خواتین کیلیے جنسی ہراسگی سے محفوظ ماحول بنایا ہے نادرا
انسداد ہراساں پالیسی پر عملدرآمد کیا جارہا ہے اور انسداد کی کمیٹی بھی فعال ہے
نادرا نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے روزگار کے یکساں مواقع فراہم کیے،ترجمان فوٹو: فائل
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) نے ہمیشہ خواتین کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور انھیں بااختیار بنانے کے لیے کوششیں کی ہیں۔
نادرا ترجمان کے مطابق نادرا نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے انھیں روزگار کے یکساں مواقع فراہم کیے ہیں، نادرا میں اس وقت 2000 سے زائد خواتین کام کررہی ہیں جو مجموعی ملازمین کا 13 فیصد ہیں۔
جبکہ حکومتی کوٹہ اس حوالے سے 10 فیصد ہے، ترجمان نے کہا کہ چیئرمین نادرا خواتین کو باوقار ملازمت کا ماحول فراہم کرنے کے لیے کمربستہ ہیں اور اس کے لیے قانون پر سختی سے عمل در آمد کو یقینی بنارہے ہیں۔
پراٹیکشن ایگینسٹ ہریسمنٹ آف ویمن ایکٹ 2010 حکومت پاکستان کا منظور کردہ ہے، نادرا نے جنسی ہراساں سے متعلق حکومتی قانون کے نفاذ سے خواتین کیلیے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔
نادرا ترجمان کے مطابق نادرا نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے انھیں روزگار کے یکساں مواقع فراہم کیے ہیں، نادرا میں اس وقت 2000 سے زائد خواتین کام کررہی ہیں جو مجموعی ملازمین کا 13 فیصد ہیں۔
جبکہ حکومتی کوٹہ اس حوالے سے 10 فیصد ہے، ترجمان نے کہا کہ چیئرمین نادرا خواتین کو باوقار ملازمت کا ماحول فراہم کرنے کے لیے کمربستہ ہیں اور اس کے لیے قانون پر سختی سے عمل در آمد کو یقینی بنارہے ہیں۔
پراٹیکشن ایگینسٹ ہریسمنٹ آف ویمن ایکٹ 2010 حکومت پاکستان کا منظور کردہ ہے، نادرا نے جنسی ہراساں سے متعلق حکومتی قانون کے نفاذ سے خواتین کیلیے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔