جنوبی کوریا کیساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ چاہتے ہیں نواز شریف
دونوں ملک3سال کیلیے اسٹرٹیجک شراکت داری کی جامع حکمت عملی طے کریں،کورین کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں، وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم نوازشریف اورکورین وزیراعظم چونگ ہونگ وان پاکستان اور کوریاکے مابین تجارت اورتوانائی کے بارے میں یاداشت پردستخط کی تقریب میں شریک ہیں ۔ فوٹو : پی پی آئی
پاکستان اورجنوبی کوریانے تجارت، صنعت اورتوانائی کے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔
جنوبی کوریاایک ہزارمیگاواٹ کے گول پورپن بجلی کے منصوبے میںسرمایہ کاری کرے گا۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے بھی شرکت کی۔ قبل ازیں وفودکی سطح پر مذاکرات سے پہلے وزرائے اعظم کے درمیان ون ٹوون ملاقات ہوئی۔ نوازشریف نے کوریاکے وزیراعظم چنگ ہونگ وون کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ 31 سال میں ہمارے سفارتی تعلقات کے قیام کے بعدکسی بھی کوریائی وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کے پہلے دورے پرہمیں بہت خوشی ہے۔ تمام شعبوں میں کوریاکے ساتھ تعلقات کومضبوط اورمستحکم بنانامیری حکومت کاعزم ہے۔ آئی این پی کے مطابق نوازشریف نے کہاکہ پاکستان جنوبی کوریاکے ساتھ آزادانہ تجارت کامعاہدہ چاہتا ہے۔
دونوں ملک آئندہ3سال کے لیے اسٹرٹیجک شراکت داری کی جامع حکمت عملی طے کریں۔ کورین کمپنیاں پاکستان میں گڈانی پاورپارک، قائداعظم شمسی پارک، مائع قدرتی گیس کے ٹرمنل کی تعمیرسمیت دیگرترقیاتی اسکیموں میں سرمایہ کاری کریں۔ پاکستان میں کوریاکے بینک کی شاخ کھلنے سے دونوںممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کوریاکی ترقی اورتجربے سے استفادہ کرناچاہتاہے۔ باہمی تجارت کے فروغ کے لیے وفودکاتبادلہ تسلسل کے ساتھ قائم رہناچاہیے۔ مشترکہ بزنس فورم، صحت، توانائی، مواصلات، بنیادی ڈھانچے اوردیگر شعبوںمیں تعاون کوفروغ ملے گا۔ انھوں نے امیدکا اظہارکیا کہ کوریاپاکستانی طلباکے لیے وظائف میں اضافہ کرے گا۔ ملاقات میں جنوبی کوریاکے وزیراعظم چنگ ہونگ وون نے کہاکہ پاکستان اورجنوبی کوریاکے درمیان تجارت، معیشت اورتوانائی کے شعبوںمیں باہمی تعاون کو فروغ دیناہوگا جس کے لیے تجارتی وفودکاتبادلہ باقاعدگی کے ساتھ ہوتے رہناچاہیے۔ ملاقات میں سائنس وٹیکنالوجی، بائیوانجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انسانی وسائل کے تبادلے اورمشترکہ دلچسپی کے دیگرامور بھی زیرغور آئے۔
جنوبی کوریاایک ہزارمیگاواٹ کے گول پورپن بجلی کے منصوبے میںسرمایہ کاری کرے گا۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے بھی شرکت کی۔ قبل ازیں وفودکی سطح پر مذاکرات سے پہلے وزرائے اعظم کے درمیان ون ٹوون ملاقات ہوئی۔ نوازشریف نے کوریاکے وزیراعظم چنگ ہونگ وون کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ 31 سال میں ہمارے سفارتی تعلقات کے قیام کے بعدکسی بھی کوریائی وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کے پہلے دورے پرہمیں بہت خوشی ہے۔ تمام شعبوں میں کوریاکے ساتھ تعلقات کومضبوط اورمستحکم بنانامیری حکومت کاعزم ہے۔ آئی این پی کے مطابق نوازشریف نے کہاکہ پاکستان جنوبی کوریاکے ساتھ آزادانہ تجارت کامعاہدہ چاہتا ہے۔
دونوں ملک آئندہ3سال کے لیے اسٹرٹیجک شراکت داری کی جامع حکمت عملی طے کریں۔ کورین کمپنیاں پاکستان میں گڈانی پاورپارک، قائداعظم شمسی پارک، مائع قدرتی گیس کے ٹرمنل کی تعمیرسمیت دیگرترقیاتی اسکیموں میں سرمایہ کاری کریں۔ پاکستان میں کوریاکے بینک کی شاخ کھلنے سے دونوںممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کوریاکی ترقی اورتجربے سے استفادہ کرناچاہتاہے۔ باہمی تجارت کے فروغ کے لیے وفودکاتبادلہ تسلسل کے ساتھ قائم رہناچاہیے۔ مشترکہ بزنس فورم، صحت، توانائی، مواصلات، بنیادی ڈھانچے اوردیگر شعبوںمیں تعاون کوفروغ ملے گا۔ انھوں نے امیدکا اظہارکیا کہ کوریاپاکستانی طلباکے لیے وظائف میں اضافہ کرے گا۔ ملاقات میں جنوبی کوریاکے وزیراعظم چنگ ہونگ وون نے کہاکہ پاکستان اورجنوبی کوریاکے درمیان تجارت، معیشت اورتوانائی کے شعبوںمیں باہمی تعاون کو فروغ دیناہوگا جس کے لیے تجارتی وفودکاتبادلہ باقاعدگی کے ساتھ ہوتے رہناچاہیے۔ ملاقات میں سائنس وٹیکنالوجی، بائیوانجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انسانی وسائل کے تبادلے اورمشترکہ دلچسپی کے دیگرامور بھی زیرغور آئے۔