کراچی اسٹاک مارکیٹ منافع کا حصول 2 نفسیاتی حدیں بیک وقت گر گئیں 

بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے کافی عرصے کے بعد فروخت، انڈیکس 155 پوائنٹس کی کمی سے 29094 پر بند

بیشتر کمپنیوں کی قیمتیں گھٹ گئیں، 34.8 ارب کا نقصان، کاروباری حجم 5 فیصد کم، 29.5 کروڑ شیئرز کے سودے۔ فوٹو: آن لائن / فائل

حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور سیاسی و عسکری قیادت میں مبینہ طور پر غلط فہمیوں کے باعث کراچی اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سرمایہ کار تذبذب کا شکار دکھائی دیے اور منافع کے حصول کو ترجیح دی خصوصاً بیرونی سرمایہ کاروں نے کافی عرصے مسلسل سرمایہ کرنے کے بعد 12 لاکھ 53 ہزار703 ڈالر کا انخلا کیا جس کے نتیجے میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز کے ایس ای100 انڈیکس میں 155.32 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔


کمی کے بعد انڈیکس 29200 اور 29100 پوائنٹس کی حد کھوتے ہوئے 29094.13 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، مارکیٹ میں مندی کے باعث سرمائے کے حجم میں 34 ارب 78 کروڑ 55 لاکھ 90 ہزار 333 روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد مارکیٹ سرمائے کا مجموعی حجم 70 کھرب روپے کی سطح سے گھٹ کر 69 کھرب 99 ارب 84 کروڑ 86 لاکھ 10 ہزار444 روپے ہو گیا، کاروباری حجم میں 4.81 فیصد کمی ہوئی، 29 کروڑ 55 لاکھ 73 ہزار حصص کا لین دین ہوا۔

379 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا جس میں سے154 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 201 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی اور 24 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں تعطل جبکہ مشرف کیس پر سیاسی و عسکری قیادت میں غلط فہمیوں کے باعث سرمایہ کار کنفیوژن کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
Load Next Story