نوازشریف نے قازقستان میں ایٹمی دھماکوں کافیصلہ کرلیاتھا پرویز رشید

کیا پنجاب میں گورنر راج اورمیاں برادران کی نا اہلی ’’ فرینڈلی اپوزیشن ‘‘ہونیکا صلہ تھا،ترجمان

کیا پنجاب میں گورنر راج اورمیاں برادران کی نا اہلی ’’ فرینڈلی اپوزیشن ‘‘ہونیکا صلہ تھا،ترجمان

BEIJING:
مسلم لیگ(ن)کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید نے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے نوازشریف کے متعلق ڈاکٹر قدیر کی گفتگو کو حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف قرار دیا ہے۔


ڈاکٹر قدیر کے تازہ انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کے 14سال بعد ڈاکٹر قدیر کے نام نہاد انکشافات مضحکہ خیز ہیں، 11مئی کو بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے وقت وزیراعظم نوازشریف ایکو سربراہ کانفرنس کے سلسلے میں قازقستان میں تھے ۔ سید مشاہد حسین (اب مسلم لیگ ق کے سیکریٹری جنرل) بھی یہ بات متعدد بار کہہ چکے ہیںکہ وزیراعظم نوازشریف نے بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ وہیں کر لیا تھا، پاکستان واپس آتے ہی انھوں نے اس سلسلے میں ڈاکٹر قدیر سمیت پاکستانی سائنسدانوں سے ملاقات کی۔

ترجمان نے ڈاکٹر قدیر کے اس دعوے کو کہ پاکستان آدھے گھنٹے میں ایٹمی دھماکا کر سکتا تھا، مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ چاغی کے پہاڑوں میں سرنگ کو ایٹمی دھماکوں کے قابل بنانے اور حساس سائنسی آلات کو سیٹلائٹ کی آنکھ سے بچا کر وہاں منتقل اور نصب کرنے،ایٹمی دھماکے کے فول پروف انتظامات کیلیے صرف آدھے گھنٹے کی بات کر کے ڈاکٹر صاحب نے کیا خود اپنا مذاق نہیں اڑایا ؟ خود ڈاکٹر قدیر کے درجنوں انٹرویوز اور تقاریر موجود ہیں جن میں انھوں نے ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے نواز شریف کو خراج تحسین پیش کیا ،انھیں عالم اسلام کا عظیم لیڈر قرار دیا اور ایٹمی دھماکوں کو روکنے کے لیے صدرکلنٹن کی طرف سے میاں برادران کے ذاتی اکاؤنٹس کیلیے لاکھوں ڈالر کی پیشکش کاانکشاف کیا تھا۔
Load Next Story