پاک کوریا تجارتی تعلقات ایک اہم پیش رفت

جنوبی کوریا سے ایک طویل وقفے کے بعد معاشی اور دیگر شعبوں میں تعلقات کی تجدید ایک اہم پیش رفت ہے

جنوبی کوریا سے ایک طویل وقفے کے بعد معاشی اور دیگر شعبوں میں تعلقات کی تجدید ایک اہم پیش رفت ہے. فوٹو: آن لائن/فائل

پاکستان اور جنوبی کوریا نے تجارت، صنعت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ جنوبی کوریا ایک ہزار میگاواٹ کے گول پور پن بجلی کے منصوبے میں سرمایہ کاری کرے گا۔ وزیراعظم ہائوس میں ہونے والی تقریب میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے بھی شرکت کی۔ قبل ازیں وفود کی سطح پر مذاکرات سے پہلے وزرائے اعظم کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔ نوازشریف نے کوریا کے وزیراعظم چنگ ہونگ وون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ 31 سال میں ہمارے سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد کسی بھی کوریائی وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کے پہلے دورے پر ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ تمام شعبوں میں کوریا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور مستحکم بنانا میری حکومت کا عزم ہے۔

جنوبی کوریا سے ایک طویل وقفے کے بعد معاشی اور دیگر شعبوں میں تعلقات کی تجدید ایک اہم پیش رفت ہے، یہ لاتعلقی ایک ایشیائی ٹائیگر سے ہمیں بہت مہنگی بھی پڑی کیونکہ جنوبی کوریا ان ایشیائی ملکوں میں شمار ہوتاہے جس سے پاکستانی ماہرین اور اقتصادی مشیر کئی ایک سبق سیکھ سکتے ہیں،جنوبی کوریا جسے 1950-53 کی جنگ نے سخت نقصان پہنچایا ۔اس کی یہ حالت ہوئی تھی کہ اسے خطے میں ایک غریب ترین ملک کا درجہ حاصل تھا مگر ایک متحرک معاشی پالیسی اور فعال قیادت کے باعث جنوبی کوریا اس وقت دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہے۔ اس نے 1962-67 میں اپنا پہلا پانچ سالہ معاشی پلان بنایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایشیائی ٹائیگروں کے سائے سے نکل کر عالمی اقتصادی نقشے پر اپنی الگ پہچان کرائی۔ جنوبی کوریا سے اقتصادی تعلقات کی قدروقیمت کا اندازہ وزیراعظم نواز شریف جیسے صنعتی ترقی اور شرح نمو کی قوت کا گہرا ادراک رکھنے والے سربراہ حکومت سے بہتر کون کر سکتا ہے، نواز شریف نے کہا کہ پاکستان جنوبی کوریا کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ چاہتا ہے۔

دونوں ملک آیندہ3سال کے لیے اسٹرٹیجک شراکت داری کی جامع حکمت عملی طے کریں۔ کورین کمپنیاں پاکستان میں گڈانی پاور پارک' قائد اعظم شمسی پارک، مائع قدرتی گیس کے ٹرمینل کی تعمیر سمیت دیگر ترقیاتی اسکیموں میں سرمایہ کاری کریں۔ پاکستان کوریا کی ترقی اور تجربے سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔حقیقت میں دو طرفہ معاشی تعلقات نہ صرف پاک کوریا باہمی تجارت کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں تاکہ خطے کے ممالک سے تجارتی ،معاشی اور تیکینکی تعاون کو استحکام ملے بلکہ وفود کا تبادلہ تسلسل کے ساتھ قائم بھی رہنا چاہیے۔اس اعتبار سے پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی مناسب سمت میں جا رہی ہے اور اس سے پاک کوریا مشترکہ بزنس فورم، صحت، توانائی، مواصلات، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شعبوں میں تعاون کو یقیناً فروغ ملے گا۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ کوریا پاکستانی طلبا کے لیے وظائف میں اضافہ کریگا۔


انھوں نے کورین کمپنیوں کو مائع قدرتی گیس کے ٹرمینل کی تعمیر، گڈانی پاور پارک اور قائداعظم سولر پارک سمیت دیگر پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ۔ یہاں یہ امر یاد دلانا ضروری ہے کہ جنوبی کوریا نے اقتصادی شعبے میں حیران کن صنعتی تجربات کیے جن پر ایک تفصیلی رپورٹ کرسچئین سائنس مانیٹر نے ''سیئول پاور '' کے عنوان سے شایع کی ہے ، اخبار کا کہنا ہے کہ یہ قابل تقلید ترقی جنوبی کوریائی قیادت نے حریف ملک کی اس دھمکی کے باوجود کی ہے جس میں اسے خبردار کردیا گیا تھا کہ وہ اس ترقی پر نازاں نہ ہو ،کیونکہ اسے ہم آگ کا دریا میں بدل دیں گے۔مگر کوریائی عوام نے اپنے معاشی فیصلے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے جس تن دہی اور سوچ وبچار سے کیے وہ پاکستانی ماہرین اقتصادیات کے لیے مشعل راہ ہیں،اور پوری پاکستانی قوم کو کوریائی عوام سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ کوئی بیرونی طاقت اس وقت تک کسی ملک کو معاشی طور پر کمزور یا مفلوج نہیں کرسکتی جب تک وہ خود اپنے پائوں پر غیر مدبرانہ اور عوام دشمن اقتصادی پالیسیوں کی کلہاڑی نہ چلائے۔

اس حوالہ سے پاکستان کو جنوبی کوریا سے اقتصادی تعلقات میں اس پہلو پر خاص توجہ دینا ہوگی کہ 80 سے یہ تعلقات فروغ پزیر ہیں، نومبر2003 میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے جنوبی کوریا کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا تھا۔ آجکل جنوبی کوریا میں اقتصادی خوش حالی کے تناظر میں یہ مقولہ زبان زد خاص و عام ہے کہ '' بہترین زندگی بہترین انتقام ہے''۔ جنوبی کوریا کے بارے میں عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ جس انداز کی معاشی آئوٹ پنچنگ جنوبی کوریا نے کی ہے وہ ترقی پزیر ملکوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ جنوبی کوریا کا پسماندگی کے وقت فی کس جی ڈی پی 80 ڈالر جب کہ 2012 میں بڑھ کر 20ہزار ڈالر ہوگئی ۔ پاک کوریا وزرائے اعظم کی حالیہ ملاقات میں جہاں دیگر معاملات زیر غور آئے وہاں جنوبی کوریا کے وزیراعظم چنگ ہونگ وون نے پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارت، معیشت اور توانائی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پرزور دیا اور ان کا کہنا تھا کہ باہمی تجارت کے فروغ کے لیے تجارتی وفود کا تبادلہ باقاعدگی کے ساتھ ہوتے رہنا چاہیے۔

نوازشریف نے کوریائی اداروں کو پاکستان میں کام شروع کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان میں کوریا کے بینک کی شاخ کھلنے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا۔ ملاقات میں سائنس و ٹیکنالوجی، بائیو انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انسانی وسائل کے تبادلے اور مشترکہ دلچسپی کے دیگر امور بھی زیرغور آئے۔ کوریائی وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے تجارتی، اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں اضافہ کرنا چاہیے اور نجی شعبے کے اہلکاروں کے تبادلوں میں اضافے کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بڑھانا چاہیے۔جنوبی کوریا نے اس نئے نعرے کے ساتھ اکیسویں صدی میں قدم رکھا کہ ہم ایشین صدی میں داخل ہو رہے ہیں اور اس کا آغاز وہاں کے ماہرین نے جدید آئل ٹینکرز اور ٹینکر جہازوں کی تعمیر سے کیا اور اس میں بڑی پیش قدمی کی، علاوہ ازیں سکائی اسکریپرز اور ہائی ویز کی تعمیر میں بھی پاک کورین سائنس دان اور اقتصادی ماہرین تعاون کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں جب کہ مشترکہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے ضروری میکنزم وضع کرنے کی ضرورت کا بھی ادراک ناگزیر ہے۔

اس وقت پاکستان کو اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمہ کے لیے اہم اقدامات کرنا ہونگے۔ اقتصادی ترقی ہوگی تو داخلی امن کے امکانات مزید روشن ہونگے۔ پاکستانی ماہرین کی ایک بڑی تعداد سیئول اور دیگر شہروں میں مقیم ہے، جنوبی کوریا کی آبادی 4کروڑ 90 لاکھ ہے جس میں پاکستانی ماہرین کی خدمات قابل تعریف ہیں ۔ ان کی مشترکہ کوششوں کے باعث جنوبی کوریا ایک عظیم اقتصادی پاور ہائوس کا روپ دھار چکا ہے۔واضح رہے 1962-89میں وولیگانگ یونیورسٹی نے جنوبی کوریا کی صنعتی ترقی کے حوالہ سے ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے جو ہمارے ماہرین کے لیے بھی چشم کشا ہوسکتی ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ پاک کوریا اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں پیش رفت کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کسی قسم کا تساہل نہیں روا رکھا جائے گا، بلکہ دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو ایک مشن کے طور پر جاری رکھنے کی سعی کی جائے گی۔پاک کوریا تعاون کی طرح دیگر ملکوں کے ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے معاشی منصوبوں کے معاہدے وقت کا تقاضا ہیں ۔اس طرف جتنی توجہ دینے کی آج ضرورت ہے اس پر مزید کچھ تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
Load Next Story