2345 ارب کا ٹیکس وصولی ہدف چیلنج ہے اسحق ڈار

روپے کی قدر بڑھنے سے قرضوں میں 800 ارب کمی ہوئی،ایف بی آرکانفرنس سے خطاب

اقتصادی معاملات میں تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے،ایف بی آر حکمت عملی کی منظوری۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے رواں مالی سال کے لیے مقررکردہ 2345 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے نظر ثانی شدہ ہدف کو چیلنج قرار دیتے ہوئے ایف بی آر کی مرتب کردہ حکمت عملی کی منظوری دے دی۔

جبکہ ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ اس ہدف کے حصول کے لیے کوششیں تیزکی جائیں، جس کے لیے ایف بی آرکو رواں ماہ سے257 ارب روپے ماہانہ جمع کرناہوں گے، ہم اقتصادی معاملات میں تاخیرکے متحمل نہیں ہوسکتے، بین الاقوامی مارکیٹ میں ہمارے جاری کردہ بانڈ کی پذیرائی پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔منگل کو ایف بی آر میں چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں میں16.4 فیصد کی شرح سے اضافہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایف بی آر رواں مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف حاصل کرلے گا۔ انھوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے پر ایف بی آر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔


ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنا ملک میں مستقبل کے ترقیاتی پروگراموں کے لیے ضروری ہے، موجودہ حکومت نے غریبوں کی بہبود پراخراجات دگنا کر دیے، اس ضمن میں مختص رقم40 ارب روپے سے75 ارب روپے تک بڑھا دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ٹیکس دہندگان کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کی ایک ایک پائی ملک کی بہتری پر خرچ کی جائے گی۔ ہمیں یورو بانڈز سے50 کروڑ ڈالر ملنے کی توقع تھی، تاہم عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی اور پاکستان نے 2 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کیے، ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام آیا اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ سے ہمارے قرضوں میں700 سے800 ارب روپے کی کمی ہوئی۔

پاکستان ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری شائع کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا، اس کے علاوہ جنرل ٹیکس ڈائریکٹری بھی تیار ہے، جس میں وزیراعظم کی ٹیکس اسکیم کے تحت30 اپریل تک ٹیکس گوشوارے داخل کرانے والوں کے نام بھی شامل کیے جائیں گے۔ واشنگٹن میں میڈیا سے بات چیت میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بات کی تھی لیکن ان کے جملے سے ''نیٹ'' کا لفظ نکال کر ٹیکس بڑھانے کا بیان رپورٹ کیا گیا۔ این این آئی کے مطابق ایک انٹرویومیں اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو شدت پسندوں کیخلاف کارروائی کے لیے قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، حال ہی میں 1700 میگاواٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی گئی، انشاء اللہ مستقبل میں صورتحال مزید بہتر ہوجائیگی۔
Load Next Story