ٹیکس نادہندگان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کرنے پر غور
آئندہ بجٹ میں تمام شعبوں کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) متعارف کرایا جائے۔
یوٹیلٹی کنکشن کے حامل یونٹس،ہول سیلر وریٹیلرز کیلیے ٹیکس رجسٹریشن ناگزیر،ریئل اسٹیٹ ڈیولپرزپرٹیکس سمیت پی بی سی کی دیگر تجاویزپربھی سوچ بچارکی گئی،ذرائع۔ فوٹو: فائل
NEW YORK:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے وفاقی بجٹ میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) عائد کرنے اور قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس جمع نہ کرانے والے ان ڈاکیومنٹڈ افراد کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کا قانون متعارف کرانے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر ہائوس میں گزشتہ روز پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) اور ایف بی آر حکام پر مشتمل مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی شاہد حسین اسد نے کی، اجلاس پاکستان بزنس کونسل کی درخواست پر پی بی سی کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیاتھا اور اس کی صدارت چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے کرنا تھی مگر پمرا ورائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس سمیت دیگر مصروفیات کے باعث وہ صدارت نہ کرسکے۔ ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ پاکستان بزنس کونسل 45 بڑے نجی بزنس گروپ پر مشتمل ہے جن میں ملٹی نیشنل کمپنیاں اور ادارے بھی شامل ہیں۔
پی بی سی ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں پاکستان بزنس کونسل کی بجٹ تجاویز پر غور ہوا، ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والے ایسے لوگ جنہیں جاری کیے جانے والے نوٹس واپس آجاتے ہیں اور ان کی طرف سے کمپلائنس نہیں کیا جاتا ایسے لوگوں کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کردیے جائیں اور ان کی بحالی و تجدید کو ٹیکس کمپلائنس سے مشروط کیا جائے، کریڈٹ کارڈ ہولڈرز اور مالیاتی ادارے سے پرسنل لون لینے والوں کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کو لازمی قرار دیا جائے، اس کے علاوہ گزشتہ مالی سال کے دوران ایک سے زائد مرتبہ بیرون ممالک کے دورے کرنے والوں، پرائیویٹ کلبوں کے ممبران، شہری علاقوں میں 240 مربع گز کے برابر جائیداد رکھنے والوں یا 1500مربع فٹ کے برابر کورڈ ایریا پر مشتمل اپارٹمنٹ، مکان و جائیداد رکھنے والوں کے لیے بھی انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کو لازمی قرار دیا جائے۔
صنعتی و کمرشل بجلی، پانی، گیس اور ٹیلی فون سمیت کوئی بھی یوٹیلٹی کنکشن رکھنے والے مینوفیکچرنگ، کمرشل و صنعتی یونٹ اور ہول سیلر و ریٹیلر کے لیے ٹیکس رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانے کو لازمی قراردیا جائے، گھریلو بجلی،گیس اور ٹیلی فون کنکشن پر چلنے والی پرچون کی دکانوں کے لیے بھی ٹیکس رجسٹریشن کو لازمی قراردیا جائے۔ پی بی سی کے مطابق گھریلو علاقوں میں قائم ان دکانوں کے بارے میں تمام تر معلومات باآسانی دستیاب ہیں اس لیے انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا آسان ہے، ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں تعمیر شدہ مکانات و پراپرٹیز پر فی مربع فٹ جبکہ ڈیولپرز پر ڈیولپ شدہ پلاٹس کی فروخت پر فی مربع گز کے حساب سے ٹیکس عائد کیا جائے۔
البتہ 100مربع گز کے ایسے رہائشی پلاٹس اور اپارٹمنٹس جن کا کورڈ ایریا 800مربع فٹ یا اس سے کم ہے انہیں ٹیکس سے چھوٹ دی جائے، اسی طرح 120مربع گز تک کے صنعتی و کمرشل پلاٹس کو بھی ٹیکس سے چھوٹ دی جائے۔ بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تمام شعبوں کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس(ویٹ) متعارف کرایا جائے۔ پاکستان بزنس کونسل کیا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس نیٹ سے باہر رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نیشنل ہائوسنگ پالیسی 2001 کے حوالے سے پی بی سی نے کہاکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹرکے لیے ٹیکسوں کی شرح کو ریشنلائز کیا جائے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے وفاقی بجٹ میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ) عائد کرنے اور قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس جمع نہ کرانے والے ان ڈاکیومنٹڈ افراد کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کا قانون متعارف کرانے کی تجویز کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر ہائوس میں گزشتہ روز پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) اور ایف بی آر حکام پر مشتمل مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی شاہد حسین اسد نے کی، اجلاس پاکستان بزنس کونسل کی درخواست پر پی بی سی کی بجٹ تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیاتھا اور اس کی صدارت چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے کرنا تھی مگر پمرا ورائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس سمیت دیگر مصروفیات کے باعث وہ صدارت نہ کرسکے۔ ایف بی آر کے سینئر افسر نے بتایا کہ پاکستان بزنس کونسل 45 بڑے نجی بزنس گروپ پر مشتمل ہے جن میں ملٹی نیشنل کمپنیاں اور ادارے بھی شامل ہیں۔
پی بی سی ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں پاکستان بزنس کونسل کی بجٹ تجاویز پر غور ہوا، ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والے ایسے لوگ جنہیں جاری کیے جانے والے نوٹس واپس آجاتے ہیں اور ان کی طرف سے کمپلائنس نہیں کیا جاتا ایسے لوگوں کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کردیے جائیں اور ان کی بحالی و تجدید کو ٹیکس کمپلائنس سے مشروط کیا جائے، کریڈٹ کارڈ ہولڈرز اور مالیاتی ادارے سے پرسنل لون لینے والوں کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کو لازمی قرار دیا جائے، اس کے علاوہ گزشتہ مالی سال کے دوران ایک سے زائد مرتبہ بیرون ممالک کے دورے کرنے والوں، پرائیویٹ کلبوں کے ممبران، شہری علاقوں میں 240 مربع گز کے برابر جائیداد رکھنے والوں یا 1500مربع فٹ کے برابر کورڈ ایریا پر مشتمل اپارٹمنٹ، مکان و جائیداد رکھنے والوں کے لیے بھی انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کو لازمی قرار دیا جائے۔
صنعتی و کمرشل بجلی، پانی، گیس اور ٹیلی فون سمیت کوئی بھی یوٹیلٹی کنکشن رکھنے والے مینوفیکچرنگ، کمرشل و صنعتی یونٹ اور ہول سیلر و ریٹیلر کے لیے ٹیکس رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانے کو لازمی قراردیا جائے، گھریلو بجلی،گیس اور ٹیلی فون کنکشن پر چلنے والی پرچون کی دکانوں کے لیے بھی ٹیکس رجسٹریشن کو لازمی قراردیا جائے۔ پی بی سی کے مطابق گھریلو علاقوں میں قائم ان دکانوں کے بارے میں تمام تر معلومات باآسانی دستیاب ہیں اس لیے انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا آسان ہے، ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں تعمیر شدہ مکانات و پراپرٹیز پر فی مربع فٹ جبکہ ڈیولپرز پر ڈیولپ شدہ پلاٹس کی فروخت پر فی مربع گز کے حساب سے ٹیکس عائد کیا جائے۔
البتہ 100مربع گز کے ایسے رہائشی پلاٹس اور اپارٹمنٹس جن کا کورڈ ایریا 800مربع فٹ یا اس سے کم ہے انہیں ٹیکس سے چھوٹ دی جائے، اسی طرح 120مربع گز تک کے صنعتی و کمرشل پلاٹس کو بھی ٹیکس سے چھوٹ دی جائے۔ بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تمام شعبوں کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس(ویٹ) متعارف کرایا جائے۔ پاکستان بزنس کونسل کیا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس نیٹ سے باہر رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نیشنل ہائوسنگ پالیسی 2001 کے حوالے سے پی بی سی نے کہاکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹرکے لیے ٹیکسوں کی شرح کو ریشنلائز کیا جائے۔