ڈرون حملے غیر موثر ہیں متبادل تلاش کیا جائے صدر زرداری
اسلام مخالف فلم سے اظہارلاتعلقی، دیامیربھاشاڈیم کیلیے 20کروڑڈالردینے کاوعدہ،امریکی سفارتخانہ
اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری سے امریکی خصوصی ایلچی مارک گراسمین ملاقات کررہے ہیں۔ فوٹو: آئی این پی
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجا پرویز اشرف سے پاکستان وافغانستان کیلیے امریکا کے نمائندہ خصوصی مارک گراسمین نے ہفتے کو ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس میں الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
اس دوران پاک امریکا تعلقات، عسکریت پسندی کیخلاف جنگ، علاقائی صورتحال، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور ڈرون حملوں پر بات کی گئی، اس موقع پرامریکی صدر کے معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل ڈوگلس لیوٹ، سیاسی وفوجی امور کے ڈپٹی ڈائریکٹرمیجرجنرل جان ایف نیول اور پاکستان میںامریکا کے قائم مقام سفیر رچرڈ ہوگلینڈ مارک گراسمین کے ہمراہ تھے جبکہ وزیردفاع نوید قمر، وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وزیر داخلہ رحمن ملک اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صدر آصف زرداری نے امریکا پر زور دیا ہے کہ ڈرون حملے غیرمئوثرہیں، یہ الٹا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں اور عوام کے دل جیتنے میںمشکلات ہیں، اسے فوری بندکرکے ان کامتبادل تلاش کیاجائے۔
صدر نے کہا کہ طویل مدت اور دیرپا پاک امریکا تعلقات کاحصول اعتماد کا فقدان دور کرنے سے ہی دور ہوسکتا ہے، دونوں ممالک کیلیے ضروری ہے کہ خطے میں امن و استحکام کیلیے باہمی تعاون سے مل کر کام کریں، القاعدہ اور دہشتگردی کو شکست دینا ہمارا مشترکہ مقصد ہے اور اس کو سرحد کے آر پار مربوط ایکشن کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے، افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے، صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیرخارجہ حناربانی کھر کے مجوزہ دورۂ واشنگٹن کے دوران دوطرفہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کو مہمیز ملے گی۔ صدر نے اس موقع پر گستاخانہ امریکی فلم کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
دریں اثناء وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے مارک گراسمین سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین تعلقات بہت اہم ہیں، دہشتگردی کیخلاف لڑائی ہمارامشترکہ مقصد ہے، پاکستان کو اس لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے لیکن اس سے ہمارا عزم کمزور نہیں ہو سکتا، ہمارے پاس خطے کے امن وسکون کیلیے دہشتگردی کیخلاف لڑائی کے سوا کوئی آپشن نہیں، دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں اعلیٰ سطح کے تبادلے ہم آہنگی پیدا کرنے میں مفید ثابت ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکا پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میںمدد دے سکتا ہے، دیامیر بھاشا ڈیم کے منصوبے میں امریکا کی شرکت کا خیر مقدم کیا جائیگا۔
مارک گراسمین نے وزیراعظم سے اتفاق کیا کہ باہمی احترام اور مفاد کی بنیاد پر تعلقات کا قیام بنیادی اہمیت رکھتا ہے، خطے میں امن و سلامتی کیلیے پاکستان کی شراکت داری ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا نے دیامر بھاشا ڈیم کیلیے 20 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اور اس منصوبے میں شرکت کیلیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان آئندہ تعلقات منڈیوں تک رسائی اور تجارت پر مبنی ہونے چاہئیں۔ امریکی حکومت پاکستان میں سرمایہ کاری میں مدد دینے اور منڈی تک بہتر رسائی کیلیے دو طرفہ معاہدے پر کام کر رہی ہے۔
دریں اثناء پاکستان اور امریکا کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ، مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اور امریکی وفد کی قیادت مارک گراسمین نے کی، اس دوران اسٹریٹیجک تعلقات ،خطے کی صورتحال خصوصاًافغانستان اور دہشت گردی کیخلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اے ایف پی کیمطابق امریکی سفارتخانے سے مارک گراسمین کے دورہ پاکستان کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی نے پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں شکیل آفریدی کا معاملہ اٹھایا تاہم بیان میں پاکستانی قیادت کے ردعمل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔
بیان کے مطابق مارک گراسمین نے اسلام مخالف فلم کی مذمت کی اور واضح کیا کہ جیسے وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے واضح کیا ہے، امریکا کا اس سے کوئی تعلق نہیں، ہم اس فلم کے مواد اور پیغام کو مسترد کرتے ہیں، بیان کے مطابق مارک گراسمین نے بتایا کہ صدر زرداری اور حنا ربانی کھر کے مجوزہ دورہ امریکا کے منتظر ہیں، انھوں نے کراچی اور لاہور میں آتشزدگی کے واقعات پر بھی افسوس کا اظہار کیا، آئی این پی کے مطابق پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے شکیل آفریدی کی رہائی اور امریکا کو حوالگی کا مطالبہ مسترد کردیا۔
اس دوران پاک امریکا تعلقات، عسکریت پسندی کیخلاف جنگ، علاقائی صورتحال، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور ڈرون حملوں پر بات کی گئی، اس موقع پرامریکی صدر کے معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل ڈوگلس لیوٹ، سیاسی وفوجی امور کے ڈپٹی ڈائریکٹرمیجرجنرل جان ایف نیول اور پاکستان میںامریکا کے قائم مقام سفیر رچرڈ ہوگلینڈ مارک گراسمین کے ہمراہ تھے جبکہ وزیردفاع نوید قمر، وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وزیر داخلہ رحمن ملک اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صدر آصف زرداری نے امریکا پر زور دیا ہے کہ ڈرون حملے غیرمئوثرہیں، یہ الٹا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں اور عوام کے دل جیتنے میںمشکلات ہیں، اسے فوری بندکرکے ان کامتبادل تلاش کیاجائے۔
صدر نے کہا کہ طویل مدت اور دیرپا پاک امریکا تعلقات کاحصول اعتماد کا فقدان دور کرنے سے ہی دور ہوسکتا ہے، دونوں ممالک کیلیے ضروری ہے کہ خطے میں امن و استحکام کیلیے باہمی تعاون سے مل کر کام کریں، القاعدہ اور دہشتگردی کو شکست دینا ہمارا مشترکہ مقصد ہے اور اس کو سرحد کے آر پار مربوط ایکشن کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے، افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے، صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیرخارجہ حناربانی کھر کے مجوزہ دورۂ واشنگٹن کے دوران دوطرفہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کو مہمیز ملے گی۔ صدر نے اس موقع پر گستاخانہ امریکی فلم کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
دریں اثناء وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے مارک گراسمین سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین تعلقات بہت اہم ہیں، دہشتگردی کیخلاف لڑائی ہمارامشترکہ مقصد ہے، پاکستان کو اس لڑائی میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے لیکن اس سے ہمارا عزم کمزور نہیں ہو سکتا، ہمارے پاس خطے کے امن وسکون کیلیے دہشتگردی کیخلاف لڑائی کے سوا کوئی آپشن نہیں، دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں اعلیٰ سطح کے تبادلے ہم آہنگی پیدا کرنے میں مفید ثابت ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ امریکا پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میںمدد دے سکتا ہے، دیامیر بھاشا ڈیم کے منصوبے میں امریکا کی شرکت کا خیر مقدم کیا جائیگا۔
مارک گراسمین نے وزیراعظم سے اتفاق کیا کہ باہمی احترام اور مفاد کی بنیاد پر تعلقات کا قیام بنیادی اہمیت رکھتا ہے، خطے میں امن و سلامتی کیلیے پاکستان کی شراکت داری ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا نے دیامر بھاشا ڈیم کیلیے 20 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اور اس منصوبے میں شرکت کیلیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان آئندہ تعلقات منڈیوں تک رسائی اور تجارت پر مبنی ہونے چاہئیں۔ امریکی حکومت پاکستان میں سرمایہ کاری میں مدد دینے اور منڈی تک بہتر رسائی کیلیے دو طرفہ معاہدے پر کام کر رہی ہے۔
دریں اثناء پاکستان اور امریکا کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ، مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اور امریکی وفد کی قیادت مارک گراسمین نے کی، اس دوران اسٹریٹیجک تعلقات ،خطے کی صورتحال خصوصاًافغانستان اور دہشت گردی کیخلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اے ایف پی کیمطابق امریکی سفارتخانے سے مارک گراسمین کے دورہ پاکستان کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی نے پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں شکیل آفریدی کا معاملہ اٹھایا تاہم بیان میں پاکستانی قیادت کے ردعمل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔
بیان کے مطابق مارک گراسمین نے اسلام مخالف فلم کی مذمت کی اور واضح کیا کہ جیسے وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے واضح کیا ہے، امریکا کا اس سے کوئی تعلق نہیں، ہم اس فلم کے مواد اور پیغام کو مسترد کرتے ہیں، بیان کے مطابق مارک گراسمین نے بتایا کہ صدر زرداری اور حنا ربانی کھر کے مجوزہ دورہ امریکا کے منتظر ہیں، انھوں نے کراچی اور لاہور میں آتشزدگی کے واقعات پر بھی افسوس کا اظہار کیا، آئی این پی کے مطابق پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے شکیل آفریدی کی رہائی اور امریکا کو حوالگی کا مطالبہ مسترد کردیا۔