بشام کو بجلی فراہم کرنیوالے فیڈر بند ہزاروں افراد کا دھرنا شاہراہ ریشم بلاک کردی

وفاقی حکومت کیخلاف شدید نعرہ بازی، نیشنل گرڈ کی بجلی بند کرنیکی دھمکی۔

بشام: وزیر مملکت عابد شیر علی کے حکم پر فیڈرز بند کرنے کیخلاف مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

بشام شہر کو بجلی فراہم کرنیوالے فیڈر بند کرنے کیخلاف ہزاروں افراد نے دھرنا دیا، شہر بھر میں شٹر ڈائون ہڑتال اور شاہراہ قراقرم ہائے وے 3 گھنٹے بند رہی جبکہ وفاقی وزیر عابد شیر علی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

گزشتہ دنوں پشاور میں وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر نے پریس کانفرنس کے دوران شانگلہ بشام سمیت مختلف علاقوں کے فیڈرز بند کرنے کا اعلان کیا تھا ۔گزشتہ 48گھنٹوں سے بشام شہر اور ملحقہ علاقوں کو بجلی کی سپلائی بند ہے جس کیخلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے اور عابد شیر علی سمیت وفاقی حکومت کیخلاف شدید نعرہ بازی کی،تاجروں اور علاقہ مکینوں نے مینگورہ روڈ سے تحصیل تک ریلی نکالی، ریلی نے بشام چوک پہنچ کر احتجاجی دھرنے کی شکل اختیار کرلی اور شاہراہ قراقرم کو دونوں اطراف سے بلاک کردیا گیا، دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے تاجر برادری نے حکومت کو ایک ہفتے کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے خان خواڑ ڈیم کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دیدی۔


مظاہرین کا کہنا تھاکہ عابد شیر علی خود چور اور بڑا ڈیفالٹر پنجاب ہے جبکہ ہم نے اپنے گھر سے اُن کو بجلی دی ہے، عابد شیر علی کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ فیڈر بند کرینگے تو ہم خان خواڑ سے نیشنل گرڈ کو جانیوالی بجلی بند کردیں گے،عابد شیر علی جیسے لوگ خیبر پختونخوا سے بجلی لیکر اپنے کارخانوں میں مفت استعمال کر رہے ہیں اور پختونوں کو چور کہہ رہے ہیں، مظاہرین نے آئندہ کیلیے لائحہ عمل طے کرتے ہوئے خان خواڑ ڈیم کا گھیرائو ،ضلعی انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر،احتجاجی کیمپ اور واپڈا کی گاڑی بازار میں دیکھنے کی صورت میں جلانے کی دھمکی بھی دے دی۔

خیبرپختونخوا حکومت نے بجلی منافع کے بقایا جات کی مد میں مرکز سے فوری طور پر صوبے کو 375 ارب روپے ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کاسلسلہ روکا نہ گیا تو ہم پورے ملک میں احتجاج شروع کردیں گے اورعوام کو سڑکوں پر لے آئیں گے جبکہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیاجائے گا۔ صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا صوبے نہیں بلکہ مرکز کے دائرہ کار میں ہے لیکن چند ماہ سے اس کی تمام تر غلطیاں صوبہ کے عوام پر عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ ان کے لیے تو نیپرا کی ایک رپورٹ ہی کافی تھی جس پر عابد شیر علی کو گھر بھیجنا چاہیے تھا اور وزیراعظم کو اس پر سخت نوٹس بھی لینا چاہیے تھا،جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ فیسکو ،پیسکو ،لیسکو اور کے ای ایس سی بغیر ریکارڈ کے بجلی کنکشن فراہم کرنے کے علاوہ بجلی چوری ،زائد بلنگ ،جعلی اعدادوشمار تیار کرنے اور غیرضروری لوڈ شیڈنگ میں ملوث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ جمہوریت ہے یا بادشاہت ؟سوتیلے بھائیوں والا سلوک ختم کیاجائے،وزیراعظم ایک ہی وزیراعلیٰ کو کیوں بیرون ملک لے جاتے ہیں'وزیر جتنا بھی بیوقوف ہو لیکن وزیراعظم کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے وزیر ہی رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم فیول ایڈجیسٹمنٹ چارجز کے حوالے سے اپنے کیس کا عدالتوں میں مکمل دفاع کریں گے، صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا چور واپڈا ہے جو خیبر پختونخوا کے سالانہ 47 ارب روپے ہڑپ کر جاتا ہے، عابد شیر علی عوام سے معافی مانگیں،صوبے کے وسائل پر کسی کو شب خون نہیں مارنے دیں گے،دریں اثنا بنوں کی تاجر تنظیموں اور وکلا برادری نے وفاقی وزیر مملکت برائے پانی وبجلی عابد شیر علی،چیف ایگزیکٹو پیسکو خیبر پختونخوا اور سپرنٹنڈنٹ انجنئیر بنوں سرکل کو لوڈشیڈنگ سے ہونیوالے نقصانات کی مد میں 5 ارب روپے ہر جانے کا نوٹس دینے اور بار بار چوری کے الزامات لگانے کی پاداش میں الگ مقدمہ درج کرنیکا اعلان کیا ہے۔
Load Next Story