شام عراقی سرحد پر جنگجو آپس میں لڑ پڑے 86 ہلاک
النصرۃ فرنٹ اور آئی ایس آئی ایل میں خونی لڑائی کے بعد فری سیرین آرمی نے پرچم لہرا دیا
لڑائی اسلامی بریگیڈ کے7 جنگجوؤں کے قتل پر شروع ہوئی۔ فوٹو:اے ایف پی / فائل
شام میں القاعدہ کی اتحادی تنظیم اور اس کی حمایتی گروپوں نے عراقی سرحد کے قریب واقع قصبہ البو کمال میں مخالف گروپ النصرۃ فرنٹ کے جنگجوؤںکا ایک حملہ پسپا کردیا۔ اس جھڑپ کے دوران دونوں طرف سے 86 جنگجو ہلاک ہوگئے۔
جن میں 60 ہلاکتیں النصرۃ فرنٹ کے جنگجوؤں کی ہیں۔ شام میں انسانی حقوق کیلیے مشاہداتی این جی او کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ اسلامی بریگیڈ کے7 جنگجوؤں کے قتل پر یہ لڑائی شروع ہوئی۔ جمعرات کی صبح سے شروع ہونیوالی اس لڑائی میں باغیوں نے قصبہ البو کمال کا دوبارہ مکمل قبضہ کرلیا ہے جبکہ آئی ایس آئی ایل کے جنگجو اس اہم تیل بردار علاقہ سے بھاگ نکلے۔ یہ ٹی ٹو آئل اسٹیٹ قصبہ سے60 کلومیٹر دور واقع ہے جبکہ اس علاقے سے شام اور عراق کی پائپ لائن بھی گزرتی ہے۔ عراقی سرحد کی جانب سے فوجیوں نے علاقہ پر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کیلیے فوری کارروائی کی جبکہ شام کی طرف والا یہ علاقہ فری سیرین آرمی جنگجوؤں کا قبضہ برقرار ہے جبکہ عراق کی طرف موجود اے ایف پی کے نمائندے نے شام کے علاقہ میں فری سیرین آرمی کے لہراتے ہوئے پرچم بھی دیکھے ہیں۔
البو کمال اضلاع کا علاقہ2012ء سے ہی شامی حکومت مخالف ایف ایس اے کے زیر قبضہ ہے جبکہ آئی ایس آئی ایل اس پر اپنا قبضہ کرنا چاہتی تھی تاکہ تیل کی دولت پر قبضہ کیا جاسکے۔ قصبہ البو کمال کی وادی فرات کی آبادی شام کی خانہ جنگی سے قبل70 ہزار تھی۔ شامی فوج کے پاس اس علاقہ میں اب صرف ایک بارڈر کراسنگ التفنل الولید کا کنٹرول رہ گیا ہے جو بغداد جانے والی واحد شاہراہ ہے۔ ادھر لبنان میں شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی مددکرنا ہمارافرض ہے ،صدربشارالاسدمتعدد محاذوں پر اہم کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں،میڈیارپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ شامی صدر اقتدارکی نہیں اپنے ملک کو بچانے کی جنگ لڑرہے ہیں، غیرملکی طاقتیں علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلیے شام پر قبضہ چاہتی ہیں، شامی صدرکامقصد انصاف پر مبنی ہے، وہ کرائے کے قاتل نہیں منگوارہے، اس لیے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی مدد کریں۔
جن میں 60 ہلاکتیں النصرۃ فرنٹ کے جنگجوؤں کی ہیں۔ شام میں انسانی حقوق کیلیے مشاہداتی این جی او کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ اسلامی بریگیڈ کے7 جنگجوؤں کے قتل پر یہ لڑائی شروع ہوئی۔ جمعرات کی صبح سے شروع ہونیوالی اس لڑائی میں باغیوں نے قصبہ البو کمال کا دوبارہ مکمل قبضہ کرلیا ہے جبکہ آئی ایس آئی ایل کے جنگجو اس اہم تیل بردار علاقہ سے بھاگ نکلے۔ یہ ٹی ٹو آئل اسٹیٹ قصبہ سے60 کلومیٹر دور واقع ہے جبکہ اس علاقے سے شام اور عراق کی پائپ لائن بھی گزرتی ہے۔ عراقی سرحد کی جانب سے فوجیوں نے علاقہ پر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کیلیے فوری کارروائی کی جبکہ شام کی طرف والا یہ علاقہ فری سیرین آرمی جنگجوؤں کا قبضہ برقرار ہے جبکہ عراق کی طرف موجود اے ایف پی کے نمائندے نے شام کے علاقہ میں فری سیرین آرمی کے لہراتے ہوئے پرچم بھی دیکھے ہیں۔
البو کمال اضلاع کا علاقہ2012ء سے ہی شامی حکومت مخالف ایف ایس اے کے زیر قبضہ ہے جبکہ آئی ایس آئی ایل اس پر اپنا قبضہ کرنا چاہتی تھی تاکہ تیل کی دولت پر قبضہ کیا جاسکے۔ قصبہ البو کمال کی وادی فرات کی آبادی شام کی خانہ جنگی سے قبل70 ہزار تھی۔ شامی فوج کے پاس اس علاقہ میں اب صرف ایک بارڈر کراسنگ التفنل الولید کا کنٹرول رہ گیا ہے جو بغداد جانے والی واحد شاہراہ ہے۔ ادھر لبنان میں شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کی مددکرنا ہمارافرض ہے ،صدربشارالاسدمتعدد محاذوں پر اہم کامیابیاں سمیٹ چکے ہیں،میڈیارپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ شامی صدر اقتدارکی نہیں اپنے ملک کو بچانے کی جنگ لڑرہے ہیں، غیرملکی طاقتیں علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلیے شام پر قبضہ چاہتی ہیں، شامی صدرکامقصد انصاف پر مبنی ہے، وہ کرائے کے قاتل نہیں منگوارہے، اس لیے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی مدد کریں۔