ایران امریکا نئی کشیدگی
امریکا اور ایران کے مابین تین عشروں سے زائد جاری کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا...
امریکا اور ایران کے مابین تین عشروں سے زائد جاری کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا. فوٹو:فائل
امریکا کی طرف سے اقوام متحدہ کے لیے ایران کے نامزد کردہ سفارتی نمایندے کو ویزہ دینے سے انکار سے امریکا اور ایران کے مابین تین عشروں سے زاید جاری کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران میں 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد تہران کے امریکی سفارتخانے پر قبضے اور امریکا کے سفارتی عملے کو یرغمال بنانے والوں میں حامد ابوطالبی بھی شامل تھے جنھیں ایران نے اقوام متحدہ کے لیے اپنا سفارتی نمایندہ نامزد کیا ہے اور یہ کہ ابوطالبی کا نام امریکی کانگریس نے مسترد کیا ہے۔ امریکا اور ایران کی کشیدگی ایرانی انقلاب کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی حتیٰ کہ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات بھی منقطع ہو گئے تھے۔
بعد ازاں امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام پر اعتراضات کرتے ہوئے ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید کر دیں حالانکہ ایران کا اصرار تھا کہ اس کا جوہری پروگرام کلیتہً پر امن مقاصد کے لیے ہے اور یہ کہ اس کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا ہر گز کوئی ارادہ نہیں۔ حالیہ عرصے میں ایران کی طرف سے شام کی بشار الاسد حکومت حمایت سے بھی امریکا کی ناراضی میں مزید اضافہ ہوا جسے امریکا مبینہ طور پر القاعدہ کے جنگجووں کی مدد سے گرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور اب ایران کے سینئر سفارتکار حامد ابوطالبی کی اقوام متحدہ میں اپنے مستقل مندوب کے طور پر نامزدگی امریکا کی مزید خفگی کا باعث بن گئی ہے۔ ایران نے امریکا کے اس طرز عمل پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اقوام متحدہ کے لیے نامزد کردہ ایرانی سفیر کو مسترد کرنے کا حق حاصل نہیں کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر عباس آراغچی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں ایران کی نمایندگی کے لیے جس سفارتی افسر کو نامزد کیا گیا ہے وہ ہمارے انتہائی ذمے دار اور قابل احترام سفارتکار ہیں۔ واضح رہے کہ ابوطالبی تین دیگر ممالک کے علاوہ یورپی یونین میں بھی ایران کے سفیر رہ چکے ہیں۔ ایران نے مزید کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے لیے نامزد ایرانی سفارتکار کو قبول کرنے سے امریکا کا انکار بین الاقوامی پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے قانونی ضابطے کی مدد سے اپنا موقف ثابت کرے گا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر جلد اپنی ایڈوائس دیں گے اور باضابطہ بیان جاری کریں گے۔ ایران کے ساتھ امریکا کے تنازعے کے باعث امریکا نے ایران پر کئی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں جن کی وجہ سے امریکا نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے میں بھی رکاوٹ ڈال رکھی ہے حالانکہ اس پائپ لائن کی تکمیل سے پاکستان کی توانائی کی مشکلات میں بہت حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
امریکا کو ایران کے جوہری پروگرام پر بھی اعتراض ہے جس کے لیے ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور یہ کہ اس کا ایٹم بم بنانے کا قطعا ً کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مزید براں امریکا کو شام کی بشار الاسد حکومت سے ایران کی ہمدردی پر بھی خفگی ہے حالانکہ خود امریکا شام میں القاعدہ کے جنگجووں کی دامے درمے اور سخنے مدد کر رہا ہے ۔دوسری طرف وہ انھی کے خلاف دہشت گردی کی عالمی جنگ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بہر حال گزشتہ دنوں ایران امریکا اور یورپ کے درمیان جو خوشگوار تعلقات کی باتیں منظر عام پر آئی تھیں'اب ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ امریکا کو اس معاملے میں اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
بعد ازاں امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام پر اعتراضات کرتے ہوئے ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید کر دیں حالانکہ ایران کا اصرار تھا کہ اس کا جوہری پروگرام کلیتہً پر امن مقاصد کے لیے ہے اور یہ کہ اس کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا ہر گز کوئی ارادہ نہیں۔ حالیہ عرصے میں ایران کی طرف سے شام کی بشار الاسد حکومت حمایت سے بھی امریکا کی ناراضی میں مزید اضافہ ہوا جسے امریکا مبینہ طور پر القاعدہ کے جنگجووں کی مدد سے گرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور اب ایران کے سینئر سفارتکار حامد ابوطالبی کی اقوام متحدہ میں اپنے مستقل مندوب کے طور پر نامزدگی امریکا کی مزید خفگی کا باعث بن گئی ہے۔ ایران نے امریکا کے اس طرز عمل پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اقوام متحدہ کے لیے نامزد کردہ ایرانی سفیر کو مسترد کرنے کا حق حاصل نہیں کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر عباس آراغچی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں ایران کی نمایندگی کے لیے جس سفارتی افسر کو نامزد کیا گیا ہے وہ ہمارے انتہائی ذمے دار اور قابل احترام سفارتکار ہیں۔ واضح رہے کہ ابوطالبی تین دیگر ممالک کے علاوہ یورپی یونین میں بھی ایران کے سفیر رہ چکے ہیں۔ ایران نے مزید کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے لیے نامزد ایرانی سفارتکار کو قبول کرنے سے امریکا کا انکار بین الاقوامی پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے قانونی ضابطے کی مدد سے اپنا موقف ثابت کرے گا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر جلد اپنی ایڈوائس دیں گے اور باضابطہ بیان جاری کریں گے۔ ایران کے ساتھ امریکا کے تنازعے کے باعث امریکا نے ایران پر کئی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں جن کی وجہ سے امریکا نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے میں بھی رکاوٹ ڈال رکھی ہے حالانکہ اس پائپ لائن کی تکمیل سے پاکستان کی توانائی کی مشکلات میں بہت حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
امریکا کو ایران کے جوہری پروگرام پر بھی اعتراض ہے جس کے لیے ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور یہ کہ اس کا ایٹم بم بنانے کا قطعا ً کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مزید براں امریکا کو شام کی بشار الاسد حکومت سے ایران کی ہمدردی پر بھی خفگی ہے حالانکہ خود امریکا شام میں القاعدہ کے جنگجووں کی دامے درمے اور سخنے مدد کر رہا ہے ۔دوسری طرف وہ انھی کے خلاف دہشت گردی کی عالمی جنگ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بہر حال گزشتہ دنوں ایران امریکا اور یورپ کے درمیان جو خوشگوار تعلقات کی باتیں منظر عام پر آئی تھیں'اب ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ امریکا کو اس معاملے میں اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔