اسپین بولنگ میں نئی امنگ جگانے کا فیصلہ

ہیڈ کوچ، بیٹنگ ، فیلڈنگ کوچ کے ساتھ پہلی بار اسپنرز کیلیے کنسلٹنٹ کا تقرر بھی کیا جائیگا۔

کوچز کیلیے لیول تھری کورس یا اس کے مساوی قابلیت لازمی قرار دے دی گئی، بین الاقوامی ٹیموں کے ساتھ 5 برس کا تجربہ رکھنے والوں کو ترجیح دینے کا اعلان۔ فوٹو: فائل

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپن بولنگ میں نئی امنگ جگانے کا فیصلہ کرلیا، ہیڈ کوچ، بیٹنگ، فیلڈنگ کوچ کیساتھ پہلی بار اسپنرز کیلیے کنسلٹنٹ کا تقرر بھی کیا جائیگا، عہدیداروں کے انتخاب کیلیے اشتہار جاری کردیا گیا۔

فزیو تھراپسٹ اور کنڈیشنگ کوچ کیلیے مرد اور خاتون امیدواروں سے بھی درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ ہیڈ کوچ کیلیے لیول تھری کوچنگ کورس یا اس کے مساوی قابلیت کی شرط عائد کی گئی ہے، ٹاپ کرکٹرز، قومی یا بین الاقوامی سطح کی ٹیموں کیساتھ کام کا 5سالہ تجربہ رکھنے والے سابق ٹیسٹ اور انٹرنیشنل پلیئرزکو ترجیح دی جائے گی، سابق فرسٹ کلاس کرکٹرز کیلیے کم ازکم 10سال کا تجربہ لازمی ہوگا،کمپیوٹر کے استعمال میں مہارت کا ہونا لازمی قراردے دیاگیا، تمام اسامیوں کیلیے عالمی معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی استعداد، پلاننگ، انتظامی، قائدانہ، پیشہ ورانہ امور کی صلاحیتوں، تحریر، تقریر، مسائل کے تجزیے اور حل کی اہلیت سمیت ایسی شرائط کی لمبی فہرست بھی دی گئی ہے جن کا معیار جانچنے کیلیے کوئی پیمانہ مقررکرنا ممکن نہیں، درخواستیں بھجوانے کے آخری تاریخ 5 مئی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے کوچز اور معاون اسٹاف سمیت مختلف عہدوں کیلیے اشتہار جاری کردیا۔ ہیڈ کوچ، بیٹنگ اور فیلڈنگ کوچ کے ساتھ پہلی بار اسپن بولنگ کنسلٹنٹ کی اسامی کیلیے بھی درخواستیں طلب کی گئی ہیں، اسپورٹس فزیو تھراپسٹ اور کنڈیشنگ کوچ کیلیے مرد اور خاتون امیدواروں کی اسامیاں بھی مشتہر کی گئی ہیں۔ بورڈ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ کوائف کے مطابق ہیڈ کوچ کیلیے لیول تھری کوچنگ کورس یا اس کے مساوی قابلیت کی شرط عائد کی گئی ہے، ٹاپ کرکٹرز، قومی یا بین الاقوامی سطح کی ٹیموں کے ساتھ کام کا 5سالہ تجربہ رکھنے والے سابق ٹیسٹ اور انٹرنیشنل پلیئرزکوترجیح دی جائے گی، دوسری صورت میں فرسٹ کلاس کرکٹرز بھی درخواست دے سکتے ہیں لیکن ان کیلیے کم ازکم 10سال کا تجربہ لازمی ہوگا،کمپیوٹر پر مائیکرو سافٹ آفس اورکوچنگ سافٹ ویئر کے استعمال میں مہارت ضروری قرار دی گئی ہے۔


کرکٹ کے عالمی معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگی کی استعداد، دیانتداری، پلاننگ، انتظامی، قائدانہ، پیشہ ورانہ صلاحیتوں، تحریر، تقریر، مسائل کے تجزیے اور حل میں مہارت سمیت شرائط کی لمبی فہرست جاری کی گئی،کامیاب تجربات اور مختلف پس منظر سے آنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت اور ماضی میں اس حیثیت میں کامیاب تجربات بھی لازمی قرار دیے گئے ہیں، حیرت کی بات ہے کہ ان امور میں امیداروں کی اہلیت جانچنے کا کوئی پیمانہ مقررکیا جانا ممکن نظر نہیں آتا، تاہم لفظی گورکھ دھندا امیدواروں کوالجھانے کیلیے کافی ہے، بیشتر تو یہی سوچتے رہ جائیں گے کہ 5یا 10سالہ تجربہ تو ٹھیک ہے دیگرصلاحیتوں کو کیسے ثابت کیا جائے۔ بورڈ کے مطابق ہیڈ کوچ کو پاکستان کرکٹ ٹیم کو ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل سطح پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سنبھالنا ہونگی،اسے پلاننگ، حکمت عملی، ایونٹس کی تیاری جیسے امور پر توجہ دیتے ہوئے قومی ٹیم کی کارکردگی میں نکھار لانے اور رینکنگ بہتر بنانے کا ٹاسک دیا جائے گا، معاون اسٹاف کے مدد سے کرکٹرز کی فٹنس اور کارکردگی میں تسلسل کیلیے کام کرنا ہوگا۔

بیٹنگ اور فیلڈنگ کوچ دونوں کیلیے بھی لیول تھری کورس یا اس کے مساوی قابلیت کی شرط عائد کی گئی ہے، تاہم سابق کرکٹر ہونا لازمی قرار نہیں دیا گیا، قومی یا انٹرنیشنل ٹیموں کے ساتھ کام کا 5سالہ تجربہ درکار ہوگا، اسپن بولنگ میں تیزی سے بڑھتا ہوا قحط دور کرنے کیلیے بھی خصوصی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عبدالقادر، ثقلین مشتاق، مشتاق احمد اور سعید اجمل جیسے اسپنرز تیار کرنے والے ملک میں اسپن بولنگ کو نئی امنگ دی جاسکے، منتخب کنسلٹنٹ ملک بھر میں دستیاب ٹیلنٹ کی صلاحیتیں نکھارنے کیلیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی اور ریجنل کوچز کے ساتھ مل کر پروگرام وضع اور ان پر عملدرآمد کرے گا،اس عہدے کیلیے لیول تھری یا مساوی قابلیت اور 5سال کا تجربہ ضروری ہوگا۔ بیٹنگ، فیلڈنگ اور اسپن بولنگ کوچ کی دیگر شرائط میں کمپیوٹر کے استعمال میں مہارت سمیت الفاظ کا وہی ہیر پھیر ہے جو ہیڈ کوچ کے معاملے میں نظر آتا ہے۔

قومی کرکٹرز کے اندرون ملک اور انٹرنیشنل مقابلوں کے دوران سامنے آنے والے فٹنس مسائل اور انجریز پر قابو پانے، علاج اور بحالی کے پروگراموں پر عمل درآمد کیلیے مرد اور خاتون اسپورٹس فزیو تھراپسٹ کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، امیدوار کیلیے متعلقہ شعبے میں ایم ایس سی اور کھیلوں خاص طور پرکرکٹ میں 3سالہ تجربہ قابل ترجیح ہوگا، پیشہ ورانہ، قائدانہ اور کمپیوٹر میں مہارت سمیت چند متفرق ایسی صلاحیتیں بھی ضروری قرار دی گئیں جن کا ذکر دیگر اسٹاف کی مد میں کیاگیا ہے۔ ٹیم منیجمنٹ اور گیم ڈیولپمنٹ ونگ، نیشنل کرکٹ اکیڈمی و ریجنز کے کوچز اوراسپورٹس فزیو تھراپسٹ کو مرد اور خاتون اسٹرینتھ اورکنڈیشننگ کوچز کی معاونت حاصل ہوگی،اس اسامی کیلیے اسپورٹس میڈیسن، سائنس یا فزیکل ایجوکیشن میں بیچلر ڈگری کے ساتھ 3سالہ تجربہ درکار ہوگا، شرائط کی لمبی فہرست کے ساتھ کرکٹرز کی فٹنس کا ریکارڈمرتب کرنے اور رپورٹس تیار کرنے کی ذمہ داری بھی کنڈیشننگ کوچ کو تفویض کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ سابق چیئرمین ذکا اشرف کے دور میں وسیم اکرم کی سربراہی میں قائم کوچ کمیٹی کی سفارشات پر معین خان ہیڈ کوچ ، ظہیر عباس بیٹنگ کنسلٹنٹ جبکہ شعیب محمد فیلڈنگ کوچ مقرر ہوئے تھے، نجم سیٹھی نے ان کی ذمہ داریاں صرف ایشیا کپ اور ورلڈ ٹوئنٹی20 کے آزمائشی دور تک محدود رکھیں، اب امیدواروں سے 5 مئی تک درخواستیں طلب کی گئی ہیں، ہیڈ کوچ کیلیے سابق کپتان وقار یونس مضبوط امیدوار ہونگے، اسپن کنسلٹنٹ کیلیے مشتاق احمد کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے، دوسری طرف ناقص کارکردگی کے باوجود بولنگ کوچ محمد اکرم اپنے عہدے پر برقرار ہیں گے۔
Load Next Story