اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات میں توسیع کا معاہدہ ہو گیا
مذاکرات30اپریل کے بعدبھی جاری رہیں گے،اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی غیرمتعین تعدادرہاکریگا
مذاکرات30اپریل کے بعدبھی جاری رہیں گے،اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی غیرمتعین تعدادرہاکریگا
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطین اوراسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کو 30 اپریل کی ڈیڈلائن کے بعدبھی جاری رکھنے کیلیے معاہدہ طے پاگیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی غیرمتعین تعدادکو جیلوں سے رہاکریگااور غرب اردن میں یہودی آبادکاری کاعمل منجمد کردے گا۔ اس کے بدلے میں فلسطینی اتھارٹی15عالمی اداروں،کنونشنوں اور معاہدوں کی رکنیت کے منصوبے سے دستبردار ہوجائے گی اورفریقین کے درمیان مذاکرات کاثالث امریکا اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈکو رہاکر دے گا۔اسرائیل نے پہلے یہ شرط عائدکی تھی کہ فلسطینی اتھارٹی مذاکرات کو29 اپریل کی ڈیڈلائن کے بعدبھی جاری رکھتی ہے توپہلے سے طے شدہ سمجھوتے کے مطابق چوتھے اورآخری مرحلے میں26 فلسطینی قیدیوں کو رہاکیا جاسکتا ہے لیکن فلسطین نے امن مذاکرات کوبحال رکھنے کے لیے اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ اس تجویزکو بلیک میل قراردے کرمسترد کردیا تھا۔
دریں اثنا تل ابیب()اسرائیل فلسطین کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کرنے کے ردعمل میں فلسطینی انتظامیہ کی طرف سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوںکی ادائیگی منجمد کردے گااور فلسطینی انتظامیہ کی اسرائیلی بینکوںمیں موجودرقوم تک رسائی کومحددو کردے گا۔ دوسری جانب فلسطین کی مذاکراتی ٹیم کے رابطہ کارنے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ ادھرامریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کوامریکا، اسرائیل اورفلسطین کے درمیان امن مذاکرات کانیا دورہوا ہے اورفاصلے کم ہورہے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی غیرمتعین تعدادکو جیلوں سے رہاکریگااور غرب اردن میں یہودی آبادکاری کاعمل منجمد کردے گا۔ اس کے بدلے میں فلسطینی اتھارٹی15عالمی اداروں،کنونشنوں اور معاہدوں کی رکنیت کے منصوبے سے دستبردار ہوجائے گی اورفریقین کے درمیان مذاکرات کاثالث امریکا اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈکو رہاکر دے گا۔اسرائیل نے پہلے یہ شرط عائدکی تھی کہ فلسطینی اتھارٹی مذاکرات کو29 اپریل کی ڈیڈلائن کے بعدبھی جاری رکھتی ہے توپہلے سے طے شدہ سمجھوتے کے مطابق چوتھے اورآخری مرحلے میں26 فلسطینی قیدیوں کو رہاکیا جاسکتا ہے لیکن فلسطین نے امن مذاکرات کوبحال رکھنے کے لیے اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ اس تجویزکو بلیک میل قراردے کرمسترد کردیا تھا۔
دریں اثنا تل ابیب()اسرائیل فلسطین کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کرنے کے ردعمل میں فلسطینی انتظامیہ کی طرف سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوںکی ادائیگی منجمد کردے گااور فلسطینی انتظامیہ کی اسرائیلی بینکوںمیں موجودرقوم تک رسائی کومحددو کردے گا۔ دوسری جانب فلسطین کی مذاکراتی ٹیم کے رابطہ کارنے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ ادھرامریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کوامریکا، اسرائیل اورفلسطین کے درمیان امن مذاکرات کانیا دورہوا ہے اورفاصلے کم ہورہے ہیں۔