چیف سلیکٹر کی پوسٹ ’’مشکوک آہٹیں‘‘ سن کر راشد نے راستہ بدل لیا

جسٹس قیوم رپورٹ کے تحت عہدہ پانے کیلیے نا اہل افراد جلد یا بدیر پی سی بی میں جگہ بنا سکتے ہیں، سابق قائد

اینٹی کرپشن یونٹ کا سربراہ بننے کی خواہش لیے چیئرمین بورڈ سے ملاتھا،’’یس مین ‘‘نہیں ہوں، راشد لطیف۔ فوٹو: فائل

چیف سلیکٹر کی پوسٹ ٹھکرانے والے سابق کپتان راشد لطیف نے '' مشکوک آہٹیں'' سن کر راستہ بدل لیا۔

انھوں نے کہا ہے کہ مشتبہ ماضی والے کرکٹرز کے ساتھ کام نہیں کرسکتا،جن افرادکو جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ کے تحت کوئی عہدہ نہیں سونپا جا سکتا خدشہ ہے کہ وہ جلد یا بدیر پی سی بی میں جگہ بنالیں گے، میں کسی ایسی تنظیم کا حصہ نہیں بن سکتا جس میں ایسے لوگ شامل ہوں، اینٹی کرپشن یونٹ کا سربراہ بننے کی خواہش لیے چیئرمین نجم سیٹھی سے ملا،کام کرنے کو 100فیصد تیار ہوں لیکن ان کے ساتھ نہیں جو میرے کیریئر سے کھیلے۔ میں ''یس مین '' نہیں ہوں، سخت فیصلے کیے تو دوست دشمن بن جائیں گے، ای میل کا جواب نہ ملنے سے محسوس ہواکہ مجھے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راشد لطیف کو چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالنا تھا تاہم انھوں نے انکار کر دیا، گوکہ ابتدا میں انھوں نے اس کی خاص وجوہات بیان نہیں کیں مگر اب آہستہ آہستہ دل کی باتیں زبان پر لا رہے ہیں، سرکاری ٹی وی کو انٹرویو اور نمائندہ ''ایکسپریس'' کو ٹیکسٹ میسجز میں انھوں نے کئی انکشافات کیے، راشد لطیف نے11اپریل کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران نجم سیٹھی کی باتوں کو حقائق کے منافی قرار دیا، سابق کپتان نے کہاکہ حلف اٹھانے کوتیار ہوں کہ ابتدا میں چیف سلیکٹر کے عہدے میں دلچسپی نہیں لی۔


مجھے یہ کہہ کر لاہور بلایا گیا کہ اینٹی کرپشن یونٹ کے حوالے سے بات کرنا ہے، چیئرمین کی دعوت پر قذافی اسٹیڈیم گیا، چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کی موجودگی میں ان سے ملاقات ہوئی، اس دوران ہی نجم سیٹھی نے مجھے چیف سلیکٹر بنانے کی پیشکش کردی، میرا جواب تھا کہ میری دلچسپی اینٹی کرپشن یونٹ میں ہے، اگر چیف سلیکٹر کی آفر قبول کی تو کھلاڑیوں کے انتخاب میں سلیکٹرز،کپتان اور منیجر کی مشاورت ہوگی، ان کے سواکسی کا دباؤ قبول نہیں کروں گا، کام میں مداخلت نہ ہونے کی یقین دہانی کے بعد میں نے پوچھا کہ میرے آنے سے سلیکٹرز اظہر خان اور سلیم جعفرکی ملازمتیں تو برقرار رہیں گی، سبحان احمد کا جواب ہاں میں تھا، اس کے بعد میں نے چیف سلیکٹر بننے کی حامی بھر لی، میری رضامندی کے بعد چیئرمین نے چیف آپریٹنگ آفیسر سے کہا کہ کنٹریکٹ کی پریس ریلیز ابھی جاری کر دو تاہم سبحان احمد اور میں فوری طور پر ایسا کرنے کے حق میں نہ تھے، میرا موقف تھا کہ میں پورٹ قاسم کا ملازم ہوں اور ڈیپوٹیشن پر آؤں گا، فوری طور پرلیٹر پر دستخط کیسے کر سکتا ہوں؟ بعد ازاں پی سی بی کی جانب سے ایک لیٹر پورٹ قاسم بھجوایا گیا، 28 مارچ کو میرے محکمے نے چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالنے یا نہ سنبھالنے کا صوابدیدی اختیارمجھے سونپ دیا۔

راشد لطیف نے واضح کیا اگر ''ہاں'' کر بھی دیتا تو لیٹر کی وزارت سے منظوری کیلیے بھی ایک ماہ درکار تھا۔ سابق کپتان نے کہا کہ 19 مارچ کو اپنے پلان کے بارے میں بورڈ کو ای میل کی لیکن 2 ہفتے تک کسی نے اس کا جواب دینا تو درکنار بات کرنا بھی گوارا نہ کیا، ذہن میں آیا کہ مجھے ٹالا اور ماضی کی طرح ایک بار پھر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک لائیو ٹی وی پروگرام میں بورڈ عہدیداروں سے پوچھا کہ میری ای میل انھیں ملی بھی ہے یا نہیں۔ 3 اپریل کو بورڈ کو یاد دہانی کی ای میل بھجوائی، اسی روز مجھے ہارون رشید کی طرف سے جواب آیا، میں نے خود سے سوال کیا میری بات تو براہ راست چیئرمین یا چیف آپریٹنگ آفیسر کے ساتھ ہو رہی تھی، یہ درمیان میں ہارون رشید کہاں سے آ گئے، میرا نجم سیٹھی سے سوال ہے کہ وہ مجھے اس معاملے کا ہی جواب دیدیں، ابھی معاہدے پر دستخط کرنے کیلیے تیار ہوں۔ سابق کپتان نے کہا ہر شخص پی سی بی میں آنا چاہتا ہے لیکن میں دوسروں جیسا نہیں ہوں،گراس روٹ سطح پر کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں، میرے پاس 27 صفحات کا پلان ہے اور یہ سارا منصوبہ بورڈ کو نہیں بجھوایا تھا۔ راشد لطیف نے کہا کہ نجم سیٹھی قابل آدمی ہیں، ان کی دل سے عزت کرتا ہوں، میرے نہ آنے کا انھیں افسوس رہے گا،اب بھی بورڈ میں 100 فیصدکام کرنے کیلیے تیار ہوں لیکن ان لوگوں کے ساتھ نہیں جو ماضی میں میری راہ میں روڑے اٹکاتے رہے، ایک صاحب جو 2003 میں ٹیم منیجر تھے۔

اب بھی پی سی بی میں موجود ہیں، ان کا نام نہیں لوں گا لیکن میں ان کے تحت کام نہیں کر سکتا، ہارون رشید اور علی ضیا سمیت دیگر عہدیداروں کے ساتھ میرے اچھے مراسم ہیں لیکن میں نے چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالا تو تعلقات اس لیے بھی خراب ہو جائیں گے کیونکہ میں''یس مین '' نہیں ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں مشکوک ماضی والے کرکٹرز کے ساتھ کام نہیں کرسکتا،خدشہ ہے کہ جن لوگوں کو جسٹس قیوم ملک کمیشن کی رپورٹ کے تحت کوئی عہدہ نہیں سونپا جا سکتا وہ جلد یا بدیر پی سی بی میں جگہ بنالیں گے،میںکسی ایسی تنظیم کا حصہ نہیں بن سکتا جس میں ایسے لوگ شامل ہوں،بورڈ کو بھی اس معاملے میں کسی کے ساتھ رعایت نہ برتنے کی پالیسی رکھنی چاہیے۔ ایک سوال پر راشد لطیف نے کہا کہ پی سی بی کے عہدیدار نااہل ہیں، ان کی نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کیلیے چیئرمین کو خود آگے آنا پڑتا ہے، چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھالا تو ایسا نہیں ہو گا، اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھاؤں گا اور راہ فرار اختیار کرنے کے بجائے خود سب کو جواب دوں گا۔ سابق وکٹ کیپر نے کہا کہ صحافی کہہ رہے ہیں کہ 14 اپریل کی میٹنگ میں آپ کو لاہور بلایا گیا ہے لیکن میں اس لیے نہیں جاؤں گا کیونکہ پی سی بی کی جانب سے آفیشل طور پر نہیں کہا گیا۔ راشد لطیف نے کہا کہ 14 برس سے کرکٹ اکیڈمی چلا رہا اور ملک کے تمام کرکٹرز کو بخوبی جانتا ہوں، پی سی بی میں کام کروں یا نہ کروں میرے دل میں نجم سیٹھی کے لیے عزت ہے اور رہے گی، میں انھیں اپنا فیڈ بیک دیتا رہوں گا۔
Load Next Story