ریلوے کی حالت زار بہتر بنانے کی ضرورت
ریلوے انجنوں کی کمی کے باعث ملک میں چلنے والی ٹرینوں کی آمد و رفت میں گھنٹوں کی تاخیر کا سلسلہ برقرار ہے
مالی سال 2012-13کے دوران ریلوے کا خسارہ 40 ارب روپے سے بھی تجاوز کر جانے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان ریلوے کی حالت جہاں پہلے ہی خراب ہے وہاں یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ انتہائی ضرورت کے فنڈز کی ترسیل بھی روک دی گئی ہے۔
جس کے نتیجے میں مالی سال 2012-13کے دوران ریلوے کا خسارہ 40 ارب روپے سے بھی تجاوز کر جانے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔ اسلام آباد سے ہمارے خصوصی نمایندے نے ریلوے کے ذمے دار ذرایع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حکومت کی طرف سے غفلت کے باعث پاکستان ریلوے ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
دریں اثناء ریلوے انجنوں کی کمی کے باعث ملک میں چلنے والی ٹرینوں کی آمد و رفت میں نہ صرف گھنٹوں کی تاخیر کا سلسلہ برقرار ہے بلکہ متعدد ٹرینوں کو منسوخ بھی کرنا پڑا ہے اور کئی گاڑیوں کو جوڑ کر چلایا گیا ہے جس سے مسافروں کی پریشانیوں میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوران سفر ٹرینوں کے انجن فیل ہونے کے واقعات بھی معمول بن گئے ہیں۔ ہفتے کو پنجاب' سندھ اور بلوچستان میں چلنے والی ریل گاڑیاں نو نو گھنٹے کی تاخیر کے بعد بھی بمشکل اپنی منزل پر پہنچیں۔
یہ اطلاعت بھی ہیں کہ کئی گاڑیاں راستے میں انجن فیل ہونے کے باعث بدستور ویرانوں میں کھڑی ہیں جنھیں کھینچنے کے لیے انجن بھجوانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ریلوے انتظامیہ کا موقف ہے کہ زیادہ تر ریلوے انجن ازکار رفتہ ہو چکے ہیں۔ اس وجہ سے محکمہ کے پاس انجنوں کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں رواں انجنوں کے لیے ڈیزل کی بھی انتہائی قلت ہے اور آئے دن یہ خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں کہ ریلوے کے پاس ڈیزل صرف ایک دن یا دو دن کا رہ گیا ہے جس کی وجہ سے کئی ٹرینیں منسوخ کرنا پڑ رہی ہیں۔
دوسری طرف جب ہم اپنے مشرقی پڑوسی کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں ریلوے کو مسلسل ترقی دی جا رہی ہے اور پرانی پٹریوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ نئی پٹریاں بھی بچھائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے انڈین ریلوے کا شمار نمایاں منافع کمانے والے اداروں میں ہونے لگا ہے۔ بعض لوگ ریلوے کے تنزل کا الزام ٹرانسپورٹروں سے سرکاری حکام کی ملی بھگت پر بھی عاید کرتے ہیں۔ 1947میں آزادی کے موقعے پر ریلوے کا 8 ہزار کلو میٹر سے کچھ زیادہ ٹریک پاکستان کے حصے میں آیا تھا جو کہ برطانوی نو آبادیاتی حکومت کا تعمیر کردہ تھا۔ بعدازاں آنے والی پاکستانی حکومتوں نے کچھ نئے ٹریک بھی بچھائے اور بعض علاقوں میں ٹرینوں کو بجلی کے ذریعے بھی چلایا گیا۔
ابتدا میں پاکستان ریلوے خاصا منافع بخش محکمہ تھا لیکن گزشتہ ایک دہائی یا اس سے کچھ زیادہ عرصے سے ریلوے شدید مشکلات میں گھرا ہوا محکمہ بن چکا ہے۔ اس کے ملازمین کی تعداد80 ہزار سے زائد ہے جب کہ اسے مالی خسارے سے نکالنے کے لیے حکومت نے کئی ''بیل آئوٹ'' پیکیج بھی دیے لیکن محکمے کی اندرونی بدانتظامیوں کی وجہ سے اس کی حالت بہتر نہیں ہو سکی۔ اس کے مسائل کی وجہ کو حکومت کی عدم توجہ، جدید اور بہتر کارکردگی کے حامل انجنوں کی قلت سے اور مختلف نوع کی بد عنوانیوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ریلوے کو بحران سے نکالا نہیں جاسکتا،ضرور ت صرف اپنی ترجیحات طے کرنے کی ہے۔
جس کے نتیجے میں مالی سال 2012-13کے دوران ریلوے کا خسارہ 40 ارب روپے سے بھی تجاوز کر جانے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے۔ اسلام آباد سے ہمارے خصوصی نمایندے نے ریلوے کے ذمے دار ذرایع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حکومت کی طرف سے غفلت کے باعث پاکستان ریلوے ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
دریں اثناء ریلوے انجنوں کی کمی کے باعث ملک میں چلنے والی ٹرینوں کی آمد و رفت میں نہ صرف گھنٹوں کی تاخیر کا سلسلہ برقرار ہے بلکہ متعدد ٹرینوں کو منسوخ بھی کرنا پڑا ہے اور کئی گاڑیوں کو جوڑ کر چلایا گیا ہے جس سے مسافروں کی پریشانیوں میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوران سفر ٹرینوں کے انجن فیل ہونے کے واقعات بھی معمول بن گئے ہیں۔ ہفتے کو پنجاب' سندھ اور بلوچستان میں چلنے والی ریل گاڑیاں نو نو گھنٹے کی تاخیر کے بعد بھی بمشکل اپنی منزل پر پہنچیں۔
یہ اطلاعت بھی ہیں کہ کئی گاڑیاں راستے میں انجن فیل ہونے کے باعث بدستور ویرانوں میں کھڑی ہیں جنھیں کھینچنے کے لیے انجن بھجوانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ریلوے انتظامیہ کا موقف ہے کہ زیادہ تر ریلوے انجن ازکار رفتہ ہو چکے ہیں۔ اس وجہ سے محکمہ کے پاس انجنوں کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں رواں انجنوں کے لیے ڈیزل کی بھی انتہائی قلت ہے اور آئے دن یہ خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں کہ ریلوے کے پاس ڈیزل صرف ایک دن یا دو دن کا رہ گیا ہے جس کی وجہ سے کئی ٹرینیں منسوخ کرنا پڑ رہی ہیں۔
دوسری طرف جب ہم اپنے مشرقی پڑوسی کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں ریلوے کو مسلسل ترقی دی جا رہی ہے اور پرانی پٹریوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ نئی پٹریاں بھی بچھائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے انڈین ریلوے کا شمار نمایاں منافع کمانے والے اداروں میں ہونے لگا ہے۔ بعض لوگ ریلوے کے تنزل کا الزام ٹرانسپورٹروں سے سرکاری حکام کی ملی بھگت پر بھی عاید کرتے ہیں۔ 1947میں آزادی کے موقعے پر ریلوے کا 8 ہزار کلو میٹر سے کچھ زیادہ ٹریک پاکستان کے حصے میں آیا تھا جو کہ برطانوی نو آبادیاتی حکومت کا تعمیر کردہ تھا۔ بعدازاں آنے والی پاکستانی حکومتوں نے کچھ نئے ٹریک بھی بچھائے اور بعض علاقوں میں ٹرینوں کو بجلی کے ذریعے بھی چلایا گیا۔
ابتدا میں پاکستان ریلوے خاصا منافع بخش محکمہ تھا لیکن گزشتہ ایک دہائی یا اس سے کچھ زیادہ عرصے سے ریلوے شدید مشکلات میں گھرا ہوا محکمہ بن چکا ہے۔ اس کے ملازمین کی تعداد80 ہزار سے زائد ہے جب کہ اسے مالی خسارے سے نکالنے کے لیے حکومت نے کئی ''بیل آئوٹ'' پیکیج بھی دیے لیکن محکمے کی اندرونی بدانتظامیوں کی وجہ سے اس کی حالت بہتر نہیں ہو سکی۔ اس کے مسائل کی وجہ کو حکومت کی عدم توجہ، جدید اور بہتر کارکردگی کے حامل انجنوں کی قلت سے اور مختلف نوع کی بد عنوانیوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ریلوے کو بحران سے نکالا نہیں جاسکتا،ضرور ت صرف اپنی ترجیحات طے کرنے کی ہے۔