لاڑکانہ کے چہار درویش
برادرم مسلم شمیم سے زمینی، ذاتی، نظریاتی اور ادبی کتنے ہی رشتے ہیں
zahedahina@gmail.com
برادرم مسلم شمیم سے زمینی، ذاتی، نظریاتی اور ادبی کتنے ہی رشتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی نیا نہیں۔ چند ہفتوں پہلے انھوں نے اپنی تازہ کتاب 'لاڑکانہ کے چہار درویش' عنایت کی تو مجھے نو عمری کے وہ دن یاد آ گئے جب 'قصہ چہار درویش' پڑھی تھی۔ کیا قیامت قصہ تھا کہ دل چھین کر لے گیا۔ قصے میں بادشاہ آزاد بخت اور ان کی کوچہ گردی ہے جو ایک دلی آرزو کی تلاش جنگل بیابان میں کرتے ہیں۔ ایک رات فصیلِ شہر سے باہر نکل جاتے ہیں تو اندھیرے میں کچھ دور پر ایک شعلہ نظر آتا ہے جو آندھی میں بھی قائم ہے۔ یہ اس طرف کو چلتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ چار گدڑی پوش فقیر نقشِ دیوار ہوئے بیٹھے ہیں اور یوں وہ ادبی شاہ کار وجود میں آتا ہے جس میں برادرانِ یوسف بھی ہیں اور جان نثار کرنے والے بھی۔
اس کلاسیکی داستان سے شمیم بھائی کی اس تازہ کتاب کا کوئی تعلق نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ لاڑکانہ کے جن چار درویشوں کا انھوں نے ذکر کیا ہے ان کے نظریے کا چراغ مخالفت کی آندھی میں بھی روشن رہا اور انھوں نے اپنی زندگیاں سماج کو بدلنے پر صرف کر دیں۔ وہ انسان جن سے طبقاتی بنیادوں پر غیر انسان ہونے کا سلوک کیا جاتا تھا، انھیں شرفِ انسانیت سے ہم کنار کرنا ان چار درویشوں اور کامریڈوں کا مسلک رہا۔ یہ کتاب سید جمال بخاری، حیدر بخش جتوئی، مولوی نذیر حسین جتوئی اور سوبھو گیان چندانی کی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ ان چار ہستیوں کے بارے میں مسلم شمیم نے قلم کیوں اٹھایا اور انھیں لاڑکانہ کے چہار درویش کیوں کہا، اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا آدرش، انسانیت دوستی ہے۔
یہ ان لوگوں کا حق انھیں دلانے کے لیے کمر بستہ تھے جو غربت، بھک مری، جہل اور توہم پرستی میں مبتلا تھے۔ یوں تو ہمارے برصغیر کی آبادی کی اکثریت ان ہی بیماریوں میں مبتلا رہی ہے لیکن ان چار درویشوں نے اپنی توجہ سندھ کے ان ہاریوں اور محنت کشوں کی زندگی سنوارنے پر مرکوز کر دی جن کا استحصال کبھی دین کے نام پر ہوا اور کبھی اپنی دھرتی سے ان کی محبت، ان کے لیے سزا بن گئی۔ ان آدرش وادیوں کے بارے میں لکھنے کا سبب بیان کرتے ہوئے مسلم شمیم لکھتے ہیں کہ: 'گزشتہ چند صدیوں سے انسانی سماج ماضی کی بیش تر ظلم و جبر کی زنجیروں کو پاش پاش کرنے کا معرکہ سر کرنے میں مصروف ہے اور دھرتی پر موجود جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ تسلط کی بیخ کنی کرنے کے لیے سرگرداں ہے۔
انقلابِ فرانس 1789ء کے بعد سے روسو اور والٹیر کے افکار و نظریات جمہوری طرزِ احساس کی آبیاری کرتے آئے ہیں اور آزادی مساوات اور اخوت کا حصول آج کے انسان کا آدرش بن چکا ہے۔ انیسویں صدی میں جمہوری انقلابات کا تسلسل کے ساتھ آغاز اور 1848ء میں مارکس اور اینگلز کے کمیونسٹ مینی فیسٹو نے تاریخ انسانی کو جو رخ دیا وہ انسانی خواب ہے اور اُس کی تعبیر انسان کے مستقبل کا مقدر ہے۔'
اس کتاب 'لاڑکانہ کے چہار درویش' کا آدرش، انسان کو ہر قسم کی استحصالی زنجیروں سے نبرد آزمائی اور اُن کی شکست و ریخت کے لیے عَلمِ انقلاب بلند کرنے سے عبارت ہے۔ کتاب کا آغاز کامریڈ جمال بخاری کے ذکر سے ہوتا ہے اور یہ ان کا حق تھا۔ گجرات کے شہر احمد آباد میں 14 مارچ 1900ء میں پیدا ہونے والے جمال بخاری ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے بیسویں صدی میں حریت افکار اور انسانوں کے درمیان مساوات قائم کرنے کی لڑائی نہایت استقامت سے لڑی۔ وہ ان چند نوجوانوں میں سے تھے جنھوں نے انقلاب روس کے فوراً بعد کمر کس کر اس انقلاب کا احوال اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے رختِ سفر باندھا اور چل نکلے۔
کامریڈ بخاری اور ان کے ساتھیوں کے جوش و جذبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پا پیادہ کابل اور مزار شریف سے گزرتے ہوئے سمرقند، تاشقند اور بخارا جیسے تاریخی شہروں کی فضائوں میں سانس لیتے ہوئے اور راستے کی صعوبتیں سہتے ہوئے ماسکو پہنچے۔ وہاں انھوں نے ایک نئے سماج کی تعمیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر 2 برس بعد ہندوستان واپس آئے تا کہ یہاں اُس انقلاب سے ان لوگوں کو روشناس کرا سکیں جس کی یہاں کے ان طبقات کو بے حد ضرورت تھی جن کا استحصال برطانوی حکومت اور اس کو دوام بخشنے کی کوششوں میں مصروف ہندوستانی بیورو کریسی اور ارسٹو کریسی کر رہی تھی۔
ایک ایسے زمانے میں جب ہندوستان کی آزادی کی لڑائی مختلف سیاسی جماعتوں، گروہوں ادیبوں اور دانشوروں کی طرف سے لڑی جا رہی تھی، اس میں کمیونزم کا جھنڈا اٹھا کر شامل ہو جانا ایسے ہی تھا جیسے موت کو دعوت دینا۔ ماسکو سے واپس آنے کے کچھ ہی دنوں بعد انھوں نے سندھ کا رخ کیا اور اپنی ساری زندگی سندھ کو سنوارنے پر صرف کر دی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یہاں جم کر بیٹھ گئے ہوں۔ انھوں نے اپنے سیاسی اور سماجی افکار کے پھیلائو کے لیے ہندوستان بھر کا اور دنیا کے دوسرے ملکوں کا بھی سفر کیا۔ یہ بھی ایک تاریخی اعزاز ہے جو ان کے حصے میں آیا کہ 1900ء میں لاڑکانہ کی آل سندھ خلافت کانفرنس میں وہ شریک ہوئے تو مولانا محمد علی جوہرؔ کی والدہ بی اماں اور مولانا شوکت علی کی رہنمائی انھیں حاصل رہی۔
ہمیں وہ 1925ء میں کراچی سے ایک اخبار 'آزادی' کا اجراء کرتے نظر آتے ہیں اور پھر 1929ء میں اخبار 'چنگاری' بھی انھوں نے ہی نکالا۔ مسلم شمیم نے ایک ایسے کامریڈ کی زندگی سے ہمیں آگاہ کیا ہے جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ لاڑکانہ آیا اور پھر 17 دسمبر 1984ء کو آخری سانس بھی لاڑکانہ میں لی۔ مزدوروں اور ہاریوں کے حقوق کے لیے جنگ انھیں بار بار جیل لے گئی لیکن یہ صعوبتیں ان کے قدم نہ ڈگمگا سکیں۔ انھوں نے ایک نہایت متحرک اور بامقصد زندگی گزاری اور سندھ میں آباد ہونے کا حق ادا کر دیا۔
اسی طرح ہاری تحریک کے کامریڈ حیدر بخش جتوئی ہیں جو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور جنھوں نے اعلیٰ سرکاری منصب سے استعفیٰ دے کر ہاری کمیٹی کو یوں اپنایا کہ سندھ کے جاگیردارانہ ایوانِ اقتدار میں ہلچل مچ گئی۔ مسلم شمیم نے بالکل درست لکھا ہے کہ: 'سندھ ہاری کمیٹی نے سندھ کے ہاریوں کے حقوق کی جدوجہد کے ساتھ اُن کو اپنے حقوق اور حیثیت کا انقلابی شعور بھی بخشا اور اُن میں زندگی کی نئی رمق پیدا کی۔ سندھ ہاری کمیٹی، جو ہاریوں کے حقوق کی تحریک تھی، جلد ہی ہاریوں کی سیاسی جماعت بن گئی، کیونکہ اقتصادی حقوق کی جنگ سیاسی حقوق کی جنگ کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہے۔'
کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی طرح مسلم شمیم نے کامریڈ مولوی نذیر حسین جتوئی کی زندگی اور ان کی اشتراکی جدوجہد کا بھی احاطہ کیا ہے۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ جمال الدین بخاری 1900ء میں پیدا ہوئے، حیدر بخش جتوئی کی تاریخ پیدائش 1901ء اور نذیر حسین جتوئی کی 1903ء ہے۔ اس کے کچھ ہی برسوں بعد سوبھو گیان چندانی پیدا ہوئے۔ ان لوگوں کی جنم بھومی سندھ اور ان کی پیدائش اور ذہنی ساخت و پرداخت بیسویں صدی کا وہ زمانہ ہے جب برصغیر ایک عظیم ابھار سے گزر رہا تھا۔ کامریڈ مولوی نذیر حسین جتوئی انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ رہے، پھر ہاری تحریک سے وابستہ ہوئے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اشتراکیت ان کا اوڑھنا بچھونا نہ بن جائے۔
انھوں نے ہاریوں کے حقوق کی جدوجہد کے ساتھ ہی شاعری بھی کی اور بقول مسلم شمیم اس میں کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کا پرچار کیا۔ انسان دوستی اور انسان پرستی سے جڑے ہوئے مولوی نذیر حسین جتوئی کی زندگی کی تصویر کشی مسلم شمیم نے بہت مہارت سے کی ہے اور اس میں لاڑکانہ سے اپنی وابستگی اور آدرش وادی سیاست کا حصہ بن جانے کے مرحلوں کو بھی بیان کیا ہے۔ اسی طرح لاڑکانہ کی خاک سے اٹھنے والے کامریڈ سوبھو گیان چندانی کی سیاسی جدوجہد اور ان کے علمی و ادبی سرمائے کے بارے میں بھی بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اور اس سلسلے میں سید مظہر جمیل کی ضخیم کتاب ''سوبھو گیان چندانی: شخصیت اور فن'' سے مختلف حوالے بھی دیے ہیں۔
اس کتاب کے اختتام پر یوں تو صوفی شاہ عنایت شہید اور سندھ ہاری تحریک کا تذکرہ بھی تبرک کے طور پر موجود ہے لیکن سچ یہ ہے کہ مسلم شمیم جن کی ذہنی، سیاسی، علمی اور ادبی تربیت لاڑکانہ کے ان درویشوں کے سائے میں ہوئی۔ وہ بجا طور پر اس شہر کو اپنی گیان بھومی اور پریم بھومی کہتے ہیں، انھوں نے اس محبت اور عقیدت کا حق ادا کر دیا ہے۔ آدرش وادی سیاست کا جو چراغ ان اکابرین نے سندھ میں روشن کیا، وہ آج بھی شان سے جلتا ہے اور اسی کی روشنی میں وہ دن ضرور آئے گا جب شاہ عنایت شہید کا نعرہ 'جو کھیڑے سو کھائے' حقیقت میں بدل جائے گا۔
اس کلاسیکی داستان سے شمیم بھائی کی اس تازہ کتاب کا کوئی تعلق نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ لاڑکانہ کے جن چار درویشوں کا انھوں نے ذکر کیا ہے ان کے نظریے کا چراغ مخالفت کی آندھی میں بھی روشن رہا اور انھوں نے اپنی زندگیاں سماج کو بدلنے پر صرف کر دیں۔ وہ انسان جن سے طبقاتی بنیادوں پر غیر انسان ہونے کا سلوک کیا جاتا تھا، انھیں شرفِ انسانیت سے ہم کنار کرنا ان چار درویشوں اور کامریڈوں کا مسلک رہا۔ یہ کتاب سید جمال بخاری، حیدر بخش جتوئی، مولوی نذیر حسین جتوئی اور سوبھو گیان چندانی کی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ ان چار ہستیوں کے بارے میں مسلم شمیم نے قلم کیوں اٹھایا اور انھیں لاڑکانہ کے چہار درویش کیوں کہا، اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا آدرش، انسانیت دوستی ہے۔
یہ ان لوگوں کا حق انھیں دلانے کے لیے کمر بستہ تھے جو غربت، بھک مری، جہل اور توہم پرستی میں مبتلا تھے۔ یوں تو ہمارے برصغیر کی آبادی کی اکثریت ان ہی بیماریوں میں مبتلا رہی ہے لیکن ان چار درویشوں نے اپنی توجہ سندھ کے ان ہاریوں اور محنت کشوں کی زندگی سنوارنے پر مرکوز کر دی جن کا استحصال کبھی دین کے نام پر ہوا اور کبھی اپنی دھرتی سے ان کی محبت، ان کے لیے سزا بن گئی۔ ان آدرش وادیوں کے بارے میں لکھنے کا سبب بیان کرتے ہوئے مسلم شمیم لکھتے ہیں کہ: 'گزشتہ چند صدیوں سے انسانی سماج ماضی کی بیش تر ظلم و جبر کی زنجیروں کو پاش پاش کرنے کا معرکہ سر کرنے میں مصروف ہے اور دھرتی پر موجود جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ تسلط کی بیخ کنی کرنے کے لیے سرگرداں ہے۔
انقلابِ فرانس 1789ء کے بعد سے روسو اور والٹیر کے افکار و نظریات جمہوری طرزِ احساس کی آبیاری کرتے آئے ہیں اور آزادی مساوات اور اخوت کا حصول آج کے انسان کا آدرش بن چکا ہے۔ انیسویں صدی میں جمہوری انقلابات کا تسلسل کے ساتھ آغاز اور 1848ء میں مارکس اور اینگلز کے کمیونسٹ مینی فیسٹو نے تاریخ انسانی کو جو رخ دیا وہ انسانی خواب ہے اور اُس کی تعبیر انسان کے مستقبل کا مقدر ہے۔'
اس کتاب 'لاڑکانہ کے چہار درویش' کا آدرش، انسان کو ہر قسم کی استحصالی زنجیروں سے نبرد آزمائی اور اُن کی شکست و ریخت کے لیے عَلمِ انقلاب بلند کرنے سے عبارت ہے۔ کتاب کا آغاز کامریڈ جمال بخاری کے ذکر سے ہوتا ہے اور یہ ان کا حق تھا۔ گجرات کے شہر احمد آباد میں 14 مارچ 1900ء میں پیدا ہونے والے جمال بخاری ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے بیسویں صدی میں حریت افکار اور انسانوں کے درمیان مساوات قائم کرنے کی لڑائی نہایت استقامت سے لڑی۔ وہ ان چند نوجوانوں میں سے تھے جنھوں نے انقلاب روس کے فوراً بعد کمر کس کر اس انقلاب کا احوال اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے رختِ سفر باندھا اور چل نکلے۔
کامریڈ بخاری اور ان کے ساتھیوں کے جوش و جذبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پا پیادہ کابل اور مزار شریف سے گزرتے ہوئے سمرقند، تاشقند اور بخارا جیسے تاریخی شہروں کی فضائوں میں سانس لیتے ہوئے اور راستے کی صعوبتیں سہتے ہوئے ماسکو پہنچے۔ وہاں انھوں نے ایک نئے سماج کی تعمیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر 2 برس بعد ہندوستان واپس آئے تا کہ یہاں اُس انقلاب سے ان لوگوں کو روشناس کرا سکیں جس کی یہاں کے ان طبقات کو بے حد ضرورت تھی جن کا استحصال برطانوی حکومت اور اس کو دوام بخشنے کی کوششوں میں مصروف ہندوستانی بیورو کریسی اور ارسٹو کریسی کر رہی تھی۔
ایک ایسے زمانے میں جب ہندوستان کی آزادی کی لڑائی مختلف سیاسی جماعتوں، گروہوں ادیبوں اور دانشوروں کی طرف سے لڑی جا رہی تھی، اس میں کمیونزم کا جھنڈا اٹھا کر شامل ہو جانا ایسے ہی تھا جیسے موت کو دعوت دینا۔ ماسکو سے واپس آنے کے کچھ ہی دنوں بعد انھوں نے سندھ کا رخ کیا اور اپنی ساری زندگی سندھ کو سنوارنے پر صرف کر دی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یہاں جم کر بیٹھ گئے ہوں۔ انھوں نے اپنے سیاسی اور سماجی افکار کے پھیلائو کے لیے ہندوستان بھر کا اور دنیا کے دوسرے ملکوں کا بھی سفر کیا۔ یہ بھی ایک تاریخی اعزاز ہے جو ان کے حصے میں آیا کہ 1900ء میں لاڑکانہ کی آل سندھ خلافت کانفرنس میں وہ شریک ہوئے تو مولانا محمد علی جوہرؔ کی والدہ بی اماں اور مولانا شوکت علی کی رہنمائی انھیں حاصل رہی۔
ہمیں وہ 1925ء میں کراچی سے ایک اخبار 'آزادی' کا اجراء کرتے نظر آتے ہیں اور پھر 1929ء میں اخبار 'چنگاری' بھی انھوں نے ہی نکالا۔ مسلم شمیم نے ایک ایسے کامریڈ کی زندگی سے ہمیں آگاہ کیا ہے جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ لاڑکانہ آیا اور پھر 17 دسمبر 1984ء کو آخری سانس بھی لاڑکانہ میں لی۔ مزدوروں اور ہاریوں کے حقوق کے لیے جنگ انھیں بار بار جیل لے گئی لیکن یہ صعوبتیں ان کے قدم نہ ڈگمگا سکیں۔ انھوں نے ایک نہایت متحرک اور بامقصد زندگی گزاری اور سندھ میں آباد ہونے کا حق ادا کر دیا۔
اسی طرح ہاری تحریک کے کامریڈ حیدر بخش جتوئی ہیں جو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور جنھوں نے اعلیٰ سرکاری منصب سے استعفیٰ دے کر ہاری کمیٹی کو یوں اپنایا کہ سندھ کے جاگیردارانہ ایوانِ اقتدار میں ہلچل مچ گئی۔ مسلم شمیم نے بالکل درست لکھا ہے کہ: 'سندھ ہاری کمیٹی نے سندھ کے ہاریوں کے حقوق کی جدوجہد کے ساتھ اُن کو اپنے حقوق اور حیثیت کا انقلابی شعور بھی بخشا اور اُن میں زندگی کی نئی رمق پیدا کی۔ سندھ ہاری کمیٹی، جو ہاریوں کے حقوق کی تحریک تھی، جلد ہی ہاریوں کی سیاسی جماعت بن گئی، کیونکہ اقتصادی حقوق کی جنگ سیاسی حقوق کی جنگ کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہے۔'
کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی طرح مسلم شمیم نے کامریڈ مولوی نذیر حسین جتوئی کی زندگی اور ان کی اشتراکی جدوجہد کا بھی احاطہ کیا ہے۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ جمال الدین بخاری 1900ء میں پیدا ہوئے، حیدر بخش جتوئی کی تاریخ پیدائش 1901ء اور نذیر حسین جتوئی کی 1903ء ہے۔ اس کے کچھ ہی برسوں بعد سوبھو گیان چندانی پیدا ہوئے۔ ان لوگوں کی جنم بھومی سندھ اور ان کی پیدائش اور ذہنی ساخت و پرداخت بیسویں صدی کا وہ زمانہ ہے جب برصغیر ایک عظیم ابھار سے گزر رہا تھا۔ کامریڈ مولوی نذیر حسین جتوئی انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ رہے، پھر ہاری تحریک سے وابستہ ہوئے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اشتراکیت ان کا اوڑھنا بچھونا نہ بن جائے۔
انھوں نے ہاریوں کے حقوق کی جدوجہد کے ساتھ ہی شاعری بھی کی اور بقول مسلم شمیم اس میں کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کا پرچار کیا۔ انسان دوستی اور انسان پرستی سے جڑے ہوئے مولوی نذیر حسین جتوئی کی زندگی کی تصویر کشی مسلم شمیم نے بہت مہارت سے کی ہے اور اس میں لاڑکانہ سے اپنی وابستگی اور آدرش وادی سیاست کا حصہ بن جانے کے مرحلوں کو بھی بیان کیا ہے۔ اسی طرح لاڑکانہ کی خاک سے اٹھنے والے کامریڈ سوبھو گیان چندانی کی سیاسی جدوجہد اور ان کے علمی و ادبی سرمائے کے بارے میں بھی بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اور اس سلسلے میں سید مظہر جمیل کی ضخیم کتاب ''سوبھو گیان چندانی: شخصیت اور فن'' سے مختلف حوالے بھی دیے ہیں۔
اس کتاب کے اختتام پر یوں تو صوفی شاہ عنایت شہید اور سندھ ہاری تحریک کا تذکرہ بھی تبرک کے طور پر موجود ہے لیکن سچ یہ ہے کہ مسلم شمیم جن کی ذہنی، سیاسی، علمی اور ادبی تربیت لاڑکانہ کے ان درویشوں کے سائے میں ہوئی۔ وہ بجا طور پر اس شہر کو اپنی گیان بھومی اور پریم بھومی کہتے ہیں، انھوں نے اس محبت اور عقیدت کا حق ادا کر دیا ہے۔ آدرش وادی سیاست کا جو چراغ ان اکابرین نے سندھ میں روشن کیا، وہ آج بھی شان سے جلتا ہے اور اسی کی روشنی میں وہ دن ضرور آئے گا جب شاہ عنایت شہید کا نعرہ 'جو کھیڑے سو کھائے' حقیقت میں بدل جائے گا۔