اوپن مارکیٹ میں ڈالر 20 پیسے اضافے سے 9960 روپے کا ہوگیا

قدر میں ممکنہ کمی کے باعث نقصان سے بچنے کیلیے لوگ بلاضرورت ڈالر نہ خریدیں، ملک بوستان

قدر میں ممکنہ کمی کے باعث نقصان سے بچنے کیلیے لوگ بلاضرورت ڈالر نہ خریدیں، ملک بوستان۔ فوٹو: فائل

برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے وزیرخزانہ کی جانب سے امریکی ڈالر کی قدر 98 تا100 روپے تک منجمد رکھنے کے بیان کے اثرات ہفتے کو بھی اوپن مارکیٹ پر غالب رہے اور امریکی ڈالر کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے سبب ہفتے کو ایک موقع پرڈالر کی قدر100 روپے سے تجاوز کرگئی تھی تاہم کاروباری سرگرمیوں کے اختتام پر اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 20 پیسے کے اضافے سے99.60 روپے پر آگئی۔

اس ضمن میں ایکس چینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وفاقی وزیرخزانہ کی جانب سے ایکسپورٹرز کو سپورٹ دینے کے لیے ڈالر کی قدر کو 98 تا 100 روپے تک محدود رکھنے کابیان دیا گیا تھا لیکن اس بیان کے تناظر میں ڈالرمیںسٹے بازی کرنے والے دوبارہ متحرک ہوگئے ہیں جس سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی ڈیمانڈ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔


منی مارکیٹ کے اس رحجان میں عام آدمی کو شامل ہونے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے امریکی ڈالر کی قدر اپنی مقررہ 100 روپے سے تجاوز کرجانے کی صورت میں وفاقی وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایکس چینج کمپنیوں کی جانب سے پہلے ہی طے شدہ حکمت عملی کے تحت فوری مداخلت کرلی جائے گی جس سے ڈالر میں بلاضرورت سرمایہ کاری کرنے والوں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ملک بوستان نے بتایا کہ ڈالر کی قدر کا مستقبل مقامی انٹربینک مارکیٹ کی سرگرمیوں پر منحصر ہے، اگر تجارتی بینکوں نے انٹربینک کی سطح پر ڈالرکی قدر میں مقررہ حد سے زائد اضافے پر کنٹرول نہ کیا تو اوپن کرنسی مارکیٹ پر اسکے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ڈالر کی قدر دوبارہ بے لگام ہوجائے گی۔ انہوں نے عام آدمی کو مشورہ دیا کہ وہ ڈالر کی قدر میں ممکنہ کمی کے دوران بھاری نقصانات سے بچنے کے لیے بلاضرورت ڈالر کی خریداری سے گریز کریں اور فی ڈالر صرف 98 روپے میں ملنے کی صورت میں اپنی مطلوبہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امریکی ڈالر کی خریداری کریں۔
Load Next Story