ورلڈ کپ 2015 میں عامر کی شرکت کا خواب پورا نہیں ہوگا

انٹر نیشنل مقابلوں کا حصہ بننے کے لئے پیسر کو بہر صورت 5سالہ پابندی کی سزا پوری کرنا پڑے گی، سبحان احمد

محمد عامر پر اسپاٹ فکسنگ کیس میں5 سال کے لئے کرکٹ کے دروازے بند کردئیے تھے۔۔ فوٹو : آن لائن

لاہور:
محمد عامر کا ورلڈ کپ 2015 میں شرکت کا خواب پورا نہیں ہوسکے، آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ میں تبدیلی کی کوشش کامیاب ہوگئی تب بھی ایک سال کیلیے صرف فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے گا۔پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کے مطابق انٹر نیشنل مقابلوں کا حصہ بننے کیلیے پیسر کو بہر صورت 5سالہ پابندی کی سزا پوری کرنا پڑے گی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ کے باصلاحیت بولرز میں سے ایک محمد عامر کو مستقبل کا وسیم اکرم قرار دیا جارہا تھا لیکن انکے کیرئیرکو جس افسوسناک انداز میں بریک لگا، اس نے شائقین کو مایوس کردیا لیکن جمعے کو پریس کانفرنس میں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے دعوی کیا کہ اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں، پیسر پر کرکٹ کے دروازے جلد کھلنے کا امکان ہے،ان کا کہنا تھا کہ دبئی میں آئی سی سی اجلاس کے دوران محمد عامر کے کیس پر بات ہوئی، پاکستان کی درخواست پر قائم کی جانے والی کمیٹی معاملے کا جائزہ لے کر جون میں اینٹی کرپشن قانون میں ترمیم کرے گی جسکے بعد فاسٹ بولر کی سزا میں ایک سال کی کمی کردی جائیگی۔یاد رہے کہ محمد عامر اگست 2010میں محمد آصف اور سلمان بٹ کیساتھ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی زد میں آئے جس پرآئی سی سی نے ان پر 5 سال کیلیے کرکٹ کے دروازے بند کردئیے تھے۔


چیئرمین نجم سیٹھی کے خصوصی دلچسپی لینے پر پی سی بی نے اپنے قانونی ماہرین کی مشاورت سے موقف اختیار کیا تھا کہ محمد عامر کم عمری کی وجہ سے گمراہ ہوگئے تھے،انھوں نے اعتراف جرم کے بعد اینٹی کرپشن یونٹ سے تعاون کرتے ہوئے معلومات بھی فراہم کیں تاکہ آئندہ فکسنگ کا سد باب کرنے میں مدد مل سکے، پیسر کو رعایت ملنی چاہیے،آئی سی سی نے پاکستان کی درخواست پر ایک کمیٹی قائم کردی تھی جس کا مقصد تمام سزا یافتہ پلیئرز کے انفرادی کیسز کو سامنے رکھتے ہوئے قانونی ترامیم کی گنجائش نکالنا ہے، نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ اب اس ضمن میں خاصی پیشرفت ہوچکی اور جون میں اینٹی کرپشن کوڈ میں ترمیم کے بعد ایک سال کی رعایت محمد عامر کی واپسی کیلیے راستہ کھول دیگی۔

انھوں نے پیسر کی وکالت کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ کم عمری میں ہونیوالی چھوٹی سی غلطی کی معافی ملنا چاہیے،ان کی بڑی کرکٹ باقی ہے، اگر بحال ہوگئے تو یقینی طور پر قومی ٹیم میں شامل ہونگے۔نجم سیٹھی کے اس دعویٰ سے ظاہر ہوا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میدانوں سے 4سالہ دوری کے بعد محمد عامرکو اپنی بائیسویں سالگرہ سے 2 روز قبل ہی بہت بڑی خوشخبری مل گئی، تاہم حقائق تھوڑے مختلف ہیں، پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسرسبحان احمد کے بیان سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوڈ میں ترمیم کے بعد رعایت ملنے پر بھی پیسر صرف فرسٹ کلاس کرکٹ ہی کھیل پائیں گے۔

ایک خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ اگر آئی سی سی نے محمد عامر کی پابندی میں رعایت دیدی تو ان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بھی سزا کے 5سال پورے ہونے سے قبل ہی کھل جائیں گے۔ سبحان احمد کی طرف سے صورتحال واضح کیے جانے کے بعد اس بات کا کوئی امکان باقی نہیں رہا کہ فروری 2015 میں شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کو نوجوان فاسٹ بولر کی خدمات دستیاب ہونگی۔ یاد رہے کہ آئی سی سی کی طرف سے پابندی کے بعد کوئی کرکٹر ڈومیسٹک کرکٹ، یہاں تک کہ پی سی بی کے تحت رجسٹرڈ کسی کلب کی طرف سے بھی کھیلنے کا مجاز نہیں رہتا،اگر محمد عامر کو رعایت مل بھی گئی تو پیسر ایک سال تک ملکی سطح کے مقابلوں میں فارم اور فٹنس بحال کرنے پر کام ہی کرسکیں گے۔
Load Next Story