ایف بی آر نے جنرل ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی
ٹیکس ڈائریکٹری میں ٹیکس دہندگان کے نام، این ٹی این، جمع شدہ ٹیکس کی رقم پر مشتمل تفصیلات دی گئی ہیں
ٹیکس دہندگان کونام رہ جانے یا تصحیح سمیت دیگرمعلومات15مئی تک ممبر ان لینڈریونیو پالیسی کوفراہم کرنے کی ہدایت۔ فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے تمام ٹیکس دہندگان کی جنرل ٹیکس ڈائریکٹری جاری کردی، ٹیکس ڈائریکٹری میں ٹیکس دہندگان کے نام، این ٹی این، جمع شدہ ٹیکس کی رقم پر مشتمل تفصیلات دی گئی ہیں۔
ایف بی آر کی جاری کردہ جنرل ٹیکس ڈائریکٹری میں صفر ٹیکس کے ساتھ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے نام بھی شائع کیے گئے ہیں۔ ٹیکس ڈائریکٹری میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے شائع کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے 6 جولائی 2014 کو سینیٹ میں اپنی تقریر کے دوران انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق نمبر 216 کی ذیلی شق 5کے ذریعے حاصل اختیارات کے تحت تمام ٹیکس دہندگان کی ٹیکس ڈائریکٹری شائع کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ایف بی آر کی طرف سے تیار کردہ عبوری ٹیکس ڈائریکٹری 2013جاری کی گئی ہے جس میں14اپریل 2014 تک دستی اور الیکٹرانیکلی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا شامل کیا گیا ہے۔
جبکہ دستی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا سسٹم میں شامل کرلیا گیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ دستی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے کچھ ٹیکس دہندگان کے نام اس ٹیکس ڈائریکٹری میں شامل نہ ہو سکے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ڈیٹا میں کچھ فرق بھی پایا جائے تاہم اس کو مزید اپ ڈیٹ اور ریفائن کیا جارہا ہے۔
ٹیکس ڈائریکٹری میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ڈائریکٹری میں ٹیکس دہندگان کی طرف سے اپنے ٹیکس گوشواروں میں دی جانے والی تفصیلات کے مطابق ان کے نام، نیشنل ٹیکس نمبر اور انکی طرف سے جمع کرائے جانے والے ٹیکس کی رقم دی گئی ہے اور یہ ٹیکس ڈائریکٹری 3 حصوں پر مشتمل ہے جس میں کارپوریشنز، ایسوسی ایشن آف پرسنز(اے او پیز) اور انفرادی ٹیکس دہندگان شامل ہیں جبکہ ٹیکس ڈائریکٹری میں ٹیکس دہندگان کے نام حروف تہجی کے مطابق شامل کیے گئے ہیں۔
ٹیکس ڈائریکٹری میں کہا گیاکہ ٹیکس دہندگان اس ڈائریکٹری کو دیکھیں اور اگر کسی ٹیکس دہندہ کا نام شامل نہیں ہوسکا یا کسی ٹیکس دہندہ کا ڈیٹا ریٹرن کے مطابق نہیں ہے تو وہ 15 مئی تک ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی کو تصحیح شدہ ڈیٹا فراہم کرسکتا ہے تاکہ 30جون 2014 کو جاری کیے جانے والے جنرل ٹیکس ڈائریکٹری کے حتمی ایڈیشن میں اسے شامل کیا جاسکے۔
ایف بی آر کی جاری کردہ جنرل ٹیکس ڈائریکٹری میں صفر ٹیکس کے ساتھ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے نام بھی شائع کیے گئے ہیں۔ ٹیکس ڈائریکٹری میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے شائع کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے 6 جولائی 2014 کو سینیٹ میں اپنی تقریر کے دوران انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق نمبر 216 کی ذیلی شق 5کے ذریعے حاصل اختیارات کے تحت تمام ٹیکس دہندگان کی ٹیکس ڈائریکٹری شائع کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ایف بی آر کی طرف سے تیار کردہ عبوری ٹیکس ڈائریکٹری 2013جاری کی گئی ہے جس میں14اپریل 2014 تک دستی اور الیکٹرانیکلی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا شامل کیا گیا ہے۔
جبکہ دستی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا سسٹم میں شامل کرلیا گیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ دستی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے کچھ ٹیکس دہندگان کے نام اس ٹیکس ڈائریکٹری میں شامل نہ ہو سکے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ڈیٹا میں کچھ فرق بھی پایا جائے تاہم اس کو مزید اپ ڈیٹ اور ریفائن کیا جارہا ہے۔
ٹیکس ڈائریکٹری میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ڈائریکٹری میں ٹیکس دہندگان کی طرف سے اپنے ٹیکس گوشواروں میں دی جانے والی تفصیلات کے مطابق ان کے نام، نیشنل ٹیکس نمبر اور انکی طرف سے جمع کرائے جانے والے ٹیکس کی رقم دی گئی ہے اور یہ ٹیکس ڈائریکٹری 3 حصوں پر مشتمل ہے جس میں کارپوریشنز، ایسوسی ایشن آف پرسنز(اے او پیز) اور انفرادی ٹیکس دہندگان شامل ہیں جبکہ ٹیکس ڈائریکٹری میں ٹیکس دہندگان کے نام حروف تہجی کے مطابق شامل کیے گئے ہیں۔
ٹیکس ڈائریکٹری میں کہا گیاکہ ٹیکس دہندگان اس ڈائریکٹری کو دیکھیں اور اگر کسی ٹیکس دہندہ کا نام شامل نہیں ہوسکا یا کسی ٹیکس دہندہ کا ڈیٹا ریٹرن کے مطابق نہیں ہے تو وہ 15 مئی تک ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی کو تصحیح شدہ ڈیٹا فراہم کرسکتا ہے تاکہ 30جون 2014 کو جاری کیے جانے والے جنرل ٹیکس ڈائریکٹری کے حتمی ایڈیشن میں اسے شامل کیا جاسکے۔