وزیر خزانہ کی زرعی اجناس کے نرخ کم کرنے کے اقدام کی ہدایت
زراعت کا شعبہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے،وزیرخزانہ
زرعی پالیسی کا مقصد ملک کے چھوٹے کسانوں کے ذریعے غربت کا خاتمہ ہے،اسحاق ڈار۔ فوٹو: فائل
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہفتہ کو وزارت خزانہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے ملک میں زرعی اجناس کی قیمتوں اور زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافے کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے جس کا ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 21 فیصد ہے جبکہ زرعی شعبہ ملک کی مجموعی افرادی قوت کے 45 فیصد حصہ کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی ترقی کیلیے کھلی اور واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پالیسی کا مقصد ملک کے چھوٹے کسانوں کے ذریعے غربت کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ غربت کے خاتمے کیلیے سوچ میں تبدیلی اور ایجادات کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی پالیسی کو جلد از جلد تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قدرتی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے ملک کو غذا کے شعبے میں خودکفیل بنایا جاسکے۔
غذائی عدم تحفظ اور غذائیت کی کمی کے مسائل کے خاتمہ کیلیے ضروری ہے کہ زمین کی پیداواریت میں اضافے کیلیے جدید سوچ اپنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی پیداوار میں آڑھتی کے کردار کو کم سے کم کرنا ہوگا جس کیلیے صوبوں سے مشاورت کی جائے گی۔ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے کہا کہ زراعت کی شعبے میں پاکستان میں بہت زیادہ استعداد ہے تاہم زراعت صوبائی محکمہ ہے لیکن قومی معاملات جیسے درآمد و برآمد قیمتوں کا تعین، تحقیق اور صوبائی تعاون کے فروغ سمیت دیگر اہم امور وفاق کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کاشت کاروں اور تحقیق کاروں کے روابط کے فروغ، نئی ایجادات کو متعارف کروانے اور نجی شعبے کی ترقی کیلیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت میں مختلف منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ کاشتکاروں کو فی ایکڑ پیداوار بڑھانے میں معاونت فراہم کی جاسکے۔ آلو کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ ملک میں 11 لاکھ ٹن آلو کی زائد پیداوار ہے تاہم آلو کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں پر مناسب کنٹرول صوبوں کی ذمے داری ہے۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ صوبوں کی معاونت سے قیمتوں میں کمی کیلیے اقدامات کیے جائیں اور اس کا جائزہ لینے کیلیے آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس ہوگا۔ اجلاس میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے سیکریٹری سیرت اصغر جوڑ، چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر افتخار احمد، وزارت خزانہ کے مشیر رانا اسد امین، وزیر خزانہ کے خصوصی معاون شاہد محمود اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے جس کا ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 21 فیصد ہے جبکہ زرعی شعبہ ملک کی مجموعی افرادی قوت کے 45 فیصد حصہ کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی ترقی کیلیے کھلی اور واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پالیسی کا مقصد ملک کے چھوٹے کسانوں کے ذریعے غربت کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ غربت کے خاتمے کیلیے سوچ میں تبدیلی اور ایجادات کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی پالیسی کو جلد از جلد تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قدرتی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے ملک کو غذا کے شعبے میں خودکفیل بنایا جاسکے۔
غذائی عدم تحفظ اور غذائیت کی کمی کے مسائل کے خاتمہ کیلیے ضروری ہے کہ زمین کی پیداواریت میں اضافے کیلیے جدید سوچ اپنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی پیداوار میں آڑھتی کے کردار کو کم سے کم کرنا ہوگا جس کیلیے صوبوں سے مشاورت کی جائے گی۔ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات خان بوسن نے کہا کہ زراعت کی شعبے میں پاکستان میں بہت زیادہ استعداد ہے تاہم زراعت صوبائی محکمہ ہے لیکن قومی معاملات جیسے درآمد و برآمد قیمتوں کا تعین، تحقیق اور صوبائی تعاون کے فروغ سمیت دیگر اہم امور وفاق کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کاشت کاروں اور تحقیق کاروں کے روابط کے فروغ، نئی ایجادات کو متعارف کروانے اور نجی شعبے کی ترقی کیلیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت میں مختلف منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ کاشتکاروں کو فی ایکڑ پیداوار بڑھانے میں معاونت فراہم کی جاسکے۔ آلو کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ ملک میں 11 لاکھ ٹن آلو کی زائد پیداوار ہے تاہم آلو کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں پر مناسب کنٹرول صوبوں کی ذمے داری ہے۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ صوبوں کی معاونت سے قیمتوں میں کمی کیلیے اقدامات کیے جائیں اور اس کا جائزہ لینے کیلیے آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس ہوگا۔ اجلاس میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے سیکریٹری سیرت اصغر جوڑ، چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر افتخار احمد، وزارت خزانہ کے مشیر رانا اسد امین، وزیر خزانہ کے خصوصی معاون شاہد محمود اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔