چین کے تعاون سے توانائی کے بڑے منصوبے
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ عوامی جمہوریہ چین سے بڑی امید افزا خبریں سامنے آئی ہیں۔
پاکستان میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں چینی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں، نواز شریف فوٹو؛فائل
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ عوامی جمہوریہ چین سے بڑی امید افزا خبریں سامنے آئی ہیں۔ انھوں نے ملک میں سرمایہ کاری لانے کے حوالے میں چینی سرمایہ کار کمپنیوں کے سربراہوں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ چینی کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے کنسورشیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان اور چینی کنسورشیم میں 1320 میگاواٹ کے منصوبے کی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا جس کے مطابق چینی کنسورشیم ساہیوال میں 660 میگاواٹ کے دو بجلی گھر لگائے گا۔ اس منصوبے کا آغاز آئندہ ماہ یعنی مئی میں ہو گا جو دو سال میں یعنی2016 ء میں مکمل ہو گا۔
اس موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں چینی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں اور حکومت پاکستان چینی سرمایہ کاروں کو بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس چینی منصوبے کی بر وقت تکمیل سے پاکستانی معیشت کو فروغ ملے گا۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اگلے روز بیجنگ میں چین کی ایک بڑی ٹیکسٹائل کمپنی کے چیئرمین اور ایک پاور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات کی، یہ بھی پاکستان میں سرمایہ کاری لانے کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے پاکستانی معیشت کو تیزی سے ترقی ملے گی۔ چینی سرمایہ کاروں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے مسائل عارضی نوعیت کے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ساہیوال میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے پلانٹ لگائے جائیں گے۔ واضع رہے حکومت پاکستان بجلی کے نئے منصوبے لگانے کے ساتھ ساتھ کوئلے کی کانکنی کے منصوبوں پر بھی تیز رفتاری سے کام کر رہی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ ساہیوال میں کول پاور پلانٹس کی تنصیب کے منصوبے سے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع اور جامع پروگرام کا آغاز ہو گا۔ توانائی کے منصوبوں کے ساتھ ٹیکسٹائل سیکٹر میں بھی چینی گروپ کے تعاون سے طے پانے والے معاہدوں پر بھی تیز رفتاری سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ چین پاکستان میں تقریباً ہر شعبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ گوادر بندرگاہ کا معاملہ ہو یا پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے، بجلی بنانے کے منصوبے ہوں یا ٹیلی کمیونی کیشن کے پراجیکٹ، چین ہر جگہ بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب بھی چین جاتے رہتے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کس حد تک چین پر انحصار بڑھا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چین مستقبل کی عالمی اقتصادی طاقت ہے، شرح نمو کی ترقی کے اعتبار سے چین ترقی یافتہ ممالک میں سب سے آگے ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک بھی چین کے ساتھ اقتصادی شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ بھارت اور چین کے درمیان تجارتی حجم بھی بہت زیادہ ہے۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور چین کے تجارتی تعلقات میں مزید اضافہ ہونا چاہیے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی چین میں خاصی سہولتیں حاصل ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار بھی چین میں سرمایہ کاری کریں تو بہت سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان جس انداز میں چین کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھا رہے ہیں اس پر پوری رفتار سے عمل جاری رہا تو پاکستان جلد ہی اپنی معاشی مشکلات پر قابو پا لے گا۔
اس موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں چینی سرمایہ کاروں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں اور حکومت پاکستان چینی سرمایہ کاروں کو بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس چینی منصوبے کی بر وقت تکمیل سے پاکستانی معیشت کو فروغ ملے گا۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اگلے روز بیجنگ میں چین کی ایک بڑی ٹیکسٹائل کمپنی کے چیئرمین اور ایک پاور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات کی، یہ بھی پاکستان میں سرمایہ کاری لانے کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے پاکستانی معیشت کو تیزی سے ترقی ملے گی۔ چینی سرمایہ کاروں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے مسائل عارضی نوعیت کے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ساہیوال میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے پلانٹ لگائے جائیں گے۔ واضع رہے حکومت پاکستان بجلی کے نئے منصوبے لگانے کے ساتھ ساتھ کوئلے کی کانکنی کے منصوبوں پر بھی تیز رفتاری سے کام کر رہی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ ساہیوال میں کول پاور پلانٹس کی تنصیب کے منصوبے سے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع اور جامع پروگرام کا آغاز ہو گا۔ توانائی کے منصوبوں کے ساتھ ٹیکسٹائل سیکٹر میں بھی چینی گروپ کے تعاون سے طے پانے والے معاہدوں پر بھی تیز رفتاری سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ چین پاکستان میں تقریباً ہر شعبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ گوادر بندرگاہ کا معاملہ ہو یا پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے، بجلی بنانے کے منصوبے ہوں یا ٹیلی کمیونی کیشن کے پراجیکٹ، چین ہر جگہ بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب بھی چین جاتے رہتے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کس حد تک چین پر انحصار بڑھا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چین مستقبل کی عالمی اقتصادی طاقت ہے، شرح نمو کی ترقی کے اعتبار سے چین ترقی یافتہ ممالک میں سب سے آگے ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک بھی چین کے ساتھ اقتصادی شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ بھارت اور چین کے درمیان تجارتی حجم بھی بہت زیادہ ہے۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور چین کے تجارتی تعلقات میں مزید اضافہ ہونا چاہیے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی چین میں خاصی سہولتیں حاصل ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار بھی چین میں سرمایہ کاری کریں تو بہت سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان جس انداز میں چین کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھا رہے ہیں اس پر پوری رفتار سے عمل جاری رہا تو پاکستان جلد ہی اپنی معاشی مشکلات پر قابو پا لے گا۔