منڈی سڑے پھل اور سبزی کے ڈھیر میں تبدیل وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ
بارشوں کے بعد سبزی منڈی کا انفرااسٹرکچر تباہ،تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا۔
مارکیٹ کمیٹی کے پاس 40کروڑ روپے سے زائدکا فنڈ ہے، کوئی سہولت نہیں دی گئی ،سبزی منڈی کی بقاکے لیے عدالت سے رجوع کرینگے، حاجی عبدالرزاق, فوٹو: فائل
متعلقہ ذمے دار کمیٹی کی عدم دلچسپی کے باعث سپرہائی وے سبزی وفروٹ منڈی حالیہ بارشوں کے بعد کچراکنڈی کا منظر پیش کررہی ہے۔
جس سے وبائی امراض پھیلنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں،یہ بات آل ویجیٹیبل تاجربرادری الائنس کے چیئرمین اور ممبرمارکیٹ کمیٹی حاجی عبدالرزاق شاہ کی صدارت میں ہفتہ کو منعقد ہونے والے اجلاس کے دوران کہی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ12سال قبل قائم ہونیوالی سبزی منڈی تاحال بنیادی سہولیات سے محروم ہے جبکہ45فیصد سڑکوں کی تعمیرنہ ہونے کے سبب حالیہ بارشوںکے بعد سبزی منڈی کا انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے سبزی منڈی کے بیوپاریوں اور زمینداروں کے مسائل میں مزیداضافہ ہوگیا۔
متعلقہ ذمے دار کمیٹی کی منڈی کے ترقیاتی امور اورصفائی ستھرائی کے معاملات میں عدم دلچسپی سے سبزی منڈی کے بیوپاری مایوسی سے دوچار ہوگئے ہیں جنہوں یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایشیا کی اس بڑی سبزی وفروٹ منڈی کی بقا کیلیے عدالت سے رجوع کریں گے،حاجی عبدالرزاق نے بتایا کہ مارکیٹ کمیٹی کے پاس 40کروڑ روپے سے زائد کا فنڈ موجود ہے۔
لیکن اس فنڈ کو منڈی کے ترقیاتی کام اورصفائی پر خرچ کرنے سے گریز کیا جارہا ہے،طویل عرصے سے یکطرفہ بنیادوں پر فیصلے کیے جارہے ہیں، یکطرفہ طور پرفی مزدا ٹرک کی انٹری فیس75 روپے سے بڑھاکر200 روپے جبکہ بھاری ٹرکوںکی انٹری فیس150روپے سے بڑھاکر450 روپے کردی گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ سبزی وفروٹ منڈی میں اوسطاً یومیہ 1250 مال بردارٹرکوںکی آمدورفت ہوتی ہے جن سے مارکیٹ کمیٹی انٹری فیس کی مد میں لاکھوں روپے وصول کرتی ہے اسی طرح بیوپاریوں سے لائسنس و دیگر اقسام کی فیس بھی باقاعدگی کے ساتھ وصول کی جارہی ہے لیکن اس کے باوجودمنڈی کا انفرااسٹرکچر تباہی کی جانب گامزن ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ منڈی میںتاحال پانی دستیاب نہیںہے جس کی وجہ سے بیوپاری 1500روپے فی ٹینکرکے حساب سے اپنی مدد آپ کے تحت پانی خریدنے پرمجبور ہیں ،گیس کنکشن بھی فراہم نہیں کیے گئے ہیں اور نہ بیوپاریوں اور آڑھتیوں کو براہ راست بجلی کے کنکشنز دیے گئے ہیں بلکہ مارکیٹ کمیٹی فی بیوپاری سے ایک بلب اور ایک پنکھا چلانے کی مد میں ماہوار2000 روپے بجلی کے بل کی مد میں وصول کررہی ہے۔
اجلاس کے شرکا نے مارکیٹ کمیٹی میں زمینداروں اور بیوپاریوں کی نمائندگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ منڈی کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز اور حقیقی زمیندار اس سلسلے میں بھی عدالت سے رجوع کریں گے تاکہ مختلف فیسوں، ٹھیکوں اور انٹری پاس کے عوض سالانہ کروڑوں روپے مالیت کی وصول شدہ ریونیو کو منڈی کی ترقی پر خرچ کیا جاسکے گا، اجلاس سے حاجی بہرام خان ودیگر نے بھی خطاب کیا۔
جس سے وبائی امراض پھیلنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں،یہ بات آل ویجیٹیبل تاجربرادری الائنس کے چیئرمین اور ممبرمارکیٹ کمیٹی حاجی عبدالرزاق شاہ کی صدارت میں ہفتہ کو منعقد ہونے والے اجلاس کے دوران کہی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ12سال قبل قائم ہونیوالی سبزی منڈی تاحال بنیادی سہولیات سے محروم ہے جبکہ45فیصد سڑکوں کی تعمیرنہ ہونے کے سبب حالیہ بارشوںکے بعد سبزی منڈی کا انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے سبزی منڈی کے بیوپاریوں اور زمینداروں کے مسائل میں مزیداضافہ ہوگیا۔
متعلقہ ذمے دار کمیٹی کی منڈی کے ترقیاتی امور اورصفائی ستھرائی کے معاملات میں عدم دلچسپی سے سبزی منڈی کے بیوپاری مایوسی سے دوچار ہوگئے ہیں جنہوں یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایشیا کی اس بڑی سبزی وفروٹ منڈی کی بقا کیلیے عدالت سے رجوع کریں گے،حاجی عبدالرزاق نے بتایا کہ مارکیٹ کمیٹی کے پاس 40کروڑ روپے سے زائد کا فنڈ موجود ہے۔
لیکن اس فنڈ کو منڈی کے ترقیاتی کام اورصفائی پر خرچ کرنے سے گریز کیا جارہا ہے،طویل عرصے سے یکطرفہ بنیادوں پر فیصلے کیے جارہے ہیں، یکطرفہ طور پرفی مزدا ٹرک کی انٹری فیس75 روپے سے بڑھاکر200 روپے جبکہ بھاری ٹرکوںکی انٹری فیس150روپے سے بڑھاکر450 روپے کردی گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ سبزی وفروٹ منڈی میں اوسطاً یومیہ 1250 مال بردارٹرکوںکی آمدورفت ہوتی ہے جن سے مارکیٹ کمیٹی انٹری فیس کی مد میں لاکھوں روپے وصول کرتی ہے اسی طرح بیوپاریوں سے لائسنس و دیگر اقسام کی فیس بھی باقاعدگی کے ساتھ وصول کی جارہی ہے لیکن اس کے باوجودمنڈی کا انفرااسٹرکچر تباہی کی جانب گامزن ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ منڈی میںتاحال پانی دستیاب نہیںہے جس کی وجہ سے بیوپاری 1500روپے فی ٹینکرکے حساب سے اپنی مدد آپ کے تحت پانی خریدنے پرمجبور ہیں ،گیس کنکشن بھی فراہم نہیں کیے گئے ہیں اور نہ بیوپاریوں اور آڑھتیوں کو براہ راست بجلی کے کنکشنز دیے گئے ہیں بلکہ مارکیٹ کمیٹی فی بیوپاری سے ایک بلب اور ایک پنکھا چلانے کی مد میں ماہوار2000 روپے بجلی کے بل کی مد میں وصول کررہی ہے۔
اجلاس کے شرکا نے مارکیٹ کمیٹی میں زمینداروں اور بیوپاریوں کی نمائندگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ منڈی کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز اور حقیقی زمیندار اس سلسلے میں بھی عدالت سے رجوع کریں گے تاکہ مختلف فیسوں، ٹھیکوں اور انٹری پاس کے عوض سالانہ کروڑوں روپے مالیت کی وصول شدہ ریونیو کو منڈی کی ترقی پر خرچ کیا جاسکے گا، اجلاس سے حاجی بہرام خان ودیگر نے بھی خطاب کیا۔