بلوچستان کیلیے حکمرانوں کا مائنڈ سیٹ نہیں بدلااخترمینگل
قتل عام پر اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائینگے ،الطاف حسین واپس آئے تو استقبال کرونگا،آفاق احمد
قتل عام پر اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائینگے ،الطاف حسین واپس آئے تو استقبال کرونگا،آفاق احمد۔فوٹو:پی پی آئی
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستا ن میں شہر برباداور قبرستان آباد ہورہے ہیں ۔
بلوچستان میں پہلے مسخ شدہ لاشیں ملتی تھیں اب اجتماعی قبریں مل رہی ہیں ، ہم بندوقیں اٹھاکر پہاڑوں کا رخ نہیں کرسکتے بلوچستان کے لیے حکمرانوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوا ہے، بلوچستان کا سیاسی ومعاشی قتل عام بند نہ ہوا تو ہم اسمبلیوں سے استعفے دے دیں گے ۔وہ پیر کو کراچی میں مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔ سردار اختر مینگل کہا کہ اگرہمیں اس ملک کا باشندہ نہیں سمجھا جاتا توکم از کم انسان ہی سمجھ لیا جائے، بلوچستان کے معاملے کو اگر سنجیدہ لیا جاتا تو آج مسائل حل ہو جاتے، انھوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل ہمیں یہ تاثر دیا گیا کہ تبدیلی آئے گی، بلوچستان میں صرف حکومت تبدیل ہوئی ہے حالات تبدیل نہیں ہوئے ہیں، ہم غلط سمجھ بیٹھے تھے کہ جمہوریت آگئی ہے آج بھی جمہوریت کی ڈوریں کہیں اور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم نے استعفیٰ دیا تو پھر بلوچستان میں حکومت کہاں نظر آئے گی ۔
انھوں نے کہا کہ تحفظ پاکستان آرڈی ننس بلوچستان میں ہونے والی نسل کشی کو قانونی تحفظ دینے کیلیے لایاگیا ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں ۔ اس موقع پر مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ زیادتیاں ختم کرنا ہوں گی، طاقت کے زور پر وزیرستان میں کسی کو زیرکیا جاسکتا ہے اور نہ ہی بلوچستان میں حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو دبایا جاسکتا ہے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر الطاف حسین برطانوی پاسپورٹ ردکرکے پاکستان واپس آتے ہیں تو میں ایک بار پھرکہتا ہوں کہ ایئرپورٹ جاکران کا استقبال کروں گا ۔ایک اور سوال کے جواب میں آفاق احمد نے کہاکہ بلوچستان اورکراچی کا مسئلہ ایک جیسا ہے، وہاں بھی لاشیں ملتی ہیں اور کراچی میں بھی لاشیں ملتی ہیں اگرکوئی ملزم گرفتارہوتا ہے تواسے سامنے لایا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں ۔
بلوچستان میں پہلے مسخ شدہ لاشیں ملتی تھیں اب اجتماعی قبریں مل رہی ہیں ، ہم بندوقیں اٹھاکر پہاڑوں کا رخ نہیں کرسکتے بلوچستان کے لیے حکمرانوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوا ہے، بلوچستان کا سیاسی ومعاشی قتل عام بند نہ ہوا تو ہم اسمبلیوں سے استعفے دے دیں گے ۔وہ پیر کو کراچی میں مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔ سردار اختر مینگل کہا کہ اگرہمیں اس ملک کا باشندہ نہیں سمجھا جاتا توکم از کم انسان ہی سمجھ لیا جائے، بلوچستان کے معاملے کو اگر سنجیدہ لیا جاتا تو آج مسائل حل ہو جاتے، انھوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل ہمیں یہ تاثر دیا گیا کہ تبدیلی آئے گی، بلوچستان میں صرف حکومت تبدیل ہوئی ہے حالات تبدیل نہیں ہوئے ہیں، ہم غلط سمجھ بیٹھے تھے کہ جمہوریت آگئی ہے آج بھی جمہوریت کی ڈوریں کہیں اور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم نے استعفیٰ دیا تو پھر بلوچستان میں حکومت کہاں نظر آئے گی ۔
انھوں نے کہا کہ تحفظ پاکستان آرڈی ننس بلوچستان میں ہونے والی نسل کشی کو قانونی تحفظ دینے کیلیے لایاگیا ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں ۔ اس موقع پر مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ زیادتیاں ختم کرنا ہوں گی، طاقت کے زور پر وزیرستان میں کسی کو زیرکیا جاسکتا ہے اور نہ ہی بلوچستان میں حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو دبایا جاسکتا ہے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اگر الطاف حسین برطانوی پاسپورٹ ردکرکے پاکستان واپس آتے ہیں تو میں ایک بار پھرکہتا ہوں کہ ایئرپورٹ جاکران کا استقبال کروں گا ۔ایک اور سوال کے جواب میں آفاق احمد نے کہاکہ بلوچستان اورکراچی کا مسئلہ ایک جیسا ہے، وہاں بھی لاشیں ملتی ہیں اور کراچی میں بھی لاشیں ملتی ہیں اگرکوئی ملزم گرفتارہوتا ہے تواسے سامنے لایا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں ۔