ٹیسٹ ٹیموں کی تعداد کم کی جائے ای ین چیپل کا مطالبہ
ایسوسی ایٹ ممالک کو طویل دورانیے کی کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کرنا مذاق سے کم نہیں، سابق آسٹریلوی کپتان
آئی سی سی کے نزدیک چھوٹی سائیڈز کے ووٹ زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، سابق آسٹریلوی کپتان۔ فوٹو: فائل
سابق آسٹریلوی کپتان ای ین چیپل نے ٹیسٹ ٹیموں کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کردیا، ان کا کہنا ہے کہ ایسوسی ایٹ سائیڈز کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کرنا مذاق سے کم نہیں۔
آئی سی سی کے نزدیک نتائج سے زیادہ چھوٹی ٹیموں کے ووٹ اہمیت رکھتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے ایک کالم میں کیا۔ چیپل نے کہا کہ حال ہی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ایسوسی ایٹ ٹیموں کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے مگر اس کے ساتھ میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ اس سے موجودہ دس فل ممبران کے اسٹیٹس پر کوئی فرق نہیں پڑے گااس سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس کو نتائج یا کرکٹ میں بہتری کے بجائے صرف ووٹس کی فکر ہے اور وہ موجودہ طاقت کے توازن کو بگاڑنا نہیں چاہتے، اعلان کردہ پلان کے تحت ایسوسی ایٹ ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والے فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ انٹرکانٹی نینٹل کی فاتح سائیڈ کو رینکنگ میں سب سے نچلے درجے پر موجود ٹیم کے ساتھ ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر دو ٹیسٹ میچز کھیلنے کا موقع فراہم کیا جائے گاجس کا آغاز 2018 سے ہوگا۔
بظاہر دیکھنے میں یہ چھوٹی ٹیموں کے لیے ایک پرانے کی خواب کی تعبیر ہوسکتی ہے مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اگر آئرلینڈ، افغانستان یا پھر کسی اور مضبوط ایسوسی ایٹ ٹیم نے زمبابوے یا پھر بنگلہ دیش کو شکست دے بھی دی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اسے ٹیسٹ اسٹیٹس مل جائے گا بلکہ ہارنے کے باجود زمبابوے اور بنگلہ دیش کی فل ممبر پوزیشن اور ٹیسٹ اسٹیٹس دونوں ہی برقرار رہیں گے۔ چیپل نے کہا کہ اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کو زیادہ نہیں بلکہ تھوڑی ٹیموں کی ضرورت ہے تقریباً تمام ہی ٹیمیں مختلف مسائل سے دوچار ہیں، انھوں نے پاکستان کے حوالے سے کہا کہ اپنے ملک میں نہ کھیل پانے کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کی پرفارمنس متاثر ہورہی ہے جبکہ پرفارمنس میں غیرمستقل مزاجی اب خود ان کیلیے فرسٹریشن کا باعث بننے لگی ہے۔
آئی سی سی کے نزدیک نتائج سے زیادہ چھوٹی ٹیموں کے ووٹ اہمیت رکھتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے ایک کالم میں کیا۔ چیپل نے کہا کہ حال ہی میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ایسوسی ایٹ ٹیموں کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے مگر اس کے ساتھ میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ اس سے موجودہ دس فل ممبران کے اسٹیٹس پر کوئی فرق نہیں پڑے گااس سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس کو نتائج یا کرکٹ میں بہتری کے بجائے صرف ووٹس کی فکر ہے اور وہ موجودہ طاقت کے توازن کو بگاڑنا نہیں چاہتے، اعلان کردہ پلان کے تحت ایسوسی ایٹ ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والے فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ انٹرکانٹی نینٹل کی فاتح سائیڈ کو رینکنگ میں سب سے نچلے درجے پر موجود ٹیم کے ساتھ ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر دو ٹیسٹ میچز کھیلنے کا موقع فراہم کیا جائے گاجس کا آغاز 2018 سے ہوگا۔
بظاہر دیکھنے میں یہ چھوٹی ٹیموں کے لیے ایک پرانے کی خواب کی تعبیر ہوسکتی ہے مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اگر آئرلینڈ، افغانستان یا پھر کسی اور مضبوط ایسوسی ایٹ ٹیم نے زمبابوے یا پھر بنگلہ دیش کو شکست دے بھی دی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اسے ٹیسٹ اسٹیٹس مل جائے گا بلکہ ہارنے کے باجود زمبابوے اور بنگلہ دیش کی فل ممبر پوزیشن اور ٹیسٹ اسٹیٹس دونوں ہی برقرار رہیں گے۔ چیپل نے کہا کہ اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کو زیادہ نہیں بلکہ تھوڑی ٹیموں کی ضرورت ہے تقریباً تمام ہی ٹیمیں مختلف مسائل سے دوچار ہیں، انھوں نے پاکستان کے حوالے سے کہا کہ اپنے ملک میں نہ کھیل پانے کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کی پرفارمنس متاثر ہورہی ہے جبکہ پرفارمنس میں غیرمستقل مزاجی اب خود ان کیلیے فرسٹریشن کا باعث بننے لگی ہے۔