فلمی ستاروں اور معروف ماڈل کی عدم دستیابی کے ساتھ فیشن ویک 2014 کااختتام

’پی ایف ڈی سی‘ کے زیر اہتمام سجنے والے فیشن میلہ میں موسم گرما کی نئی کولیکشن متعارف۔

’پی ایف ڈی سی‘ کے زیراہتمام سجنے والے فیشن میلہ میں موسم گرما کی نئی کولیکشن متعارف ۔ فوٹو : اے ایف پی

پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہوچکا ہے جہاں پر فیشن انڈسٹری کے سب سے زیادہ میلے سجائے جاتے ہیں۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سال بھر فیشن ویک کا انعقاد جاری رہتا ہے۔ اس موقع پرہمارے ملک کے معروف ڈریس، جیولری ڈیزائنر، ہیئرسٹائلسٹ، میک اپ آرٹسٹ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں اور لوگوں سے خوب داد سمیٹتے ہیں۔ یہ سلسلہ گزشتہ چند برسوں سے بہت مقبول ہے اور خاص طور پر نوجوان نسل توفیشن انڈسٹری کی متوالی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں فیشن ویک کے انعقاد کا رواج تو مغرب سے ہی آیا ہے اور اس میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن دیکھا جائے تو فرانس اور اٹلی فیشن کا گھر کہلائے جاتے ہیں۔ فیشن کے نت نئے انداز یہاں پر ہی متعارف کروائے جاتے ہیں اور پھر دنیا میں راتوں رات فیشن کے نئے ٹرینڈز دکھائی دیتے ہیں۔

ان ممالک میں سال بھر میں ایک یا دو فیشن ویک منائے جاتے ہیں، اس دوران دنیا کے معروف ڈیزائنرز اپنی بہترین کولیکشن متعارف کرواتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ملک میں تو اب ''فیشن ویک'' کا انعقاد بالکل اسی طرح ہونے لگا ہے جیسے بھارت میں ہر ہفتے کئی فلمیں نمائش کیلئے پیش کی جاتی ہیں اور پھر اگلے ہفتے مزید نئی فلمیں سینما گھروں کی زینت بن جاتی ہیں۔ بالکل اسی طرح کا سلسلہ اب پاکستان فیشن انڈسٹری میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ کوئی گروپ کراچی میں فیشن ویک کا انعقاد کرتاہے تو کوئی لاہور اور اسلام آباد پر قابض دکھائی دیتاہے۔ بس یوں کہئے کہ پاکستان میں فیشن ویک کا جمعہ بازار لگا رہتا ہے۔



ایک روزقبل پاکستان فیشن ڈیزائن کونسل کے زیراہتمام لاہور میں چار روزہ فیشن ویک کا اختتام ہوا ہے۔ ملک کے معروف ڈریس اور جیولری ڈیزائنرز کے ساتھ ہیئر سٹائلسٹ اور بیوٹیشنز نے بھی اس دوران اپنے ہنر کے خوب جلوے بکھیرے لیکن اس بار فیشن ویک میں معروف فلمی ستار وں اور ماڈلز کی عدم موجودگی کے باعث لاہوریوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف تو فیشن ڈیزائنرز کے ملبوسات میں روایتی انداز دکھائی دیا اور دوسری جانب چند ایک کے علاوہ بہت سی نئی ماڈل ریمپ پر جلوہ گر ہوئیں۔


یہی وجہ ہے کہ فن و ثقافت کا گہوارا مانے جانے والے شہر لاہور میں فیشن ویک کا انعقاد ہوا مگر لوگوں کا ہجوم ہال کے باہر اس طرح سے نہیں دکھائی دیا جس طرح گزشتہ برسوں میں دکھائی دیتا تھا۔ اس مرتبہ چار روزہ فیشن ویک میں حسن شہریار یاسین(ایچ ایس وائی)، ٹینابائی حنا بٹ، نکی نینا، ثانیہ مسکاٹیا، ہاؤس آف ارسلان، کارما، سحر عاطف، علی ذیشان، بیچ ٹری، عروج احمد، کیسریا پریٹ، شہلا چتر، دیپک پروانی، میوز، الان، جنریشن، رودابہ عمر، بریزمین، گل احمد، فرہادہمایوں، عمرفاروق، باڈی فوکس میوزیم، ماریہ بی، نداازور، کارماپنک، وردا، رضوان بیگ، زارا شاہ جہاں، سائرہ شاکیرا، کھاڈی اور عاکف محمود سمیت دیگر نے حصہ لیا۔ماڈلز میں صوفیہ خان، کنول الیاس، رابعہ احمد، سیبل، سما شاہ، فوزیہ، نادیہ علی، انعم ملک، آمنہ بابر، اقصیٰ، نیہا، حناترین، ظل، عبداللہ، اطہرامین، سائرہ نذیر، صدف کنول اور دانیا شیخ سمیت دیگر شامل تھیں جبکہ کئی برسوں بعد سنیتا مارشل بھی ریمپ پر جلوہ گرہوئیں۔



اس موقع پرفیشن ویک کے شرکاء نے سُپر ماڈل مہرین سید، نادیہ حسین، سبینا پاشا سمیت دیگرکی کمی کو شدت سے محسوس کیا۔ اس کے علاوہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والے فیشن ویک میں جہاں فلمی ستارے ریمپ پر جلوہ گر ہوتے تھے وہیں ہمارے ملک کے معروف کھلاڑیوں کو بھی ریمپ پر دیکھ کر حاضرین کے چہرے کھل اٹھتے تھے مگر اس بار فیشن ویک میں جہاں ڈریس ڈیزائنرز نے موسم گرما کی مناسبت سے اپنی نئی کولیکشنز متعارف کروائیں، وہیں معروف کھلاڑیوں اور فلمی ستاروں کی کمی کو بھی محسوس کیا گیا۔

پاکستان فیشن ڈیزائن کونسل کے زیراہتمام چار روز تک جاری رہنے والے فیشن ویک کے اختتام پر معروف ڈریس ڈیزائنر حسن شہریار یاسین (ایچ ایس وائی) نے ''ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان فیشن انڈسٹری تیزی کے ساتھ ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی حاصل کر رہی ہے۔ بلاشبہ ہمارے ملک میں نوجوان ڈریس ڈیزائنر بہترین کام کر رہے ہیں اور ان کے بہترین کام کی بدولت پاکستان میں فیشن کے نئے رجحانات لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ فیشن ویک میں ہمارے ڈیزائنرز نے فیشن کے خوبصورت ملبوسات متعارف کروائے ہیں جن کو بہت سراہا گیا ہے۔ جہاں تک بات فلمی ستاروں اور سپر ماڈلز کی عدم موجودگی کی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مہرین سید اور نادیہ حسین کی کمی کو شدت سے محسوس کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ ہم نے اس مرتبہ بہت سے نئی ماڈلز کو ریمپ پر متعارف کروایا ہے جن میں سے کچھ لمبی اننگز کھیلیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں ایچ ایس وائی نے کہا کہ پاکستان میں چار موسم ہیں اور ہم چاروں موسموں کی مناسبت سے فیشن کے جدید انداز متعارف کرواتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں فیشن ویک کا انعقاد سال بھر جاری رہتاہے۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے اور لوگ بھی اس طرح کے پروگراموں میں شرکت کرکے انٹرٹین ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ 'پی ایف ڈی سی' کے پلیٹ فارم سے ہم نوجوان ڈیزائنرز اور ماڈلز کوکام کرنے کا موقع دیں اوراسی طرح سے پاکستان فیشن انڈسٹری مزید ترقی کرے گی۔
Load Next Story