قیوم رپورٹ سلیم ملک اور عطا الرحمان پر تاحیات پابندی لگی

مشاق، وقار یونس، وسیم اکرم، انضمام ، سعید انور اور اکرم رضا کو جرمانے بھرنا پڑے

تحقیقات کے بعد مئی 2000 میں کمیشن نے رپورٹ جاری کر دی، فوٹو فائل

پاکستان کرکٹ میں جسٹس قیوم کی رپورٹ کا اکثر تذکرہ ہوتا رہتا ہے۔


اسے منظر عام پر آئے بھی اب کئی برس بیت چکے،اس کے تحت سلیم ملک اور عطا الرحمان تاحیات پابندی کا شکار ہوئے جبکہ مشاق احمد، وقار یونس، وسیم اکرم، انضمام الحق، سعید انور اور اکرم رضا کو جرمانے بھرنا پڑے۔ تنازع کا آغاز تب ہوا جب 1994میں سابق اسٹارز راشد لطیف اور باسط علی نے دورئہ جنوبی افریقہ میں ساتھی کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے وطن واپسی کی راہ اختیار کر لی، اس کے بعد دنیائے کرکٹ میں ایک پنڈورا باکس کھل گیا،بعد ازاں بھی کئی میچز کے مشکوک ہونے کی اطلاعات مسلسل گردش میں رہنے پر بالآخر جسٹس قیوم کمیشن نے9ستمبر 1998 کو انکوائری شروع کر کے طویل فہرست پر مشتمل گواہان کو بلایا، 3آسٹریلوی کرکٹرز مارک وا، مارک ٹیلر اور شین وارن کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے جنھوں نے 1994میں الزام عائد کیا تھا کہ حریف کپتان سلیم ملک نے انھیں کراچی ٹیسٹ میں خراب بولنگ کے عوض رقم کی پیشکش کی تھی۔

تحقیقات کے بعد مئی 2000 میں کمیشن نے رپورٹ جاری کر دی، سلیم ملک1994-95 کے سیزن میں دورئہ سری لنکا اور پھر آسٹریلیا کے خلاف میچز میں فکسنگ کا الزام ثابت ہونے پر تاحیات پابندی کی زد میں آئے، ان پر 10لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوا، اسی طرح مختلف الزامات کے تحت پیسر عطا الرحمان پر بھی لائف بین لگا، ان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔ لیگ اسپنر مشتاق احمد پر الزام تھا کہ دورۂ سری لنکا میں مشترکہ طور پر کپتان سلیم ملک کے ہمراہ 66ہزار 5سو ڈالر میچ فکسنگ کیلیے وصول کیے تاہم واضح ثبوت نہ ہونے پر انھیں 3لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی، معاملے کی مزید تحقیقات کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ مختلف الزامات کی زد میں آنے والے وسیم اکرم کو آئندہ قیادت سے روکنے کے ساتھ 3لاکھ روپے جرمانہ ہوا، ساتھی فاسٹ بولر وقار یونس کو بھی ایسا ہی شک کا فائدہ ملا تاہم انھیں ایک لاکھ روپے جرمانہ بھرنا پڑا۔ سعید انور اور انضمام الحق کی بھی واضح ثبوت نہ ملنے پر گلو خلاصی ہوئی تاہم اوپنر پر حقائق چھپانے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوا، انضمام اور اکرم رضا کو وارننگ کے ساتھ ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی ادائیگی کا بھی حکم ملا۔
Load Next Story