لانڈھی بجلی چوری کرنیوالی آئسکریم فیکٹری سیل مالک گرفتار
ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم کی کارروائی، فیکٹری کیلیے پی ایم ٹی سے براہ راست کنڈا کنکشن حاصل کیا گیا تھا
ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم کی کارروائی، فیکٹری کیلیے پی ایم ٹی سے براہ راست کنڈا کنکشن حاصل کیا گیا تھا ۔ فوٹو: فائل
بجلی چوری کے خلاف کام کرنے والی ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم نے لانڈھی کے علاقے میں چھاپہ مار کر آئس کریم فیکٹری کے مالک کو ماہانہ کروڑوں روپے کی بجلی چوری کے الزام میں گرفتارکرکے فیکٹری کو سیل کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے بجلی چوری کے خلاف اپنی مہم میں بدھ کو لانڈھی ایک نمبر میں بھٹو نگر بس اسٹاپ کے قریب واقع پاپولر آئس کریم فیکٹری میں چھاپہ مارا تو وہاں میٹر بائی پاس کرکے کنڈا کنکشن کے ذریعے بجلی چلائی جارہی تھی کے ای ایس سی کے عملے نے کنڈے کیلیے ڈالی جانے والی تار کی کھدائی کی تو معلوم ہوا کہ آئس کریم فیکٹری کیلیے پی ایم ٹی سے براہ راست کنڈا کنکشن حاصل کیا گیا تھا، کے ای ایس سی کے ماہرین کے مطابق فیکٹری میں 25 کلو واٹ سے زیادہ بجلی چوری کی جارہی تھی۔
جس کی مالیت 10 لاکھ روپے ماہانہ ہے، ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات کررہے ہیں اور خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر کی جانے والی بجلی چوری کے ای ایس سی کے مقامی عملے کی ملی بھگت سے کی جارہی تھی، انھوں نے کہا کہ آئس کریم کی فیکٹری کے مالک شوکت علی کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے بجلی چوری کے خلاف اپنی مہم میں بدھ کو لانڈھی ایک نمبر میں بھٹو نگر بس اسٹاپ کے قریب واقع پاپولر آئس کریم فیکٹری میں چھاپہ مارا تو وہاں میٹر بائی پاس کرکے کنڈا کنکشن کے ذریعے بجلی چلائی جارہی تھی کے ای ایس سی کے عملے نے کنڈے کیلیے ڈالی جانے والی تار کی کھدائی کی تو معلوم ہوا کہ آئس کریم فیکٹری کیلیے پی ایم ٹی سے براہ راست کنڈا کنکشن حاصل کیا گیا تھا، کے ای ایس سی کے ماہرین کے مطابق فیکٹری میں 25 کلو واٹ سے زیادہ بجلی چوری کی جارہی تھی۔
جس کی مالیت 10 لاکھ روپے ماہانہ ہے، ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات کررہے ہیں اور خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر کی جانے والی بجلی چوری کے ای ایس سی کے مقامی عملے کی ملی بھگت سے کی جارہی تھی، انھوں نے کہا کہ آئس کریم کی فیکٹری کے مالک شوکت علی کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔