2012 پرتشدد کارروائیوں کے دوران 5 لاکھ لوگ لقمہ اجل بنے
دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے جرائم کی وجوہات کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے۔رپورٹ
دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے جرائم کی وجوہات کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے۔رپورٹ، فوٹو: اے ایف پی/فائل
دنیا بھر میں 2012ء کے دوران قتل وغارت اور پرتشدد کارروائیوں کے دوران پانچ لاکھ کے قریب لوگ لقمہ اجل بنے۔
اس بات کا انکشاف منشیات وجرائم کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارہ یو این او ڈی سی نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔ لندن میں ادارہ کے ڈائریکٹر پالیسی انالسزا ا ینڈ پبلک افیئر چین لک لیما ہیو نے '' گلوبل سٹڈی آن ہومی سائیڈ 2013 ''رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے جرائم کی وجوہات کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2012 کے دوران قتل وغارت کے واقعات میں چار لاکھ 37ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ عالمی سطح پر ایسے واقعات میں لقمہ اجل بن جانے والے مردوں کی تعداد خواتین کی نسبت چار گناہ زیادہ ہے جبکہ مردوں کی بڑی تعداد ایسے افراد ہاتھوں ہلاک ہوئی جنہیں وہ جانتے تک نہیں تھے۔
اس بات کا انکشاف منشیات وجرائم کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارہ یو این او ڈی سی نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔ لندن میں ادارہ کے ڈائریکٹر پالیسی انالسزا ا ینڈ پبلک افیئر چین لک لیما ہیو نے '' گلوبل سٹڈی آن ہومی سائیڈ 2013 ''رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے جرائم کی وجوہات کو سمجھنا وقت کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2012 کے دوران قتل وغارت کے واقعات میں چار لاکھ 37ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ عالمی سطح پر ایسے واقعات میں لقمہ اجل بن جانے والے مردوں کی تعداد خواتین کی نسبت چار گناہ زیادہ ہے جبکہ مردوں کی بڑی تعداد ایسے افراد ہاتھوں ہلاک ہوئی جنہیں وہ جانتے تک نہیں تھے۔