سندھ اسمبلی آئندہ انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت کرانے کی قرار داد منظور

تحریک انصاف کے رکن نے قرارداد اس وقت پیش کی جب متحدہ کے ارکان تحریک التوا ملتوی کیے جانےپراحتجاج اورشورشرابہ کر رہےتھے

پی پی او کے خلاف قراردارمنظورنہ ہوسکی، اسمبلی اجلاس 3روزہوتا ہے لیکن ارکان مراعات7دن کی لیتے ہیں، محمد حسین کا نکتہ اعتراض۔ فوٹو: فائل

سندھ اسمبلی نے منگل کو ایک قرار داد کثرت رائے سے منظور کرلی ، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن صوبہ سندھ میں آئندہ بلدیاتی و عام انتخابات بائیومیٹرک سسٹم کے تحت کرائے۔

یہ قرار داد تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے پیش کی تھی، قرارداد اس وقت پیش کی گئی جب ایم کیوایم کے ارکان اپنی تحریک التوا ملتوی ہونے پراحتجاج اورشورشرابہ کرر ہے تھے، سندھ اسمبلی میں منگل کو پرائیویٹ ممبرز ڈے پر تحفظ پاکستان آرڈی ننس ( پی پی او ) کے خلاف قرار داد اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھی لیکن منظور نہیں ہوسکی ، سندھ کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ نے منگل کو سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد کی اس تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ سندھ اسمبلی ایسی قانون سازی کرے جس کے ذریعہ حکومت سندھ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں آنے والے علاقوں سمیت تمام علاقوں میں پراپرٹی ٹیکس ،انٹر ٹینمنٹ ڈیوٹی اور دیگر صوبائی ٹیکسز عائد اور وصول کرسکے۔سید سردار احمد نے یہ تجویز محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران دی۔


انھوں نے کہا کہ آج کل سینما ہالز کے ٹکٹوں پر ایکسائز کی مہر نہیں ہوتی ہے ، مکیش کمار نے کہا کہ گورنر سندھ کے زبانی حکم پر 2006سے سینمائوں کو انٹر ٹینمنٹ ڈیوٹی سے استشنیٰ دیا گیا ہے، زیادہ تر سینما کنٹونمنٹ بورڈز کے علاقوں میں ہیں، سید سردار احمد نے کہا ان علاقوں سمیت سب علاقوں سے ٹیکس وصولی کے لیے قانون سازی کی جائے ،مکیش کمار چاولہ نے بتایا کہ کراچی میں چلنے والے تمام موٹر سائیکلز رجسٹرڈ ہیں ، کوئی ایسی موٹر سائیکل نہیں جو رجسٹرڈ نہ ہو،31اکتوبر2013کو کراچی میں رجسٹرڈ موٹر سائیکل کی تعداد 1623971تھی، شوروم سے نکلنے والی موٹر سائیکل کی رجسٹریشن کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے، تاخیر سے رجسٹریشن کرانے والوں کو جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

اجلاس میں ایم کیو ایم کے ارکان نے اپنے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے تحریک التوا مسترد ہونے پر احتجاج کر رہے تھے ،اس احتجاج اور شور شرابے کے دوران پی پی او کے خلاف قرارداد کی باری آئی،یہ قرارداد ایم کیو ایم کے رکن کامران اختر کی جانب سے پیش کی گئی تھی،اس سے پہلے اسی شورشرابے میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان کی قرار داد منظورکی گئی لیکن ایم کیو ایم نے اپنی قرار داد نہ تو ایوان میں پیش کی اور نہ ہی قرار داد پیش کرنے کا موقع دینے کے لیے کہا، شور شرابے میں اجلاس جمعہ تک ملتوی ہو گیا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس ایک یا دو دن ہونے کے بعد دو دن چھٹی کرنے کی روایت کا معاملہ بالآخر منگل کوسندھ اسمبلی کے اجلاس میں اٹھایا گیا ، ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نے نکتہ اعتراض پرکہا کہ ہفتے کے 7 دنوں میں سے اجلاس صرف 3 دن چلایا جاتا ہے لیکن قانونی طور پراجلاس کے 7 دن ہی شمار ہوتے ہیں اور ان 7 دنوں کے لیے ارکان کو ٹی اے ، ڈی اے اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں،یہ ایک روایت بن گئی ہے کہ پیر اور منگل کو اجلاس ہوتا ہے ، بدھ اور جمعرات کو چھٹی ہوتی ہے ، پھر جمعہ کو اجلاس ہوتا ہے اور ہفتہ اوراتوارکوچھٹی ہوتی ہے۔
Load Next Story