کراچی میں باقاعدگی سے قیمتوں کی نگرانی کی جارہی ہے کمشنر
وزیر اعلیٰ اور چیف سیکریٹری پرائس کنٹرول کی کارروائیوں کی براہ راست نگرانی کرتے ہیں
ریٹیلرز، تھوک فروشوں اور ڈیری فارمرز کیخلاف کارروائی ہو رہی ہے، خطاب۔ فوٹو: فائل
HARIPUR:
کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے اور سرکاری سطح پر پرائس کمیٹیوں کو فعال کرنے سے متعلق ریمارکس قانون اور حکم کا درجہ رکھتے ہیں، سندھ میں پرائس کمیٹیاں نہ صرف موجود بلکہ گزشتہ ایک سال سے انتہائی متحرک ہیں جس کا کریڈٹ سندھ حکومت کو جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری سندھ پرائس کنٹرول کی کارروائیوں کی براہ راست نگرانی کرتے ہیں، کمشنر ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراچی میں باقاعدگی سے قیمتوں کی نگرانی کی جارہی ہے، وفاقی اور صوبائی قوانین کے تحت منافع خوروں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی جارہی ہیں، انھوں نے کہا کہ دودھ فروشوں کی جانب سے سرکاری نرخ کی خلاف ورزی اور از خود من مانی قیمتیں وصول کیے جانے کے خلاف بھرپور کریک ڈائون جاری ہے، ریٹیلرز کے ساتھ تھوک فروشوں اور ڈیری فارمرز کے خلاف بھی کارروائیاں کی جارہی ہیں، انھوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 8632 گراں فروشوں کے چالان کیے گئے اور ایک کروڑ 66لاکھ 27ہزار 300روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور 69 گراں فروشوں کو جیل بھیجا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ گراں فروشی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس مہم میں فوڈ ڈپارٹمنٹ، ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور وینٹ اینڈ میژر ڈپارٹمنٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے، دودھ فروشوں کی جانب سے از خود قیمتیں بڑھانے پر معاشرے کے ہر طبقے کی جانب سے مذمت کی جارہی ہے، کراچی چیمبر آف کامرس نے بھی دودھ فروشوں کے خلاف سخت ایکشن اور جرمانوں کی ضرورت پر زور دیا ہے، انھوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اور کے ایم سی سے بھی مدد لی جائیگی، گراں فروشی کے مرتکب افراد کے کوائف انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو ارسال کیے جائیں گے تاکہ ان سے ٹیکس وصولیاں ممکن بنائی جاسکیں، اسی طرح کے ایم سی کی مدد سے باڑوں کی رجسٹریشن کی تصدیق کرائی جائے گی۔
کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے اور سرکاری سطح پر پرائس کمیٹیوں کو فعال کرنے سے متعلق ریمارکس قانون اور حکم کا درجہ رکھتے ہیں، سندھ میں پرائس کمیٹیاں نہ صرف موجود بلکہ گزشتہ ایک سال سے انتہائی متحرک ہیں جس کا کریڈٹ سندھ حکومت کو جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری سندھ پرائس کنٹرول کی کارروائیوں کی براہ راست نگرانی کرتے ہیں، کمشنر ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراچی میں باقاعدگی سے قیمتوں کی نگرانی کی جارہی ہے، وفاقی اور صوبائی قوانین کے تحت منافع خوروں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی جارہی ہیں، انھوں نے کہا کہ دودھ فروشوں کی جانب سے سرکاری نرخ کی خلاف ورزی اور از خود من مانی قیمتیں وصول کیے جانے کے خلاف بھرپور کریک ڈائون جاری ہے، ریٹیلرز کے ساتھ تھوک فروشوں اور ڈیری فارمرز کے خلاف بھی کارروائیاں کی جارہی ہیں، انھوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 8632 گراں فروشوں کے چالان کیے گئے اور ایک کروڑ 66لاکھ 27ہزار 300روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور 69 گراں فروشوں کو جیل بھیجا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ گراں فروشی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس مہم میں فوڈ ڈپارٹمنٹ، ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور وینٹ اینڈ میژر ڈپارٹمنٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے، دودھ فروشوں کی جانب سے از خود قیمتیں بڑھانے پر معاشرے کے ہر طبقے کی جانب سے مذمت کی جارہی ہے، کراچی چیمبر آف کامرس نے بھی دودھ فروشوں کے خلاف سخت ایکشن اور جرمانوں کی ضرورت پر زور دیا ہے، انھوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اور کے ایم سی سے بھی مدد لی جائیگی، گراں فروشی کے مرتکب افراد کے کوائف انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو ارسال کیے جائیں گے تاکہ ان سے ٹیکس وصولیاں ممکن بنائی جاسکیں، اسی طرح کے ایم سی کی مدد سے باڑوں کی رجسٹریشن کی تصدیق کرائی جائے گی۔