توہین عدالت کا نیا قانون جاری رہتا تو عدلیہ بے جان ہوجاتی تفصیلی فیصلہ

پارلیمنٹ قانون بناتے ہوئے آئین کی روح اور عوامی خواہشات کے خلاف نہیں جاسکتی

نئے قانون سے چند مخصوص افراد کو استثنیٰ دیا گیا، متعدد دفعات آئین سے متصادم تھیں،پارلیمنٹ قانون بناتے ہوئے آئین کی روح اور عوامی خواہشات کے خلاف نہیں جاسکتی

سپریم کورٹ نے توہین عدالت قانون مجریہ 2012کوغیرآئینی قراردیے جانے کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے ۔

136صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے تحریر کیاہے جبکہ مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ اور مسٹر جسٹس خلجی عارف حسین نے7،7 صفحات کا الگ نوٹ لکھاہے۔ توہین عدالت کے نئے قانون کو3اگست کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، جسٹس میاں شاکر اللہ جان ، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل سپریم کورٹ کے5رکنی بینچ نے ایک مختصرفیصلے کے ذریعے کالعدم کیاتھا۔


تفصیلی فیصلے میںتوہین عدالت کے نئے قانون کوآئین کی متعدد دفعات اورعدلیہ کی آزادی کی آئینی شق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ یہ قانون اگر جاری رکھاجاتا تو عدلیہ بے جان ہوجاتی اور اس کے فیصلے مذاق بن جاتے اور سرکاری اہلکار عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد سے بری الذمہ ہوجاتے۔ آئین کی شق 190کے تحت ہر شخص اور ادارہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کا پابند ہے لیکن توہین عدالت کے نئے قانون کے ذریعے چند مخصوص افراد کو استثنٰی دیا گیا جس کی آئین اجازت نہیں دیتا۔ پارلیمنٹ قانون بناتے وقت آئین کی روح اور عوام کی خواہشات کے خلاف نہیں جاسکتی، پارلیمنٹ ہر قانون عوام کی مجموعی فلاح کیلیے بنانے کی پابندہے۔

فیصلے میں کہا گیاہے کہ پارلیمنٹ قوانین کو ریگولیٹ کرنے کی مجازہے لیکن ریگولیشن کے ذریعے قانون کی افادیت ختم نہیںکی جاسکتی اور نہ ہی سادہ قانون سازی کے ذریعے آئین کی شق میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، پارلیمنٹ نے پرانا قانون ختم کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے توہین عدالت کا موثر قانون عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد اور عدلیہ کی آزادی یقینی بنانے کا واحد ہتھیار ہے، عدلیہ کی آزادی صرف مقدمات نمٹانا نہیں بلکہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانا اور انتظامیہ سے اس کی مکمل علیٰحدگی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے الگ نوٹ میں کہا کہ اگر کوئی توہین عدلیہ کو اسکینڈلائزکرنے سے متعلق ہو تو اس حوالے سے عدالتی برداشت قابل فہم ہے لیکن عدالت کے فیصلوں پر عمل نہ ہو اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

Recommended Stories

Load Next Story