نوبل انعام یافتہ ادیب گارشیا مارکیز کا انتقال
مارکیز اپنے معاصرین میں سب سے زیادہ با اثر ادیب تھے جنہوں نے اپنی تحریریں پڑھنے والے لاکھوں افراد کو متاثر کیا...
مارکیز اپنے معاصرین میں سب سے زیادہ با اثر ادیب تھے جنہوں نے اپنی تحریریں پڑھنے والے لاکھوں افراد کو متاثر کیا. فوٹو:فائل
لاطینی امریکا کے ملک کولمبیا کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار گیبرئیل گارشیا مارکیز جمعرات کو میکسیکو سٹی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 87 سال تھی۔ مارکیز کو ان کے مشہور ناول ''ون ہنڈرڈ ائرز آف سالیچیوڈ'' ( تنہائی کے ایک سو سال) پر نوبل انعام ملا تھا۔ ان کے دیگر مشہور ناولوں میں '' لو ان دا ٹائم آف کالرہ'' اور روڈریگو گارشیا شامل ہیں۔ ناول کے علاوہ مارکیز کے افسانے' ڈرامے' اسکرین پلے اور اخباری کالم بھی بہت اشتیاق سے پڑھے جاتے تھے۔ مارکیز کی تحریر میں ایسی کشش ہے کہ اس کا قاری اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
مارکیز اپنے معاصرین میں سب سے زیادہ با اثر ادیب تھے جنہوں نے اپنی تحریریں پڑھنے والے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ مارکیز کی تصوراتی پرواز ایسی انوکھی تھی کہ ماورائی اشیا بھی حقیقی معلوم ہونے لگتی تھیں۔ مارکیز کو عرف عام میں ''گابو'' کہا جاتا تھا۔ ان کی زیادہ تحریریں ہسپانوی زبان میں ہیں۔ ان کی تحریر میں مہارت کو امریکی ادیب مارک ٹوائن اور برطانوی مصنف چارلس ڈکنز کی تحریروں کے برابر کا درجہ دیا جاتا ہے۔
یہاں یہ خیال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری زبان کے کسی ادیب کو آج تک نوبل انعام کا مستحق کیوں نہیں سمجھا گیا ۔ حاکمان وقت کو اس معاملے پر ضرور غور کرنا چاہیے' سیاسی مفادات کے کھیل اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی نے ادب و ثقافت کو بری طرح متاثر کیا ہے' وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے تاکہ پاکستان بھی قوموں کی برادری میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہو سکے۔
مارکیز اپنے معاصرین میں سب سے زیادہ با اثر ادیب تھے جنہوں نے اپنی تحریریں پڑھنے والے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔ مارکیز کی تصوراتی پرواز ایسی انوکھی تھی کہ ماورائی اشیا بھی حقیقی معلوم ہونے لگتی تھیں۔ مارکیز کو عرف عام میں ''گابو'' کہا جاتا تھا۔ ان کی زیادہ تحریریں ہسپانوی زبان میں ہیں۔ ان کی تحریر میں مہارت کو امریکی ادیب مارک ٹوائن اور برطانوی مصنف چارلس ڈکنز کی تحریروں کے برابر کا درجہ دیا جاتا ہے۔
یہاں یہ خیال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری زبان کے کسی ادیب کو آج تک نوبل انعام کا مستحق کیوں نہیں سمجھا گیا ۔ حاکمان وقت کو اس معاملے پر ضرور غور کرنا چاہیے' سیاسی مفادات کے کھیل اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی نے ادب و ثقافت کو بری طرح متاثر کیا ہے' وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے تاکہ پاکستان بھی قوموں کی برادری میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہو سکے۔