بجلی کی صورتحال اور قومی حقائق
مرکزاورصوبہ خیبر پختون خوا کے درمیان اس وقت بجلی وجہ تنازع بن گئی ہے، بات بیانات سے آگے نکل کر احتجاج تک جا پہنچی ہے
دراصل بجلی کی صورتحال کو زمینی حقائق کی روشنی میں غیرجانبدارانہ تجزیے اور اصلاح کی اشد ضرورت ہے ۔ فوٹو: فائل
مرکزاورصوبہ خیبر پختون خوا کے درمیان اس وقت بجلی وجہ تنازع بن گئی ہے، بات بیانات سے آگے نکل کر احتجاج تک جا پہنچی ہے، جس میں صوبائی حکومت بھی شامل ہوگئی ہے،دراصل ماضی میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے منصوبوں پر عمل نہ ہونے اور ڈیمز کی عدم تعمیر کی وجہ سے ملک میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہوا ۔اب جب کہ حکومت نے متعدد پیداواری منصوبوں پر عمل درآمدکی ٹھانی ہے تو اس کے نتائج سامنے آنے میں بھی کم ازکم تین برس لگ جائیں گے۔موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک صورت یہ بنتی ہے کہ بجلی کی بڑے پیمانے پر ہونے والی چوری کو روکا جائے، تاکہ لائن لاسز کو روکا جائے،اسی سلسلے میں وفاقی وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیرعلی کا موقف ہے کہ ملک بھر میں بجلی چوری کرنے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے ، ان کے مطابق صرف صوبہ سرحد میں 55 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔وفاقی وزیر کے بیان اور واپڈا کی جانب سے صوبے میں جاری لوڈشیڈنگ کے ردعمل کے طور پر خیبر پختون خوا کے صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے اتوار کو پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی منافع کے بقایاجات کی مد میں مرکز سے فوری طور پر صوبہ کو 375 ارب روپے ادا کیے جائیں ورنہ ہم پورے ملک میں احتجاج شروع کردیں گے ۔انھوں نے مزید کہا کہ واپڈا صوبے کے نہیں بلکہ مرکز کے دائرہ کار میں ہے لیکن چند ماہ سے اس کی تمام تر غلطیاں صوبہ کے عوام پر عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، نیشنل گرڈ سے صوبے کا حصہ 16 فیصد بنتا ہے،لیکن سسٹم میں اتنی گنجائش وصلاحیت ہی نہیں کہ وہ اسے سہار سکے۔صوبائی وزیرکی پریس کانفرنس کے بعد بادی النظر میں یہ تاثر ضرور پیدا ہوا ہے جیسے چھوٹے صوبوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی ہو رہی ہے۔
دراصل بجلی کی صورتحال کو زمینی حقائق کی روشنی میں غیرجانبدارانہ تجزیے اور اصلاح کی اشد ضرورت ہے ، بلاشبہ ملک کے طول وعرض میں بجلی کے وفاقی محکمے واپڈا اور دیگر پاور کمپنیوں سے عوام کو بے شمار شکایات ہیں،جن میں بجلی کی عدم فراہمی، بدترین لوڈشیڈنگ،پوش،متوسط اور غریب بستیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے، فیول ایڈجسمنٹ کے نام پر زائد بلنگ شامل ہیں ۔ ملک بھر میں بجلی چوری کا رجحان فروغ پا چکا ہے،ایک عام صارف سے لے کر وزراء،امراء اورسرکاری محکمے بجلی چوری میں ملوث ہیں ۔ کراچی سمیت ملک بھر میں کنڈا سسٹم کے ذریعے بجلی چوری کا چلن عام ہے، سرکاری محکموں پر لاکھوں،کروڑوں کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں۔ پنجاب میں بجلی چوروں کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہے ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں بھی صورتحال اس حوالے سے تقریباً یکساں ہے ، لائن لاسز کا خمیازہ عام صارفین کو طویل ترین لوڈشیڈنگ کے عذاب کی صورت میں سہنا پڑتا ہے ۔ توانائی کا بحران ایک اہم ترین قومی مسئلہ ہے جس کا حل تو اس کے پیداواری عمل میں اضافے اور دستیاب بجلی کے درست استعمال میں ہے، بجلی چوری بدنیتی اور قومی امانت میں خیانت کے مترادف عمل ہے،چہ جائیکہ صوبائی حکومت بجلی چوروں کو پکڑنے میں وفاقی حکومت کی مدد کرے ، اس کا یوں ٹاکرا لگا کر میدان میں آنا اور احتجاج کی دھمکی دینا کسی بھی طرح سنجیدہ طرزعمل کے زمرے میں نہیں آتا ،بحیثیت قوم ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں ملکی مفاد عزیز ہے یا ذاتی مفاد ۔فیصلہ توخود عوام کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ بجلی چوری کرکے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچا کر اپنی تقدیر اور قسمت کو مستقل اندھیروں کے سپرد کرنا چاہتے ہیں یا پھر ایک باشعور باشندے بن کر بجلی کے بل ادا کر کے قومی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔
دراصل بجلی کی صورتحال کو زمینی حقائق کی روشنی میں غیرجانبدارانہ تجزیے اور اصلاح کی اشد ضرورت ہے ، بلاشبہ ملک کے طول وعرض میں بجلی کے وفاقی محکمے واپڈا اور دیگر پاور کمپنیوں سے عوام کو بے شمار شکایات ہیں،جن میں بجلی کی عدم فراہمی، بدترین لوڈشیڈنگ،پوش،متوسط اور غریب بستیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے، فیول ایڈجسمنٹ کے نام پر زائد بلنگ شامل ہیں ۔ ملک بھر میں بجلی چوری کا رجحان فروغ پا چکا ہے،ایک عام صارف سے لے کر وزراء،امراء اورسرکاری محکمے بجلی چوری میں ملوث ہیں ۔ کراچی سمیت ملک بھر میں کنڈا سسٹم کے ذریعے بجلی چوری کا چلن عام ہے، سرکاری محکموں پر لاکھوں،کروڑوں کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں۔ پنجاب میں بجلی چوروں کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ ہے ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں بھی صورتحال اس حوالے سے تقریباً یکساں ہے ، لائن لاسز کا خمیازہ عام صارفین کو طویل ترین لوڈشیڈنگ کے عذاب کی صورت میں سہنا پڑتا ہے ۔ توانائی کا بحران ایک اہم ترین قومی مسئلہ ہے جس کا حل تو اس کے پیداواری عمل میں اضافے اور دستیاب بجلی کے درست استعمال میں ہے، بجلی چوری بدنیتی اور قومی امانت میں خیانت کے مترادف عمل ہے،چہ جائیکہ صوبائی حکومت بجلی چوروں کو پکڑنے میں وفاقی حکومت کی مدد کرے ، اس کا یوں ٹاکرا لگا کر میدان میں آنا اور احتجاج کی دھمکی دینا کسی بھی طرح سنجیدہ طرزعمل کے زمرے میں نہیں آتا ،بحیثیت قوم ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں ملکی مفاد عزیز ہے یا ذاتی مفاد ۔فیصلہ توخود عوام کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ بجلی چوری کرکے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچا کر اپنی تقدیر اور قسمت کو مستقل اندھیروں کے سپرد کرنا چاہتے ہیں یا پھر ایک باشعور باشندے بن کر بجلی کے بل ادا کر کے قومی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔