این ای ڈی یونیورسٹی کا ماسٹرز کی فیسوں میں 30 فیصد تک اضافے کا فیصلہ
فیصلہ خسارے پر قابو پانے کیلیے کیا گیا ہے،داخلے5مئی سے شروع ہونگے،اکیڈمک کونسل کااجلاس منگل کوہوگا
رینیوایبل انرجی، انفارمیشن سیکیورٹی(کمپیوٹرز) اورکوسٹل انجینئرنگ میں ماسٹرزپروگرام متعارف کرائیں جائیں گے۔ فوٹو: فائل
این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی انتظامیہ نے ماسٹرزکی سطح پر عصر حاضرکے جدیداوراہم مضامین میں ماسٹرزآف انجینئرنگ متعارف کرانے کافیصلہ کیا ہے۔
ماسٹرزآف انجینئرنگ رینیوایبل انرجی،انفارمیشن سیکیورٹی (کمپیوٹرز) اور کوسٹل انجینئرنگ کے مضامین میںکرایاجائیگا جس میں داخلے آئندہ ماہ سے شروع ہونے والے ماسٹرزپروگرام کے داخلوں کے ساتھ ہی دیے جائیں گے، اس سلسلے میں یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کااجلاس منگل 22 اپریل کوطلب کرلیاگیاہے جس کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرافضل الحق کریں گے، علاوہ ازیں یونیورسٹی انتظامیہ نے مالی خسارے پرقابوپانے کیلیے ماسٹرزکی فیسوں میں مجموعی طور پر 30 فیصدتک اضافے کافیصلہ بھی کیاہے جس کی منظوری اکیڈمک کونسل سے لی جائے گی۔
''ایکسپریس'' کویونیورسٹی ذرائع نے بتایا کہ ماسٹرزکی داخلہ فیس 2ہزارروپے سے بڑھا کر 4 ہزار روپے مقررکرنے،فی کورس سیمسٹرفیس 12ہزارسے ساڑھے 14ہزارروپے مقررکرنے جبکہ اسی طرح دیگرفیسوں میں بھی اضافے کی تجویز دی گئی ہے،ماسٹرزپروگرام میں داخلوں کاآغاز 5مئی سے ہوگاجس کے لیے3 نئے مضامین رینیوایبل انرجی،انفارمیشن سیکیورٹی (کمپیوٹرز) اورکوسٹل انجینئرنگ متعارف کرائے جارہے ہیں تینوں ضابطوں میں داخلے 25،25نشستوں پرداخلہ ٹیسٹ کی بنیاد پردیے جائینگے، رینیوایبل انرجی میں سولرانرجی،ونڈانرجی ہائیڈرو اور Algee انرجی (کائی)سے حاصل ہونے والی توانائی سمیت دیگرقابل تجدید توانائی کے ذرائع کی تدریس ہوگی۔
انفارمیشن سیکیورٹی (کمپیوٹرز)انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کمپیوٹر پر موجود ہرطرح کے حساس ڈیٹا کومحفوظ بنانے ،ٍ ہیکرزسے بچانے ،آن لائن شاپنگ کی صورت میں کریڈٹ کارڈز کے کوڈکومحفوظ بنانے سے سمیت دیگر ڈیجیٹل ڈیٹا کو محفوظ بنانے سے متعلق تعلیم دی جائے گی، اسی طرح کوسٹل انجینئرنگ میں پانی کے اندرتعمیرات سے متعلق انجینئرنگ اور مخصوص ماحول کے لیے پانی کے جہازوں کی تیاری سے متعلق تدریس ہوگی، واضح رہے کہ رینیوایبل انرجی اورکوسٹل انجینئرنگ میں داخلوں کے لیے الیکٹرک انجینئرنگ ،میکینیکل انجینئرنگ اورپٹرولیم انجینئرنگ میں بی ای کرنے والے طلبہ داخلوں کے لیے درخواست دے سکیں گے جبکہ انفارمیشن سیکیورٹی (کمپیوٹرز) میں داخلے کے لیے کمپیوٹرسسٹم،بی ایل آئی ٹی اور سافٹ ویئرانجینئرنگ کے طلبہ اہل ہونگے۔
ماسٹرزآف انجینئرنگ رینیوایبل انرجی،انفارمیشن سیکیورٹی (کمپیوٹرز) اور کوسٹل انجینئرنگ کے مضامین میںکرایاجائیگا جس میں داخلے آئندہ ماہ سے شروع ہونے والے ماسٹرزپروگرام کے داخلوں کے ساتھ ہی دیے جائیں گے، اس سلسلے میں یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کااجلاس منگل 22 اپریل کوطلب کرلیاگیاہے جس کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرافضل الحق کریں گے، علاوہ ازیں یونیورسٹی انتظامیہ نے مالی خسارے پرقابوپانے کیلیے ماسٹرزکی فیسوں میں مجموعی طور پر 30 فیصدتک اضافے کافیصلہ بھی کیاہے جس کی منظوری اکیڈمک کونسل سے لی جائے گی۔
''ایکسپریس'' کویونیورسٹی ذرائع نے بتایا کہ ماسٹرزکی داخلہ فیس 2ہزارروپے سے بڑھا کر 4 ہزار روپے مقررکرنے،فی کورس سیمسٹرفیس 12ہزارسے ساڑھے 14ہزارروپے مقررکرنے جبکہ اسی طرح دیگرفیسوں میں بھی اضافے کی تجویز دی گئی ہے،ماسٹرزپروگرام میں داخلوں کاآغاز 5مئی سے ہوگاجس کے لیے3 نئے مضامین رینیوایبل انرجی،انفارمیشن سیکیورٹی (کمپیوٹرز) اورکوسٹل انجینئرنگ متعارف کرائے جارہے ہیں تینوں ضابطوں میں داخلے 25،25نشستوں پرداخلہ ٹیسٹ کی بنیاد پردیے جائینگے، رینیوایبل انرجی میں سولرانرجی،ونڈانرجی ہائیڈرو اور Algee انرجی (کائی)سے حاصل ہونے والی توانائی سمیت دیگرقابل تجدید توانائی کے ذرائع کی تدریس ہوگی۔
انفارمیشن سیکیورٹی (کمپیوٹرز)انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران کمپیوٹر پر موجود ہرطرح کے حساس ڈیٹا کومحفوظ بنانے ،ٍ ہیکرزسے بچانے ،آن لائن شاپنگ کی صورت میں کریڈٹ کارڈز کے کوڈکومحفوظ بنانے سے سمیت دیگر ڈیجیٹل ڈیٹا کو محفوظ بنانے سے متعلق تعلیم دی جائے گی، اسی طرح کوسٹل انجینئرنگ میں پانی کے اندرتعمیرات سے متعلق انجینئرنگ اور مخصوص ماحول کے لیے پانی کے جہازوں کی تیاری سے متعلق تدریس ہوگی، واضح رہے کہ رینیوایبل انرجی اورکوسٹل انجینئرنگ میں داخلوں کے لیے الیکٹرک انجینئرنگ ،میکینیکل انجینئرنگ اورپٹرولیم انجینئرنگ میں بی ای کرنے والے طلبہ داخلوں کے لیے درخواست دے سکیں گے جبکہ انفارمیشن سیکیورٹی (کمپیوٹرز) میں داخلے کے لیے کمپیوٹرسسٹم،بی ایل آئی ٹی اور سافٹ ویئرانجینئرنگ کے طلبہ اہل ہونگے۔