مقدر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں لہذا مربوط کوششوں کے ذریعے ہی مشترکہ ترقی کی جا سکتی ہے۔ پاک بھارت تعلقات میں موجود رکاوٹیں خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ باہمی طور پر مربوط عالمی معیشت کے لیے کوئی بھی مسلح تصادم تباہ کن ہو سکتا ہے۔


ایسے ترقی پذیر ممالک جو ٹیکنالوجی کے لحاظ سے پیچھے ہیں ان کی اہم شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی میں معاونت کی جانی چاہیے۔ پاکستان چین اور جاپان میں ہونے والی ترقی سے فائدہ اٹھا کر اپنے معاشی نظام کو بہتر بنا سکتا ہے۔ عالمی دنیا پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے متفکر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے برے اثرات سے نکل رہا ہے جس سے گزشتہ ایک دہائی میں ہماری معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچا۔ دہشت گردی پاکستان کی معیشت کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ملکی سرمایہ کار بدامنی کے واقعات سے پریشان ہو کر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہا ہے، ایسی صورت میں غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری پر کیسے آمادہ ہو سکتا ہے۔

انھی حقائق کے پیش نظر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پاکستان کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی جانب راغب کر رہے ہیں۔ انھیں اس بات کا ادراک ہے کہ جب تک پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہو گی معاشی ترقی کے لیے اٹھایا گیا کوئی بھی قدم نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو گا۔ موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا یہ واضح اظہار ہی ہے کہ چین پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کر رہا ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت کو تقویت ملے گی' سرمایہ کاری کے اس عمل سے پاکستان اور چین کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

عالمی معیشت میں ایشیا کا اہم کردار ہے۔ خطے کی اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام ایشیائی ممالک باہم مل کر کام کریں اور ایک مشترکہ اقتصادی پلیٹ فارم تشکیل دیں۔ یہ بالکل درست ہے کہ 2014ء کا پاکستان ایک پر اعتماد ملک ہے جو کاروبار، تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے۔ ''ایشیائی رہنمائوں کے ساتھ مکالمے'' کے موضوع پر خطاب میں میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ قدیم شاہراہ ریشم کی بحالی کے لیے مفاہمت، خیر سگالی اور تعاون کی فضا پیدا کرنا ہو گی۔ شاہراہ ریشم مغرب اور مشرق کے درمیان پُل کی حیثیت اختیار کر جائے گی، شاہراہ ریشم کی وجہ سے پاکستان خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد ہم موثر اقتصادی پالیسیاں اور گورننس بہتر کرنے کی طرف اقدامات اٹھا رہے ہیں، اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ بجلی اور انفرااسٹرکچر کے بڑے منصوبے شروع کریں، آج پاکستان کاروبار کے اعتبار سے خطے میں سب سے آگے ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم نواز شریف نے چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے باہمی اعتماد کا معیار مزید بلند کیا جائے گا۔ موجودہ حکومت کی بہتر اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات میں مزید وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ جس کا اظہار چینی وزیر اعظم نے یوں کیا کہ چین پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فوقیت دیتا ہے، چین پاکستان کی خود مختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے بھرپور حمایت جاری رکھے گا، چینی وزیر اعظم نے پاکستان کی دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف قربانیوں کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ ان مسائل کے خلاف چین کی پاکستان کو ہمیشہ معاونت حاصل رہے گی۔ پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے، چینی کمپنیاں جس تیزی سے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی لے رہی ہیں امید ہے کہ آیندہ چند سال میں پاکستان توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو جائے گا۔
Load Next Story