مالک کی واپسی… خوش آمدید

ہمارے مسائل ایسے ہیں کہ اب ان سے خوف آنا شروع ہو گیا ہے۔ صبح جب اخبارات کا بنڈل دیکھتا ہوں تو خوفزدہ ہو جاتا ہوں

Abdulqhasan@hotmail.com

یہ ان دنوں کی بات ہے جب جناب سردار مہتاب عباسی صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ تھے اور میں ایک رپورٹر تھا۔ اسی سلسلے میں پشاور جانا ہوا تھا۔ پشاور میں جناب عباسی کے ساتھ ملاقات ہوئی ان کی سرکاری رہائش گاہ پر جہاں کھل کر باتیں ہوتی رہیں اور باتوں باتوں میں کوئی ایسا موضوع آیا کہ عباسی صاحب نے کہا کہ ہم اس ملک کے مالک بن کر نہیں کرایہ دار بن کر کسی بڑے چھوٹے منصب پر آتے ہیں اور کچھ وقت گزار کر چلے جاتے ہیں۔ ان کی یہ بات میرے دل میں گھر کر گئی۔ میں کئی بار اسے دہرا بھی چکا ہوں۔ انھوں نے وزیراعلیٰ ہائوس کے بڑے گیٹ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اب یہ بند نہیں ہوتا اور اس کے دروازوں کے کواڑوں پر گرد جم گئی ہے جس سے ان کا کھولنا بند کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ کوئی بھی کسی وقت میرے گھر میں آ سکتا ہے اور یہ جو فون پڑا ہے اس کا نمبر کوئی راز نہیں جس کا جب جی چاہے مجھے فون کر سکتا ہے۔

صوبہ پختونخوا کے کلچر میں اونچ نیچ یعنی افسری ماتحتی کم ہے اور کوئی بھی شہری کسی بھی بڑے افسر سے بلا تکلف ہاتھ ملا کر بات کرتا ہے۔ پنجاب سے جانے والے افسروں کو بتایا جاتا ہے کہ وہاں افسرانہ رکھ رکھائو نہیں چلتا۔ اس لیے کسی بھی خان سے ہاتھ ملانے پر تیار رہیں اور اس کے بڑے سے کھردرے ہاتھ کے لمس سے گھبرائیں نہیں۔ عباسی صاحب نے جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی وہ اس صوبے کے باشندوں کے مطابق تھی۔ اب وہ وزیراعلیٰ نہیں گورنر بن کر گئے ہیں اور گورنری میں کچھ آداب اور پروٹوکول زیادہ ہوتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ انسان دوسرے انسان سے پنجابیوں کی طرح بے زار دکھائی دے۔ عباسی صاحب اپنی گورنری بھی انسانیت کے دائرے میں رہ کر کریں گے اور کرایہ دار نہیں مالک بن کر رہیں گے۔

ہمارے مسائل ایسے ہیں کہ اب ان سے خوف آنا شروع ہو گیا ہے۔ صبح جب اخبارات کا بنڈل دیکھتا ہوں تو خوفزدہ ہو جاتا ہوں۔ ہمارے ایک دوست کو جب کوئی بل موصول ہوتا تھا تو وہ اسے دیکھے بغیر ایک طرف رکھ دیتا تھا دوسرے دن دل کڑا کر کے وہ اسے اٹھاتا تھا اور اس کی ادائیگی کی تیاری کرتا تھا۔ میں بھی دل کڑا کر کے ایک اخبار اٹھاتا ہوں اور یہ سمجھ کر کہ اس میں کوئی دھماکا خیز مواد رکھا ہو گا اسے احتیاط کے ساتھ کھولتا ہوں یعنی جان پر کھیل جاتا ہوں اور جب ہر روز کسی کمسن پاکستانی مسلمان بچی کی بے آبروئی کی خبر ہو تو ایسی خبر اور اخبار کو پڑھنا بڑی ہمت کی بات ہے۔ خبر میں اگر لکھا ہو کہ ملزم بھاگ گیا ہے یا پکڑا گیا ہے مگر اس کا ذمے دار متعلقہ پولیس افسر معطل کر دیا گیا ہے تو گویا ہماری جان و مال کی رکھوالی کا حکومت نے اپنا فرض ادا کر دیا۔

ایک مہربانی یہ بھی ہوتی ہے کہ اس بچی کا جسمانی علاج سرکاری خرچ پر کیا جاتا ہے۔ کبھی وزیراعلیٰ صاحب بھی اس بچی کے گھر چلے جاتے ہیں ان کے ساتھ آئی جی یا کوئی بڑا پولیس افسر بھی ہوتا ہے۔ اس افسر کے چہرے پر سنجیدگی ہوتی ہے اور بس۔ آج تک ایسے لاتعداد واقعات کے ملزم جو فرار ہو گئے ہیں یا پکڑے گئے ہیں وہ کہاں ہیں اور ان کو کیا سزا دی گئی ہے جب کہ کئی ایک تو اپنا جرم تسلیم بھی کر چکے ہیں۔ ہمارا عدالتی نظام کیسا ہے یا پولیس کا نظام کیسا ہے کہ ایک پاکستانی بچی کی فریاد اس کے حلق میں گھٹ کر رہ جاتی ہے۔ میں ایک پاکستانی باپ اگر اپنی بچی کی فریاد نہیں سن سکتا تو مجھ پر خدا کی مار ہو۔ برصغیر کے مسلمانوں نے یہ ملک کیا اپنی بچیوں کی حفاظت کے لیے بنایا تھا یا ان کی بربادی اور رسوائی کے لیے۔


میں اپنی ان بے مثال حکومتوں کا ذکر کر کے ان کی بے ادبی نہیں کر سکتا جو حکمرانی کی حالت میں عوام کے یتیم بچوں کو گود میں لے کر کھلایا کرتے تھے بعد کی تاریخ میں بھی کئی ایسے بادشاہ بھی گزرے ہیں جو اپنی سلطنت میں کسی ایسے جرم کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اور اگر ایسا واقعہ ہوتا تو مجرم کو ملیامیٹ کر دیتے تھے۔ آج کی طرح اس کی ضمانت نہیں لیتے تھے۔ ٹیلی ویژن والے یہ ظلم کرتے ہیں کہ ہماری ان بچیوں کی تصویر بھی دکھا دیتے ہیں۔ بے ہوش بے سدھ اور خدا ہی جانتا ہے کس ذہنی حالت میں اور کس کیفیت میں وہ زندہ ہیں۔ ایسے جرائم تو انتہا کے ہیں لیکن ان سے کم جرائم بھی تعداد میں کچھ کم نہیں ہیں۔ چوریاں، ڈاکے ، لوٹ مار اور بازار کی ناقابل تصور مہنگائی، انسانی زندگی کا تحفظ اب ایک خواب بن چکا ہے۔

صبح بچے جب اسکول جاتے ہیں تو میں ان کو جی بھر کر دیکھ لیتا ہوں اور اگر وہ صحیح سلامت لوٹ آتے ہیں تو خدا کا شکر ادا کرتا ہوں اور یہ میری نہیں ہر والد کی حالت بیان کر رہا ہوں۔ کوئٹہ سے پشاور تک ہمارے حکمرانوں کی سیکیورٹی ناقابل تصور ہے۔ کوئی حکمران جہاں بھی ہے وہ ملک الموت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے نرغے میں ہے۔ خدا ہمارے حکمرانوں کو محفوظ رکھے اور ہمیں ان کروڑوں روپوں کے خرچ سے بچائے جو ان کی سیکیورٹی پر اٹھ رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کوئی پاکستانی بھوکا سوتا ہے جس ملک کے کھیت کبھی اناج کی فصلوں سے لہلاتے رہتے تھے نہ جانے کیا بات ہے کہ ان کی زرخیزی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ برکت اٹھ گئی ہے۔

ان دنوں جنوبی کوریا کے وزیراعظم ہمارے مہمان ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایوب خان کے دور میں ان کے ہاں سے خبریں آئی تھیں کہ وہ اپنی قومی ترقی کے لیے پاکستان جا رہے ہیں۔ آج وہی لوگ ہمارے ہاں آ کر کہتے ہیں کہ جدید دورکی کوئی چیز ایسی نہیں جو ہمارے پاس نہیں ہے ہم آپ کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم وہ اس لین دین میں کمیشن کا ذکر بھی کرتے ہیں یا نہیں لیکن وہ ہمیں شرمندہ ضرور کرتے ہیں کہ تم لوگ کیا ہو۔ انھیں کون بتائے کہ ابھی تو ہم فوج اور سول حکومت کے تعلقات میں الجھے ہوئے ہیں ادھر سے فارغ ہوں تو ترقی کی کوئی راہ بھی تلاش کر لیں گے۔

سوائے جاپان کے پورا مشرق بعید ہماری آزادی کے بعد اپنی تعمیر میں شروع ہوا۔ آج چین سمیت ہم سے جونیئر ممالک ہمارے ان داتا بنے ہوئے ہیں۔ صرف اس لیے کہ وہ اس اشرافیہ طبقے کے چنگل میں نہیں پھنسے جس نے پاکستان کو برباد کر دیا ہے اسے لوٹ لیا ہے اسے کھا گیا ہے اور دنیا بھر میں ہمارا لوٹا ہوا مال رکھا ہوا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہمارے قومی لیڈروں میں کتنے پورے پاکستانی ہیں اور کتنے آدھے پاکستانی ہیں۔ میں ایک ناقابل ذکر پاکستانی ہوں لیکن میرا جو کچھ ہے وہ چونکہ میرے گائوں میں ہی ہے لاہور میں عمر گزر جانے کے باوجود میں لاہوری نہیں ہوں۔ اپنے گائوں کا ہوں اول و آخر دیہاتی پاکستانی ہوں تو ہمارے جن لیڈروں کی آل اولاد ملک سے باہر آباد ہو گئی ہے وہ کتنے پاکستانی ہیں مجھے اس سوال کا جواب کون دے گا۔

کوئی نہیں دے گا کیونکہ ان کے پاس اس کا جواب ہے ہی نہیں۔ وہ کسی لٹی ہوئی پاکستانی بچی کے بستر کے پاس کھڑے ہو کر اس کے ماں باپ سے اظہار افسوس کر سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ کسی تھانیدار کو معطل کر سکتے ہیں کیونکہ اس سے بڑے افسر بے گناہ ہوتے ہیں البتہ سرکاری خرچ پر بچی کا علاج ہوتا ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ ہم اس ملک کے مالک نہیں ہیں کرایہ دار ہیں اور کرایہ دار مکان کو استعمال کرتا ہے اس کی حفاظت نہیں کرتا جب اسے زیادہ اچھا مکان ملتا ہے وہ اس میں اٹھ جاتا ہے اور ہمارے کرایہ دار تو دنیا کے بڑے شہروں میں مکانوں فلیٹوں کے مالک ہیں یہاں تو وہ کسی نئے فلیٹ کی قیمت بنانے کے لیے رہتے ہیں۔ پختونخوا کا گورنر جہاں بھی آباد ہے وہ اس کو ملکیت سمجھ کر اس کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ وہ ہمارا کرایہ دار نہیں ہے مالک ہے۔ اس مالک کی واپسی خوش آمدید!
Load Next Story