متنازع ایونٹ میں شرکت پی سی بی کا بورڈ ڈسپلن پر سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ

پاکستان کے 5 انٹرنیشنل کرکٹرزکو دانش کنیریا کے ساتھ امریکا کے شہر ہوسٹن میں کرکٹ کھیلنا مہنگا پڑ گیا۔

پاکستان کے 5 انٹرنیشنل کرکٹرزکو دانش کنیریا کے ساتھ امریکا کے شہر ہوسٹن میں کرکٹ کھیلنا مہنگا پڑ گیا۔ فوٹو: فائل

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈسپلن کا شکنجہ مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، امریکہ میں دانش کنیریا کے ہمراہ میچ کھیلنے والوں سے باز پرس کیلیے کمیٹی قائم کی جائے گی۔

پانچوں کرکٹرز کو بغیر این او سی حاصل کیے فرینڈ شپ ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ میں شرکت کا بھی جواب دینا ہوگا، متنازع ایونٹ کا حصہ بننے پر وہاب ریاض نے معافی مانگ لی، دیگر لیگ اسپنر کی موجودگی سے لاعلم ہونے کا جواز تراشنے لگے۔ تفصیلات کے مطابق پی سی بی کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ بدر رفاعی کی وساطت سے پاکستان کے 5 انٹرنیشنل کرکٹرزکو فکسنگ میں تاحیات پابندی کے شکار دانش کنیریا کے ساتھ امریکا کے شہر ہوسٹن میں کرکٹ کھیلنا مہنگا پڑرہا ہے، وہاب ریاض، ناصرجمشید، فواد عالم، عبدالرزاق اور شاہ زیب حسن سمیت کئی پاکستانی کرکٹرز نے فرینڈ شپ کپ ٹوئنٹی 20ٹورنامنٹ میں شرکت کی تھی، ایونٹ میں دانش کنیریا بھی ایکشن میں دکھائی دیے۔

کھلاڑیوں، بدر رفاعی اور سزا یافتہ لیگ اسپنر کا گروپ فوٹو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نظر آتے ہی میڈیا،آئی سی سی، انگلش کرکٹ بورڈ کے کان کھڑے ہوگئے اور ایونٹ متنازع ہوگیا۔ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ماضی کے داغ دھونے میں مصروف پی سی بی نے تمام کرکٹرز اورڈائریکٹرمارکیٹنگ کوچارج شیٹ کیا، ذرائع کے مطابق وہاب ریاض نے باقاعدہ معافی مانگ لی ہے، باقی پلیئرز ناصر جمشید، فواد عالم، شاہ زیب حسن اور عبدالرزاق وضاحتیں پیش کررہے ہیں کہ انھیں علم نہیں تھا کہ وہاں دانش کنیریا بھی کھیل رہے ہیں لہٰذا ان کا کوئی قصور نہیں۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی کو تمام کرکٹرز کے باضابطہ جواب کا انتظار ہے جس کے موصول ہونے کے بعد کیس کا جائزہ لینے کیلیے ایک کمیٹی قائم کردی جائے گی۔


بورڈ حکام اس معاملے میں کوئی لچک دکھانے کیلیے تیار نہیں،ان کا موقف ہے کہ آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی طرف سے پابندی کے بعد سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو اندورن ملک بھی کسی رجسٹرڈ کلب کی طرف کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاتی، دانش کنیریا بھی تاحیات پابندی کا شکار ہیں، ان کیساتھ میچ میں شرکت ضابطے کی خلاف ورزی ہے جو کسی طور برداشت نہیں کی جاسکتی، دوسری طرف بنیادی سوال یہ ابھرتا ہے کہ کوئی قومی کرکٹر سینٹرل کنٹریکٹ کا پابند نہ بھی ہو تو این او سی حاصل کیے بغیر کسی ایونٹ میں شرکت نہیں کرسکتا، سعید اجمل نے انگلش کائونٹی سے معاہدہ ہوجانے کے باوجود بورڈ سے اجازت ملنے پر ہی انگلینڈ جانے کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا، ان پانچوں کرکٹرز سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ امریکی فرینڈ شپ کپ ٹوئنٹی 20ٹورنامنٹ کھیلنے کیلیے بورڈ این او سی کیوں نہ لیا؟

یاد رہے کہ تنازع سامنے کے بعد پی سی بی کے ایک ذمہ دار آفیشل کا کہنا تھا کہ امریکی ایونٹ کے بارے میں انھیں خود بھی کچھ معلوم نہیں، دیکھیں گے کہ اس ٹورنامنٹ کی کیا حیثیت تھی، جس کے بعد کھلاڑیوں کی جانب سے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی نوعیت دیکھی جائے گی۔ذرائع کے مطابق فکسنگ کے حوالے سے کئی واقعات میں پاکستانی کھلاڑیوں کے نام آجانے پر حد سے زیادہ محتاط پی سی بی مزید کسی تنازع میں نہیں الجھنا چاہتا، اسی لیے ڈسپلن کے حوالے سے شکنجہ سخت رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاحیات پابندی کا شکار ایک اور سابق ٹیسٹ کرکٹر سلیم ملک کرکٹرز ایسوسی ایشن کے تحت سابق اور موجودہ اسٹارز کے مابین امدادی میچ اتوار کو قذافی سٹیڈیم میں کروانا چاہتے تھے لیکن ان کو اجازت نہیں دی گئی،بعد ازاں مقابلہ ایل سی سی اے گرائونڈ میں شیڈول کیا گیا لیکن موجودہ حالات میں پی سی بی کے تیور دیکھتے ہوئے قومی کرکٹرز نے شرکت سے انکارکردیا، یاد رہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر احتشام الدین کے بینیفٹ میچ میں سابق کپتان انضمام الحق، عبدالقادر، شاہد آفریدی اور محمد حفیظ سمیت متعدد اسٹارکھلاڑیوں کی آمد متوقع تھی لیکن صورتحال بھانپتے ہوئے چند نے مقابلے کا حصہ بننے سے انکار کردیا جس کے بعد منتظمین نے اسے ملتوی کردیا۔
Load Next Story