ہفتہ رفتہ امپورٹڈ کاٹن یارن پر ڈیوٹی کا نفاذ روئی کی قیمتوں میں استحکام
حکومت روئی برآمد پر 5فیصد اضافی مراعات دے تاکہ صنعت وزرمبادلہ ذخائر میں استحکام آسکے، احسان الحق
حکومت روئی برآمد پر 5فیصد اضافی مراعات دے تاکہ صنعت وزرمبادلہ ذخائر میں استحکام آسکے، احسان الحق۔ فوٹو: فائل
مثبت امریکی کاٹن ایکسپورٹ رپورٹ اور دنیا بھر میں روئی کے اینڈنگ اسٹاکس پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کم ہونے کی اطلاعات کے باعث دنیا بھر میں جبکہ سوتی دھاگے کی درآمد پر 5فیصد درآمدی ڈیوٹی کے نفاذ کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں کافی حد تک استحکام دیکھا گیا اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان دوبارہ دیکھنے میں آئے گا۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس '' کو بتایا کہ کاٹن جنرز اور اسپننگ ٹیکسٹائل ملز مالکان کی اپیل پر اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گزشتہ ہفتے کے دوران سوتی دھاگے کی درآمد پر 5فیصد درآمدی ڈیوٹی کے نفاذ کا اعلان کر دیا لیکن پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس میں فوری اضافے کیلیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ کاٹن ایکسپورٹس پر 5فیصد اضافی مراعات کا اعلان کرے تاکہ ملکی کاٹن انڈسٹری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس میں ریکارڈ کمی دیکھی جا رہی ہے جس سے خدشہ ہے کہ اس سے ہمارے تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافہ سامنے آئے گا۔ اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر کاٹن ایکسپورٹرز کیلیے 5فیصد اضافی مراعات کا اعلان کرے جس سے توقع ہے کہ کاٹن جنرز اور اسپننگ ٹیکسٹائل ملزمالکان معاشی بحران کی زد میں نہیں آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.65سینٹ فی پائونڈا ضافے کے ساتھ 93.85سینٹ فی پائونڈ، مئی ڈلیوری روئی کے سودے 1.15سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 90.17سینٹ تک پہنچ گئے۔ بھارت اور چین میں بھی روئی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 100روپے فی من مندی کے بعد 6ہزار 400روپے فی من تک گر گئے۔ تاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے خریداری میں متوقع اضافے کے باعث روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان سامنے آئے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والے کپاس کے پیداواری اعدادوشمار کے مطابق 15اپریل تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 5لاکھ 60ہزار بیلز قابل فروخت پڑی ہوئی ہیں جس کے باعث کاٹن جنرز میں کافی تشویش پائی جا رہی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ وزارت ٹیکسٹائل کی جانب سے چیئرمین پی سی جی اے مختار خان بلوچ کو ایک مراسلے کے ذریعے روئی کی ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی ) کو فروخت کے بارے میں تجاویز طلب کی گئیں ہیں۔ جس پر اطلاعات کے مطابق چیئرمین پی سی جی اے نے روئی کی ٹی سی پی کیلیے کم از کم قیمت فروخت 7ہزار روپے فی من مختص کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ روئی کی خرید بھی فوری طور پر شروع کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کاٹن جنرز معاشی بحران سے بچ سکیں۔ احسان الحق نے بتایا کہ کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی) نے 3مہینے کے طویل وقفے کے بعد آخر کار بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار بارے اعدادوشمار جاری کر دیے۔
سی سی آئی کی جانب سے جاری ہونیوالی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 14اپریل تک مجموعی طور پر 2کروڑ 95 لاکھ 16ہزار بیلز کے برابر پھٹی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ریکارڈ 13لاکھ 34ہزار بیلز کم ہیں۔ یاد رہے کہ سی سی آئی قبل ازیں ہر ہفتے بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار بارے اعدادوشمار پیدا کرتی تھی لیکن رواں سال بھارت میں کپاس کی پیداوار تخمینوں کے مقابلے میں کافی کم ہونے کی اطلاعات کے باعث سی سی آئی نے 26جنوری کے بعد 14اپریل کو بھارت میں کپاس کی پیداوار کے بارے میں اعدادوشمار جاری کیے ہیں کہ 2013-14کیلیے بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کا تخمینہ 3کروڑ 80 لاکھ بیلز مختص کیا گیا ہے۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس '' کو بتایا کہ کاٹن جنرز اور اسپننگ ٹیکسٹائل ملز مالکان کی اپیل پر اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گزشتہ ہفتے کے دوران سوتی دھاگے کی درآمد پر 5فیصد درآمدی ڈیوٹی کے نفاذ کا اعلان کر دیا لیکن پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس میں فوری اضافے کیلیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ کاٹن ایکسپورٹس پر 5فیصد اضافی مراعات کا اعلان کرے تاکہ ملکی کاٹن انڈسٹری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس میں ریکارڈ کمی دیکھی جا رہی ہے جس سے خدشہ ہے کہ اس سے ہمارے تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافہ سامنے آئے گا۔ اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر کاٹن ایکسپورٹرز کیلیے 5فیصد اضافی مراعات کا اعلان کرے جس سے توقع ہے کہ کاٹن جنرز اور اسپننگ ٹیکسٹائل ملزمالکان معاشی بحران کی زد میں نہیں آئیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.65سینٹ فی پائونڈا ضافے کے ساتھ 93.85سینٹ فی پائونڈ، مئی ڈلیوری روئی کے سودے 1.15سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 90.17سینٹ تک پہنچ گئے۔ بھارت اور چین میں بھی روئی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 100روپے فی من مندی کے بعد 6ہزار 400روپے فی من تک گر گئے۔ تاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے خریداری میں متوقع اضافے کے باعث روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان سامنے آئے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والے کپاس کے پیداواری اعدادوشمار کے مطابق 15اپریل تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 5لاکھ 60ہزار بیلز قابل فروخت پڑی ہوئی ہیں جس کے باعث کاٹن جنرز میں کافی تشویش پائی جا رہی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ وزارت ٹیکسٹائل کی جانب سے چیئرمین پی سی جی اے مختار خان بلوچ کو ایک مراسلے کے ذریعے روئی کی ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی ) کو فروخت کے بارے میں تجاویز طلب کی گئیں ہیں۔ جس پر اطلاعات کے مطابق چیئرمین پی سی جی اے نے روئی کی ٹی سی پی کیلیے کم از کم قیمت فروخت 7ہزار روپے فی من مختص کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ روئی کی خرید بھی فوری طور پر شروع کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کاٹن جنرز معاشی بحران سے بچ سکیں۔ احسان الحق نے بتایا کہ کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی) نے 3مہینے کے طویل وقفے کے بعد آخر کار بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار بارے اعدادوشمار جاری کر دیے۔
سی سی آئی کی جانب سے جاری ہونیوالی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 14اپریل تک مجموعی طور پر 2کروڑ 95 لاکھ 16ہزار بیلز کے برابر پھٹی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ریکارڈ 13لاکھ 34ہزار بیلز کم ہیں۔ یاد رہے کہ سی سی آئی قبل ازیں ہر ہفتے بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار بارے اعدادوشمار پیدا کرتی تھی لیکن رواں سال بھارت میں کپاس کی پیداوار تخمینوں کے مقابلے میں کافی کم ہونے کی اطلاعات کے باعث سی سی آئی نے 26جنوری کے بعد 14اپریل کو بھارت میں کپاس کی پیداوار کے بارے میں اعدادوشمار جاری کیے ہیں کہ 2013-14کیلیے بھارت میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کا تخمینہ 3کروڑ 80 لاکھ بیلز مختص کیا گیا ہے۔