شام میں سرکاری فوج کی مختلف شہروں میں کارروائیاں برطانوی سمیت 90 افراد ہلاک

حلب میں فوج نے دہشتگرد گروپوں کی بیرکوں میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی، کئی دہشت گرد ہلاک

حلب میں فوج نے دہشتگرد گروپوں کی بیرکوں میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی، کئی دہشت گرد ہلاک۔ فوٹو:اے ایف پی / فائل

ALIPUR/ABIRWALA:
شام کے مختلف شہروں میں سرکاری فوج کے زمینی اور فضائی حملوں میں 90 افرا دہلاک ہوگئے ۔


جبکہ حلب میں فوج نے دہشتگرد گروپوں کی بیرکوں میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی ہے اور کئی دہشت گردوں کو ہلاک کردیا،شامی لڑائی میں شامل 18سالہ برطانوی نوجوان مارا گیا۔ زب اختلاف کے سرگرم کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بشارالاسد کی فوج نے مختلف شہروں میں آپریشن کے دوران 76 افراد کو ہلاک کردیا جبکہ حمص شہر پر سرکاری فوج نے مختلف اطراف سے باغیوں پر چڑھائی کردی اسی دوران شہر میں ایک کار بم دھماکہ ہوگیا جس میں 14 افراد جاں بحق ہوگئے۔ انسانی حقوق کیلیے شام کے نیٹ ورک کے مطابق 28 افراد حلب میں ،15 دمشق کے مضافات ،13 دیراوزور،12 حمص،4 ادلب،2 دارا جبکہ حما اور اذقیہ میں ایک ایک شخص مار ا گیا۔ ادھر شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ حلب میں فوج نے دہشتگرد گروپوں کی بیرکوں میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی ہے اور کئی دہشتگرد ہلاک ہو گئے ہیں۔ شام کی انسانی حقوق کی مبصر تنظیم نے کہا ہے کہ النصرہ فرنٹ اور اسلامک فرنٹ سمیت باغیوں نے حملہ کیا اور لڑائی جاری ہے۔ دوسری جانب دارالحکومت دمشق میں 100 جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال کرخود کو حکام کے حوالے کردیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنھوں نے جرائم کا ارتکاب نہیں کیا انھیں دوبارہ ہتھیار نہ اٹھانے کی شرط پر رہا کردیا جائے گا۔ شامی لڑائی میں شامل ایک 18 سالہ برطانوی نژاد پاکستانی نوجوان بھی مارا گیا جبکہ اس کا 16 سالہ بھائی جعفر زخمی ہوگیا' عبداللہ کے والد نے بتایا کہ ان کا تیسرا بیٹا 20 سالہ عمر بھی ہیں ہے لیکن وہ محفوظ ہے حکام کے مطابق 18 سالہ عبداللہ دیغائیس چند ہفتوں قبل برطانیہ سے شامی لڑائی میں حصہ لینے کیلئے پہنچا تھا جو لڑائی کے دوران مارا گیا۔ 18 سالہ عبداللہ دیغائیس کا تعلق انگلینڈ کے جنوب مشرقی علاقے برائیٹون سے ہے اس کا چچا ابوبکر دیغائیس 2002 سے 2007 کے دوران گوانتانامو میں امریکی قیدی رہ چکا ہے عبداللہ کے چچا کو مبینہ طور پر پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا، عبداللہ کے خاندان نے اس کی موت کی تصدیق کر دی ہے تاہم انہیں نے اس بارے میں لاعلمی ظاہر کی کہ عبداللہ شام چلا گیا تھا، دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھاکہ ہم اس برطانوی کی ہلاکت سے آگاہ ہیں اور اس معاملے کو سرعت سے دیکھ رہے ہیں،عبداللہ کی فیس بک پر سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ برائیٹون یونیورسٹی کا طالبعلم تھا۔
Load Next Story