مائل بہ جمہوریت مادر وطن کی خیر
قومی سلامتی کے نام پر کسی کو بھی شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، چیف جسٹس
قومی سلامتی کے نام پر کسی کو بھی شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، چیف جسٹس فوٹو:فائل
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر کسی کو بھی شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کوئی ادارہ آئین اور قانون میں درج اپنے اختیار سے باہر نہیں جا سکتا، تنقید اورتبصرے ہمیں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے قیام سے نہیں روک سکتے، جمہوریت کا تحفظ عدلیہ کا مقدس فریضہ ہے ۔
جمعہ کو سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے جج جسٹس خلجی عارف حسین کے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ اراکین پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ، اپوزیشن سیاست دانوں اور بحیثیت مجموعی پوری سول سوسائٹی کے لیے مستقبل کا سماجی و فکری چارٹر یا میثاق جمہوریت کی شکل میں قانون کی حکمرانی سے منسلک بار بار کیے گئے عہد کی تجدید ہے۔ بشرطیکہ ارباب سیاست اس پر کان دھریں اور خود احتسابی کے ذریعے قومی اتفاق رائے کی سمت ہزار دشواریوں کے باوجود سفر جاری رکھیں کیونکہ جمہوریت کو آج بھی کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔
طالع آزمائی کی دبی سی خواہش کے بھرپور انگڑائی لینے کا مسکت جواب صرف قانون کی حکمرانی میں مضمر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آزاد عدلیہ ہو اور اس کے ججز ہر قسم کی چلتی ہوئی ہوائوں سے آزاد رہتے ہوئے فیصلے کریں۔ چنانچہ ایک ''فرد'' کے مقدمہ کو ''ادارہ'' کی توہین اور وقار سے مشروط کرنے کی بلاجواز کشمکش کو تدبر اور طرز تکلم کے حسن سے ختم ہونا چاہیے۔ وہ سیاسی رہنما جو زمینی حقائق سے نظریں چرا کر پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں انھیں احساس ہونا چاہیے کہ قانون کی حکمرانی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک اس واہمہ کو تبدیل نہ کیا جائے کہ فقط ایک ہی امر یقینی ہے اور وہ ہے انحطاط جس طرح زندگی میں فقط ایک چیز حقیقی ہے اور وہ ہے موت۔ جی نہیں۔ ہر متحرک معاشرہ تھوڑی سی بغاوت مانگتا ہے جو جمود سے تو بہتر ہے۔
لہٰذا اس مروجہ اور بے فیض فکری، نظریاتی اور سیاسی رویے کو دفن کر کے قومی یکجہتی اور سیاسی رواداری، سویلین اور عسکری پیج کی یکجائی سے ملک کو درپیش داخلی خطرات سے نکالا جائے۔ طالبان سے بات چیت جاری ہے تو اس کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا جائے، اندیشوں کو خوا مخواہ غم دوراں کی داستان مت بنانے دیں۔ طالبان مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کا کہنا ہے کہ فوج اور حکومت میں مشرف یا قیدیوں کی رہائی کے معاملات سے متعلق کچھ اختلافات یا طالبان گروہوں کی آپس کی لڑائی ہو یہ بھی مذاکرات میں مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
فریقین کی خاموشی کے باعث ڈیڈلاک کی سی صورت پیدا ہو چکی ہے۔ تاثر ہے کہ فوج بھی قیدیوں کی رہائی کے مسئلہ پر ناخوش ہے۔ یہ تبصرہ مذاکراتی ٹیموں اور ارباب اقتدار کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ تمام سیاست دانوں اور عسکری قیادت کے مابین مکمل اتفاق رائے وقت کا تقاضہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ہوم ورک کیا جائے۔ الیکٹرانک میڈیا میں پرویز مشرف اور طالبان سے بات چیت کے ایشو پر سنجیدگی کا مظاہرہ اولین شرط ہے، مُٹھی سے ریت نکلنے کا تاثر دینے والے ملک اور جمہوریت کے خیر خواہ نہیں۔ اس لیے بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی فری اسٹائل سیاسی ریسلنگ بند کی جائے۔ بندہ پرورو! معاشی استحکام ناگزیر ہے جب کہ اس کے برعکس کئی سطحوں پر معاشرہ انتشار، بے یقینی، بہیمانہ و جگر سوز جرائم اور لاقانونیت کی آگ میں جل رہا ہے، جرائم اور بیروزگاری کے الم ناک مظاہر ہاتھوں میں ہاتھ دیے جمہوریت کا منہ چڑا رہے ہیں۔
چیف جسٹس کا ارشاد قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ کا مقدس فریضہ ہے کہ جمہوریت کا تحفظ کرے۔ بنچ، بار اور حکومت سمیت تمام اداروں کو جمہوریت کا تحفظ کرنا ہو گا۔ عوامی حقوق کو نظرانداز کر دیا گیا تو بھی فرض کی ادائیگی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم سب کا فرض ہے کہ ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے ایک ستون بن جائیں۔ معاشی، سماجی اور سیاسی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے آئین نے تمام اداروں کو سپریم کورٹ کے احکامات کا پابند کیا ہے اور عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کی ضمانت دی ہے۔ قانون کی حکمرانی کا قیام جہد مسلسل کا نام ہے اس ضمن میں معمولی رعایت یا غفلت کی وجہ سے ساری جدوجہد بیکار ہو سکتی ہے۔
چیف جسٹس کے چشم کشا خطاب میں درست نشاندہی کی گئی کہ جمہوری اقدار، برداشت، انسانی عظمت اور لوگوں کو سستا اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔ نہ تو انفرادی حقوق کی وجہ سے قومی سلامتی سے غافل رہا جا سکتا ہے اور نہ ہی قومی سلامتی کے نام پر انفرادی حقوق کو نظر اندازکیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا نہ آئین خود کشی کا نسخہ ہے اور نہ ہی شہری حقوق قومی تباہی کی قربان گاہ ہیں، اسی توازن کو رکھنے کی وجہ سے بعض اوقات عدالت کے فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے۔ ریٹائر ہونے والے جج جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ پی سی او کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے والے بنچ میں شامل ہونا ان کے لیے اعزاز ہے۔
دریں اثنا پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد رمضان چوہدری نے فل کورٹ ریفرنس سے اپنے خطاب میں پی سی او کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتی ججوں نے اکثریتی ججوں کو برطرف کر کے آئین سے انحراف کیا ہے۔ گزشتہ چند سال سے اعلیٰ عدلیہ جس آزادی کے ساتھ کام کر رہی ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی لیکن آزادی کے ساتھ کام کرتے ہوئے غیر جانبداری بھی نظر آنا چاہیے۔ یوں محسوس ہوتا ہے قوم کو اک پل بھی چین نصیب نہیں۔ جمہوری ماحول میں بھی مسائل کے انبار تلے دبی ہوئی ہے، ایک طرف ڈیڑھ ارب ڈالر کی وصولی پر شکوے شکایات کا بازار گرم ہے اور دوسری طرف طالبان سے نتیجہ خیز یا ڈانواں ڈول مذاکرات اور جنرل پرویز مشرف کیس پر فلک کج رفتار خنداں زن ہے۔
بلاشبہ عام آدمی نان ایشوز کے بھنور میں ڈبکیاں لگا رہا ہے۔ اسے جمہوری سرنگ کے اس پار ابھی تک ہمہ جہت سماجی، تعلیمی، رہائشی ریلیف اور معاشی آسودگی کی امید افزا روشنی نظر نہیں آ رہی، فوج، سلامتی سے متعلق ریاستی اداروں اور حکومتی سوچ اور اقدامات کے درمیان فاصلے مٹنے ضروری ہیں۔ ''ملک کو دہشت گردی اور فرقہ واریت جیسے مسائل کا سامنا ہے، پوری قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے متوازن رویہ اپنانا ہو گا۔'' عدالتی اکابرین مزید کیا کہہ سکتے ہیں۔ دنیا کے نابغہ روزگار کامیڈین چارلی چپلن نے کہا تھا کہ '' ڈکٹیٹر خود کو تو آزاد رکھ جاتے ہیں مگر قوم کو غلام بنا لیتے ہیں ۔''ایک آزاد نڈر عدلیہ اور مائل بہ جمہوریت قوم ہی بانیٔ پاکستان کے خوابوں کی اصل تعبیر ہے۔
جمعہ کو سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے جج جسٹس خلجی عارف حسین کے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ اراکین پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ، اپوزیشن سیاست دانوں اور بحیثیت مجموعی پوری سول سوسائٹی کے لیے مستقبل کا سماجی و فکری چارٹر یا میثاق جمہوریت کی شکل میں قانون کی حکمرانی سے منسلک بار بار کیے گئے عہد کی تجدید ہے۔ بشرطیکہ ارباب سیاست اس پر کان دھریں اور خود احتسابی کے ذریعے قومی اتفاق رائے کی سمت ہزار دشواریوں کے باوجود سفر جاری رکھیں کیونکہ جمہوریت کو آج بھی کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔
طالع آزمائی کی دبی سی خواہش کے بھرپور انگڑائی لینے کا مسکت جواب صرف قانون کی حکمرانی میں مضمر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آزاد عدلیہ ہو اور اس کے ججز ہر قسم کی چلتی ہوئی ہوائوں سے آزاد رہتے ہوئے فیصلے کریں۔ چنانچہ ایک ''فرد'' کے مقدمہ کو ''ادارہ'' کی توہین اور وقار سے مشروط کرنے کی بلاجواز کشمکش کو تدبر اور طرز تکلم کے حسن سے ختم ہونا چاہیے۔ وہ سیاسی رہنما جو زمینی حقائق سے نظریں چرا کر پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں انھیں احساس ہونا چاہیے کہ قانون کی حکمرانی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک اس واہمہ کو تبدیل نہ کیا جائے کہ فقط ایک ہی امر یقینی ہے اور وہ ہے انحطاط جس طرح زندگی میں فقط ایک چیز حقیقی ہے اور وہ ہے موت۔ جی نہیں۔ ہر متحرک معاشرہ تھوڑی سی بغاوت مانگتا ہے جو جمود سے تو بہتر ہے۔
لہٰذا اس مروجہ اور بے فیض فکری، نظریاتی اور سیاسی رویے کو دفن کر کے قومی یکجہتی اور سیاسی رواداری، سویلین اور عسکری پیج کی یکجائی سے ملک کو درپیش داخلی خطرات سے نکالا جائے۔ طالبان سے بات چیت جاری ہے تو اس کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا جائے، اندیشوں کو خوا مخواہ غم دوراں کی داستان مت بنانے دیں۔ طالبان مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کا کہنا ہے کہ فوج اور حکومت میں مشرف یا قیدیوں کی رہائی کے معاملات سے متعلق کچھ اختلافات یا طالبان گروہوں کی آپس کی لڑائی ہو یہ بھی مذاکرات میں مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
فریقین کی خاموشی کے باعث ڈیڈلاک کی سی صورت پیدا ہو چکی ہے۔ تاثر ہے کہ فوج بھی قیدیوں کی رہائی کے مسئلہ پر ناخوش ہے۔ یہ تبصرہ مذاکراتی ٹیموں اور ارباب اقتدار کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ تمام سیاست دانوں اور عسکری قیادت کے مابین مکمل اتفاق رائے وقت کا تقاضہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ہوم ورک کیا جائے۔ الیکٹرانک میڈیا میں پرویز مشرف اور طالبان سے بات چیت کے ایشو پر سنجیدگی کا مظاہرہ اولین شرط ہے، مُٹھی سے ریت نکلنے کا تاثر دینے والے ملک اور جمہوریت کے خیر خواہ نہیں۔ اس لیے بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی فری اسٹائل سیاسی ریسلنگ بند کی جائے۔ بندہ پرورو! معاشی استحکام ناگزیر ہے جب کہ اس کے برعکس کئی سطحوں پر معاشرہ انتشار، بے یقینی، بہیمانہ و جگر سوز جرائم اور لاقانونیت کی آگ میں جل رہا ہے، جرائم اور بیروزگاری کے الم ناک مظاہر ہاتھوں میں ہاتھ دیے جمہوریت کا منہ چڑا رہے ہیں۔
چیف جسٹس کا ارشاد قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ کا مقدس فریضہ ہے کہ جمہوریت کا تحفظ کرے۔ بنچ، بار اور حکومت سمیت تمام اداروں کو جمہوریت کا تحفظ کرنا ہو گا۔ عوامی حقوق کو نظرانداز کر دیا گیا تو بھی فرض کی ادائیگی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم سب کا فرض ہے کہ ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے ایک ستون بن جائیں۔ معاشی، سماجی اور سیاسی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے آئین نے تمام اداروں کو سپریم کورٹ کے احکامات کا پابند کیا ہے اور عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کی ضمانت دی ہے۔ قانون کی حکمرانی کا قیام جہد مسلسل کا نام ہے اس ضمن میں معمولی رعایت یا غفلت کی وجہ سے ساری جدوجہد بیکار ہو سکتی ہے۔
چیف جسٹس کے چشم کشا خطاب میں درست نشاندہی کی گئی کہ جمہوری اقدار، برداشت، انسانی عظمت اور لوگوں کو سستا اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔ نہ تو انفرادی حقوق کی وجہ سے قومی سلامتی سے غافل رہا جا سکتا ہے اور نہ ہی قومی سلامتی کے نام پر انفرادی حقوق کو نظر اندازکیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا نہ آئین خود کشی کا نسخہ ہے اور نہ ہی شہری حقوق قومی تباہی کی قربان گاہ ہیں، اسی توازن کو رکھنے کی وجہ سے بعض اوقات عدالت کے فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے۔ ریٹائر ہونے والے جج جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ پی سی او کو غیر آئینی قرار دینے کے فیصلے والے بنچ میں شامل ہونا ان کے لیے اعزاز ہے۔
دریں اثنا پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد رمضان چوہدری نے فل کورٹ ریفرنس سے اپنے خطاب میں پی سی او کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتی ججوں نے اکثریتی ججوں کو برطرف کر کے آئین سے انحراف کیا ہے۔ گزشتہ چند سال سے اعلیٰ عدلیہ جس آزادی کے ساتھ کام کر رہی ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی لیکن آزادی کے ساتھ کام کرتے ہوئے غیر جانبداری بھی نظر آنا چاہیے۔ یوں محسوس ہوتا ہے قوم کو اک پل بھی چین نصیب نہیں۔ جمہوری ماحول میں بھی مسائل کے انبار تلے دبی ہوئی ہے، ایک طرف ڈیڑھ ارب ڈالر کی وصولی پر شکوے شکایات کا بازار گرم ہے اور دوسری طرف طالبان سے نتیجہ خیز یا ڈانواں ڈول مذاکرات اور جنرل پرویز مشرف کیس پر فلک کج رفتار خنداں زن ہے۔
بلاشبہ عام آدمی نان ایشوز کے بھنور میں ڈبکیاں لگا رہا ہے۔ اسے جمہوری سرنگ کے اس پار ابھی تک ہمہ جہت سماجی، تعلیمی، رہائشی ریلیف اور معاشی آسودگی کی امید افزا روشنی نظر نہیں آ رہی، فوج، سلامتی سے متعلق ریاستی اداروں اور حکومتی سوچ اور اقدامات کے درمیان فاصلے مٹنے ضروری ہیں۔ ''ملک کو دہشت گردی اور فرقہ واریت جیسے مسائل کا سامنا ہے، پوری قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جمہوریت کے استحکام کے لیے متوازن رویہ اپنانا ہو گا۔'' عدالتی اکابرین مزید کیا کہہ سکتے ہیں۔ دنیا کے نابغہ روزگار کامیڈین چارلی چپلن نے کہا تھا کہ '' ڈکٹیٹر خود کو تو آزاد رکھ جاتے ہیں مگر قوم کو غلام بنا لیتے ہیں ۔''ایک آزاد نڈر عدلیہ اور مائل بہ جمہوریت قوم ہی بانیٔ پاکستان کے خوابوں کی اصل تعبیر ہے۔