شہریوں سے دودھ فروش روزانہ کروڑوں روپے اینٹھنے میں کامیاب
ریٹیلرز کھلے عام لیٹر پر اضافی 20 روپے کمانے لگے، بدترین صوتحال پر شہریوں میں اشتعال
زائد نرخ پر دودھ فروخت کرکے کمائی گئی رقم سے جرمانہ باآسانی دیدیتے ہیں ،دودھ فروش۔ فوٹو: فائل
کراچی میں ددوھ کی زائد نرخ پر فروخت جاری ہے اور فی لیٹر دودھ پر20روپے تک منافع کما رہے ہیں، شہری انتظامیہ کی جانب سے ددوھ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن اور جرمانوں کے باوجود شہر میں زائد نرخوں پر دودھ کی فروخت جاری ہے۔
صارف تنظیم سی آر پی سی نے سندھ ہائیکورٹ سے اپیل کی ہے کہ دودھ کی قیمتوں میں من مانے اضافے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈیری مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے جبکہ دوسری جانب شہری انتظامیہ کی جانب سے کارروائیوں کے نتیجے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دودھ کی منافع خوری میں ریٹیلرز ملوث ہیں ، سرجانی ٹاؤن میں قائم200سے زائد باڑوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ ریٹیلرزکوفی لیٹر دودھ 62 روپے 50 پیسے جبکہ بھینس کالونی کے باڑا مالکان ریٹیلرز کو فی لیٹر ددوھ 64 روپے 50 پیسے کے حساب سے فروخت کرتے ہیں ، ریٹیلرز یہی دودھ62روپے50 پیسے تا64روپے50پیسے میں خرید کر صارفین کو 84 تا 86روپے لیٹر میں فروخت کررہے ہیں۔
یوں ریٹیلرز صارفین سے فی لیٹر دودھ پر 20 روپے تک منافع کمارہے ہیں، گزشتہ روز بھی ایڈیشنل کمشنر ٹو حاجی احمد کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں زائد نرخوں پر دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور جرمانے عائد کئے گئے، زائد نرخوں پر دودھ فروخت کرنیوالے ریٹیلرز کو5ہزار تا30ہزار روپے تک کے جرمانے کیے گئے جبکہ دودھ کے نمونے بھی اٹھائے گئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ جرمانوں کے باوجود ریٹیلرز زائد نرخوں پر دودھ فروخت کرنے سے باز نہیں آرہے،ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ جس قدر پیسے وہ زائد نرخوں پر دودھ فروخت کرکے کمالیتے ہیں اس کے سامنے ان جرمانوں کی کوئی حیثیت نہیں،خوشی خوشی ادا کردیتے ہیں، بوٹ بیسن کے علاقے میں دودھ 92روپے فی لیٹر تک میں فروخت ہورہا ہے جبکہ اورنگی ٹاؤن میں86روپے،ماڈل کالونی اور ملیر میں84روپے لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جارہا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں اس وقت دودھ کی فروخت82تا86روپے کے درمیان کی جارہی ہے، دوسری جانب کمشنر کراچی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کو خط بھی لکھے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے جس میں عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ دودھ کی قیمتوں کا معاملہ کورٹ میں ہونے کے باوجودقیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا جائے ،دریں اثناء صارفین انجمنوں نے بھی سندھ ہائیکورٹ سے دودھ کی قیمتوں میں اضافے پر از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے،کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین شکیل بیگ کا کہنا ہے کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہری بری طرح متاثر ہورہے ہیں جبکہ پولٹری اور گوشت مافیا کے بعد اب ڈیری مافیا نے بھی حکومتی رٹ کو چیلنج کردیا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے،اس ساری صوتحال پر عوام میں اشتعال پایا جاتاہے۔
صارف تنظیم سی آر پی سی نے سندھ ہائیکورٹ سے اپیل کی ہے کہ دودھ کی قیمتوں میں من مانے اضافے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈیری مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے جبکہ دوسری جانب شہری انتظامیہ کی جانب سے کارروائیوں کے نتیجے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دودھ کی منافع خوری میں ریٹیلرز ملوث ہیں ، سرجانی ٹاؤن میں قائم200سے زائد باڑوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ ریٹیلرزکوفی لیٹر دودھ 62 روپے 50 پیسے جبکہ بھینس کالونی کے باڑا مالکان ریٹیلرز کو فی لیٹر ددوھ 64 روپے 50 پیسے کے حساب سے فروخت کرتے ہیں ، ریٹیلرز یہی دودھ62روپے50 پیسے تا64روپے50پیسے میں خرید کر صارفین کو 84 تا 86روپے لیٹر میں فروخت کررہے ہیں۔
یوں ریٹیلرز صارفین سے فی لیٹر دودھ پر 20 روپے تک منافع کمارہے ہیں، گزشتہ روز بھی ایڈیشنل کمشنر ٹو حاجی احمد کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں زائد نرخوں پر دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور جرمانے عائد کئے گئے، زائد نرخوں پر دودھ فروخت کرنیوالے ریٹیلرز کو5ہزار تا30ہزار روپے تک کے جرمانے کیے گئے جبکہ دودھ کے نمونے بھی اٹھائے گئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ جرمانوں کے باوجود ریٹیلرز زائد نرخوں پر دودھ فروخت کرنے سے باز نہیں آرہے،ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ جس قدر پیسے وہ زائد نرخوں پر دودھ فروخت کرکے کمالیتے ہیں اس کے سامنے ان جرمانوں کی کوئی حیثیت نہیں،خوشی خوشی ادا کردیتے ہیں، بوٹ بیسن کے علاقے میں دودھ 92روپے فی لیٹر تک میں فروخت ہورہا ہے جبکہ اورنگی ٹاؤن میں86روپے،ماڈل کالونی اور ملیر میں84روپے لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جارہا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں اس وقت دودھ کی فروخت82تا86روپے کے درمیان کی جارہی ہے، دوسری جانب کمشنر کراچی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کو خط بھی لکھے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے جس میں عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ دودھ کی قیمتوں کا معاملہ کورٹ میں ہونے کے باوجودقیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا جائے ،دریں اثناء صارفین انجمنوں نے بھی سندھ ہائیکورٹ سے دودھ کی قیمتوں میں اضافے پر از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے،کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین شکیل بیگ کا کہنا ہے کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہری بری طرح متاثر ہورہے ہیں جبکہ پولٹری اور گوشت مافیا کے بعد اب ڈیری مافیا نے بھی حکومتی رٹ کو چیلنج کردیا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے،اس ساری صوتحال پر عوام میں اشتعال پایا جاتاہے۔