پیپلز پارٹی کی نئی سیاست

بلاول زرداری جو کچھ کہتے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی اجازت اور مرضی سے ہی کہتے ہیں ۔۔۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی 2018 میں سیاست شروع کرے گی جب عام انتخابات کا موقع آئے گا البتہ پی پی تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہے گی اور حکومت کو مدت پوری کرنے دے گی۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی کہا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیابی حاصل کرکے اپنا وزیر اعظم منتخب کرائے گی۔ ان دونوں رہنماؤں کے بیانات سے لگتا ہے کہ پی پی 2018 تک حکومت کے لیے کوئی مسئلہ پیدا کرنے کے موڈ میں نہیں ہے اور عام انتخابات کا انتظار کرنا چاہتی ہے اور اس دوران پارٹی کو ملک بھر میں منظم کیا جائے گا تاکہ آیندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاسکے اور یہ پیپلز پارٹی کی اچھی اور مثبت سوچ ہے۔

2008 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے پی پی حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد تقریباً ساڑھے چار سال ایسے ہی گزارے تھے جیسے پیپلز پارٹی نے (ن) لیگ کی حکومت میں دس ماہ گزارے ہیں۔ پی پی حکومت میں آصف علی زرداری صدر مملکت تھے تو میاں نواز شریف بھی اسمبلی سے باہر تھے اور چوہدری نثار علی خان اپوزیشن لیڈر بن کر تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے تھے جب کہ میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے صدر زرداری کے خلاف انتہائی سخت تقریریں کرتے تھے جب کہ نواز شریف کے بیانات اور تقاریر بھی متوازن ایسی ہی ہوتی تھیں جیسے آج کل سابق صدر آصف علی زرداری کی ہیں، البتہ آج کل پی پی کے نوجوان سرپرست بلاول بھٹو زرداری کسی پالیسی کے تحت ہی وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی حکومتی پالیسیوں کے خلاف سخت جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی چار اپریل کی تقریر کا جواب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے دیا تو سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن کیسے پیچھے رہتے۔

انھوں نے رانا ثنا اللہ کے بلاول کے متعلق بیان کا جواب شریف برادران پر تنقید کرکے دیا اور اپنے سرپرست کے سامنے سرخ رو تو ہوئے مگر اسی روز وزیر اعظم نواز شریف اور آصف علی زرداری نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں کو ایک دوسرے کی پارٹی پر تنقید سے روک دیا جس سے معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا اور دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کو نمبر بڑھانے کا موقع نہ مل سکا۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 35 ویں برسی کی تقریب میں بلاول بھٹو زرداری ہی نہیں بلکہ سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن سمیت دیگر رہنما بھی حکومت پر بہت برسے اور پی پی حکومت میں اپنی سیاسی مصلحت کے باعث 5 سال خاموش رہنے والے چوہدری اعتزاز احسن نے حکومت کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ حکومت پر مال بنانے کی کرپشن کا سنگین الزام بھی عاید کیا۔ نوڈیرو کے جلسے میں لگائے گئے الزامات کے جواب میں وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے بلاول بھٹو زرداری کو بچہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلاول اور پی پی کے الزامات لگانے والے رہنما پی پی حکومت کے پانچ سالوں میں ہونے والی کرپشن کو نہ بھولیں اور اپنی حکومت کی بیڈ گورننس، اقربا پروری اور لوٹ کھسوٹ کو بھی یاد رکھیں۔


اپنے نانا کی برسی پر شاید بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے اس وقت کے صدر آصف علی زرداری سے متعلق سخت بیانات اور تقاریر یاد آگئیں اور انھوں نے پنجاب حکومت پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے اور طالبان سے مذاکرات جاری رکھنے پر وزیر اعظم نواز شریف پر کڑی تنقید کی۔ جس کے جواب میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کی بلاول کے والد آصف زرداری حمایت کر رہے ہیں اور بیٹا بلاول بھٹو مخالفت کر رہے ہیں اس لیے حکومت باپ بیٹے میں کس کو درست سمجھے۔

اپنے سسرکی برسی پر سابق صدر آصف علی زرداری کا خطاب بھی مختصر تھا اور انھوں نے نواز شریف حکومت سمیت سابق صدر پرویز مشرف پر بھی تنقید سے گریز کیا جب کہ دسمبر میں بے نظیر بھٹو کی برسی پر انھوں نے پرویز مشرف کے لیے بہت کچھ کہا تھا اور سابق صدر کو بلا قرار دیا تھا۔ اس بار سابق صدر کو محسوس ہوگیا کہ پاک فوج مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی پر معترض ہے اس لیے انھوں نے سابق فوجی صدر کو بھی بخش دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ابھرتے ہوئے نوجوان رہنما بلاول بھٹو زرداری موجودہ حکومت اور شریف برادران پر مسلسل الزامات لگا رہے ہیں اور ان کی تقلید میں سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن، سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن بھی وفاقی حکومت اور شریف برادران پر الزام تراشی اور تنقید کرتے ہیں مگر آصف علی زرداری کی طرف سے انھیں روکا نہیں جاتا۔

بلاول زرداری جو کچھ کہتے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی اجازت اور مرضی سے ہی کہتے ہیں اور ہر سال سابق وزرائے اعظم کی برسیوں پر گڑھی خدا بخش میں جلسوں سے قبل پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس بھی ہوتے ہیں۔ جس میں موجودہ حکومت سے متعلق پالیسی بھی طے کی جاتی ہوگی جس میں بلاول بھی موجود ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ پی پی کی پالیسی کے مطابق ہی کہتے ہیں اور ان بیانات کو بلاول بھٹو کے ذاتی خیالات قرار نہیں دیا جاسکتا ایک طرف تو یہ حال ہے کہ وزیر اعظم اور سابق صدر کے درمیان تعلقات پی پی کے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اتنے اچھے ہیں کہ دونوں تھر کی سرکاری تقریب میں مہمان خصوصی ہوتے ہیں اور بعد میں تھر کے دوسرے دورے میں بلاول وزیر اعظم کے ساتھ ہوتے ہیں تو ان کے درمیان تعلقات بڑے خوشگوار نظر آتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی نئی سیاست کے تحت پی پی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی تعریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار پر تنقید کر رہے ہیں۔ سندھ میں وفاقی حکومت پر الزام تراشی کا کام وزیر اطلاعات شرجیل میمن انجام دے رہے ہیں اور پی پی کی مرکزی قیادت کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری کا رویہ وفاقی حکومت اور شریف برادران کے خلاف سخت ہے جس کا وہ واضح طور پر اظہار کرتے آرہے ہیں۔میثاق جمہوریت کی خلاف ورزی کا الزام پی پی حکومت میں نواز شریف کو دیا جاتا تھا مگر اس سلسلے میں شریف برادران اور مسلم لیگ (ن) خاموش ہے اور کسی خاموش مفاہمت کے تحت ہی موجودہ حکومت سابق پی پی حکومت کے معاملات، کرپشن، من پسند تقرریوں پر خاموش ہے۔ اہم عہدوں پر پی پی کے حامی ہی تعینات ہیں اور پی پی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائیوں کی بھی کوئی شکایت نہیں ہے جو حکومت کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ قومی اسمبلی میں جس طرح حکومت نے تحفظ پاکستان آرڈیننس منظور کرایا ہے اس پر اپوزیشن لیڈر نے ضرور تنقید کی ہے اور اس کے خلاف تحریک انصاف کے اعلان کے بعد پی پی نے بھی عدالت جانے کا اعلان کیا ہے جس کا جواب دیکھیں حکومت کی طرف سے کیا آتا ہے؟
Load Next Story