طالبان کا جنگ بندی کی توسیع سے انکار

حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل نتیجہ خیز بنانا ہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔۔۔

حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل نتیجہ خیز بنانا ہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

طالبان نے جنگ بندی کی توسیع کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ چالیس روزہ جنگ بندی کے تحفے کا جواب حکومت کی طرف سے مثبت انداز میں نہیں دیا گیا۔ لہذا اب جنگ بندی میں مزید توسیع کا کوئی جواز نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اس کے ساتھ ہی کہا ہے کہ مذاکراتی عمل کو پورے اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھا جائے گا اور حکومت کی طرف سے واضح پیش رفت سامنے نہ آنے کی صورت میں ٹی ٹی پی کوئی سنجیدہ قدم اٹھانے سے نہیں ہچکچائے گی۔ ادھر وفاقی حکومت نے بھی اگلے روز طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا' یہ فیصلہ گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔


یہ اس کونسل کا پہلا اجلاس ہے۔یہ صورت حال خاصی مشکل اور پیچیدہ نظر آتی ہے۔ طالبان نے جنگ بندی میں توسیع سے انکار تو کر دیا ہے تاہم وہ اب بھی مذاکرات جاری رکھنا چاہتی ہے۔ ادھر حکومت کا بھی یہی منشا ہے۔ اس سے یہی نظر آتا ہے کہ فریقین کے درمیان بہت سے امور پر اختلافات موجود ہیں۔ تاہم دونوں فریق مشکلات کے باوجود مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ یوں دیکھا جائے تو یہ حوصلہ افزا صورت حال ہے۔ زیادہ بہتر یہ تھا کہ تحریک طالبان جنگ بندی میں مزید توسیع کر دے۔ اس سے پاکستان کے عوام نے اس کا امیج بہتر ہونا تھا۔ جہاں تک طالبان کے مطالبات پورا نہ ہونے کی بات کا تعلق ہے تو اس حوالے سے وفاقی حکومت ہی وضاحت کر سکتی ہے کہ یہ مطالبات کیا ہیں؟ انھیں پورا کرنے میں کیا مشکلات ہیں؟ عوام یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں امن قائم ہو تاکہ معیشت پر طاری جمود ختم ہوسکے۔

حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوئے بھی خاصا وقت گزر گیا۔ اس حوالے سے ابھی تک جو بہتری نظر آئی ہے وہ یہی ہے کہ کچھ عرصے سے دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے ہیں تاہم اسلام آباد میں پھر بھی ایک واقعہ رونما ہو گیا تھا۔ حکومت اور طالبان کے درمیان جو مذاکرات کا عمل شروع ہے اسے نتیجہ خیز بنانے ہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ محض یہ کہہ دینا کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا'مسئلے کا حل نہیں ہے ۔یہ سلسلہ جتنا طویل ہوتا جائے گا' اتنی ہی زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔ لہٰذا حکومت اور طالبان کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو جلد از جلد نتیجہ خیز بنائیں تاکہ ملک میں جاری ابہام اور کنفیوژن ختم ہو سکے۔
Load Next Story