شہری انتظامیہ بے بس مرغی کے گوشت کی قیمت 330 روپے کلو ہوگئی

گراں فروش سرکاری قیمت کے مقابلے میں70روپے فی کلو تک زائد وصول کررہے ہیں، شہری من مانی قیمتیں ادا کرنے پر مجبور

90فیصد دکانوں پر نرخ نامہ آویزاں نہیں،کمشنر ہائوس اور ڈپٹی کمشنر دفاتر میں فیئر پرائس شاپس قائم کی جائیں، شہری۔ فوٹو: فائل

شہری انتظامیہ کی جانب سے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود شہری مہنگے داموں مرغی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ شہر میں مرغی کے گوشت کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح330روپے کلو پر پہنچ گئی ہیں۔


شہری انتظامیہ مرغی فروشوں کے سامنے بالکل بے بس نظر آتی ہے اور تمام تر دعوئوں،کریک ڈاؤن اور جرمانوں کے باوجود شہر بھر میں ریکارڈ نرخ پر مرغی کی فروخت جاری ہے جبکہ شہری من مانی قیمتیں ادا کرنے پر مجبور ہیں، شہر کی 90فیصد دکانوں پر سرکاری نرخ نامہ آویزاں نہیں ہے، جن دکانوں پر نرخ نامہ موجود ہے وہاں نرخ نامے کو الٹا کرکے آویزاں کیا گیا ہے تاکہ مجسٹریٹ کی آمد کی صورت میں فوری طور پر سیدھا کرکے جرمانے سے بچا جاسکے، کنٹرولر جنرل آف پرائسز کمشنر کراچی کے جاری کردہ نرخ نامے کے مطابق کراچی کے لیے زندہ برائیلر مرغی کی فی کلو قیمت 166روپے اور گوشت کی قیمت 260روپے کلو مقرر ہے تاہم شہر بھر میں زندہ مرغی 200سے 220روپے فی کلو اور گوشت 310سے 330روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے۔

گراں فروش صارفین سے سرکاری قیمت کے مقابلے میں 70روپے فی کلو تک زائد وصول کررہے ہیں لیکن دودھ، پھل، سبزی، اجناس اور گوشت کی طرح شہر کے کسی علاقے اور کسی بھی بازار میں مرغی کی قیمت کنٹرول کرنے کے لیے سرکاری رٹ کا نام و نشان تک نہیں ہے،شہریوں نے کمشنر کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ کمشنر ہائوس اور تمام ڈپٹی کمشنر دفاتر میں فیئر پرائس شاپس قائم کی جائیں تاکہ شہری ان دکانوں سے سرکاری نرخ پر دودھ، سبزی، پھل، گوشت مرغی اور اجناس خرید سکیں۔
Load Next Story