کراچی چڑیا گھر میں مدھو بالا کی صحت پر بھی سوالات اٹھ گئے

مدھوبالا ذہنی دباؤ کا شکار ہے، مختلف ٹیسٹ کروائے جارہے ہیں، ڈاکٹرز

فوٹو: فائل

چڑیا گھر میں ہتھنی نور جہاں کی موت کے بعد دوسری ہتھنی مدھو بالا کی صحت پر بھی سوالات اٹھ گئے، ویٹ ڈاکٹرز نے مدھو بالا کی صحت پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

فورپاز کے بین الاقوامی ویٹ ڈاکٹر عامر خلیل اور انکی ٹیم نے چڑیا گھر کے دورہ کے موقع پرکہا کہ مدھوبالا اور نورجہاں 17 سال سے ساتھ تھیں اس لئے ٹیسٹ کروائے جارہے ہیں، خون کے ٹیسٹ، ایکسرے اور الٹراساؤنڈ کئے جارہے ہیں، مدھوبالا بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ ٹیسٹ کی رپورٹ کے بعد مدھوبالا کو سفاری پارک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نورجہاں دنیا سے چلی گئی مگر ہمیں بہت کچھ سکھا گئی ہم سب نے نورجہاں کو بچانے کی بہت کوشش کی، مدھو بالا کے آج خون کے نمونے لیے ہیں تاکہ اس میں کسی بھی ممکنہ بیماری کا پتا لگایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہتھنیوں کو رہائش کے لیے بڑی مناسب جگہ کی ضرورت ہوتی ہے سفاری پارک کا بھی دورہ کیا ہے وہاں بھی مزید بہتری کرنا ہوگی۔


ڈاکٹر عامر خلیل نے کہا ہاتھیوں کے لیے سینچری بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ فطری ماحول میں رہ سکیں ایک ہاتھی کےلئے 5۔1 ایکڑ کی زمین چاہیے ہوتی ہے، ہم کسی بھی طرح سے کسی بھی جگہ کو بند کرنے کی حمایت نہیں کرتے۔

ایڈمنسٹریٹرکراچی ڈاکٹر سیف الرحمان نے کہا کہ ہلاک ہونے والی ہتھنی نورجہاں کے طویل پوسٹ مارٹم کے بعد ہتھنی کے دل، پھیپھڑوں سمیت مختلف اعضا کے نمونے لیے گئے اور یہ نمونے لاہور بھیج دیے گئے ہیں۔

انہوں نےیہ بھی بتایا کہ چڑیا گھر میں شیر، زرافہ اور دیگر بڑے جانور بھی لائیں گے۔ مدھو بالا کو شفٹ کرنے کے لیے بیرون ملک سے ماہرین کراچی آئیں گے، ہاتھیوں کی ٹریننگ کے لیے بیرون ممالک سے ماہرین بلوائیں گے اور یہاں سے لوگوں کو ٹریننگ پر باہر بھجوائیں گے۔

ڈائریکٹر زو کنور ایوب نے کہا کہ چڑیا گھر سے مدھوبالا ہتھنی کی سفاری پارک منتقلی مؤخر کردی ہے، مدھوبالا ہتھنی کے مختلف ٹیسٹ کیے ہیں۔ مدھوبالا کی ہیلتھ رپورٹ کلیئر ہونے پر سفاری پارک منتقل کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ 2009 میں چار ہتھنیوں کو تنزانیہ سے کراچی زو منتقل کیا گیا تھا۔
Load Next Story