’’دادا صاحب پھالکے‘‘ بھارت اور پاکستان کا مشترکہ ایوارڈ ہے گلزار
داداصاحب پھالکے سے ہی یہاں فلم سازی کی ابتدا ہوئی اور اس وقت یہ ایک ہی خطہ تھا، گلزار
دونوں ممالک میں مضبوط تعلقات کیلیے سب کوکردار ادا کرنا ہوگا ،ایکسپریس سے گفتگو۔ فوٹو: فائل
معروف شاعر ونغمہ نگارگلزار نے بھارت کے سب سے بڑے فلمی ایوراڈ '' دادا صاحب پھالکے ''ملنے پراس ایوارڈ کو ہندوستان اور پاکستان کا مشترکہ ایوارڈ قراردیا۔
ایوارڈ کا ملنا میرے لیے زندگی کا نہایت ہی خوشی بھرا لمحہ ہے۔ بھارت سے ٹیلی فون پر''نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے گلزار نے بتایاکہ '' دادا صاحب پھالکے''ایوارڈ میرا نہیں اور نہ ہی ہندوستان کا ہے، یہ ایوارڈ ہندوستان اور پاکستان کا مشترکہ ایوارڈ ہے۔ انھوں نے کہا کہ '' داداصاحب پھالکے'' اس خطے میں پہلے فلم میکر تھے جنہوں نے فلم بنائی اوراسی سے فلم میکنگ کی شروعات ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ جس وقت دادا صاحب پھالکے نے فلم بنائی تھی تو یہ خطہ ایک ہی تھا۔ شوکت حسین رضوی بھی اسی خطے میں موجود تھے لیکن جب تقسیم ہوئی تو وہ پاکستان چلے گئے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کرپاکستان اوربھارت کے تعلقات کومستحکم اورمضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرناہوگا۔ اس خطے میں امن کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔
ایوارڈ کا ملنا میرے لیے زندگی کا نہایت ہی خوشی بھرا لمحہ ہے۔ بھارت سے ٹیلی فون پر''نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے گلزار نے بتایاکہ '' دادا صاحب پھالکے''ایوارڈ میرا نہیں اور نہ ہی ہندوستان کا ہے، یہ ایوارڈ ہندوستان اور پاکستان کا مشترکہ ایوارڈ ہے۔ انھوں نے کہا کہ '' داداصاحب پھالکے'' اس خطے میں پہلے فلم میکر تھے جنہوں نے فلم بنائی اوراسی سے فلم میکنگ کی شروعات ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ جس وقت دادا صاحب پھالکے نے فلم بنائی تھی تو یہ خطہ ایک ہی تھا۔ شوکت حسین رضوی بھی اسی خطے میں موجود تھے لیکن جب تقسیم ہوئی تو وہ پاکستان چلے گئے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کرپاکستان اوربھارت کے تعلقات کومستحکم اورمضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرناہوگا۔ اس خطے میں امن کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔