پنوں عاقل میں المناک ٹریفک حادثہ

وطن عزیز بھی ایک تسلسل کے ساتھ حادثات کے چنگل میں پھنس کر رہ گیا ہے

مادر وطن کے مختلف علاقوں میں تواتر سے ہونے والے ٹریفک حادثات یقیناً قابل افسوس ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل

وقت کرتا ہے پرورش برسوں... حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔ وطن عزیز بھی ایک تسلسل کے ساتھ حادثات کے چنگل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ ابھی گزشتہ سانحے کی بازگشت ختم نہیں ہوتی کہ ایک نیا حادثہ اپنی تمام تر الم ناکی اور ہلاکت خیزی کے ساتھ سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ مادر وطن کے مختلف علاقوں میں تواتر سے ہونے والے ٹریفک حادثات یقیناً قابل افسوس ہیں۔ گزشتہ روز بھی پنوں عاقل کے قریب مسافر کوچ اور ٹریلر میں تصادم کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 42 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے۔ یہ اندوہناک حادثہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ساڑھے 3 بجے قومی شاہراہ پر پنوعاقل کے علاقے سانگی کے مقام پر پیش آیا جب ڈیرہ غازی خان سے کراچی آنے والی مسافر کوچ مخالف سمت سے آنے والے ٹریلر سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے حادثے پر پہنچیں جنھوں نے بس میں پھنسے زخمیوں اور لاشوں کو نکال کر تعلقہ اسپتال پنوں عاقل، سول اسپتال سکھر اور سی ایم ایچ منتقل کردیا۔ بتایا جارہا ہے کہ مسافر کوچ کے ڈرائیور کی تیز رفتاری کے باعث یہ حادثہ پیش آیا جب کہ موٹر وے پولیس بھی اس حادثے میں برابر کی ذمے دار ہے کیونکہ تیز رفتاری کو چیک کرنے کے لیے موٹر وے پولیس کے پاس جدید آلات ہونے کے باوجود مسافر کوچ کو کسی بھی جگہ نہیں روکا گیا۔


ٹریلر سے اندوہناک حادثے کے سبب مسافر کوچ کی ایک سائیڈ مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ ٹریلر کے عقبی حصے نے مسافر کوچ کی ڈرائیور سائیڈ کو رگڑ دیا جس کے سبب کوچ میں سوار مسافروں کی لاشیں کچل گئیں اور سیٹوں تلے پھنس کر رہ گئیں۔ ٹریلر ڈرائیور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ واقعے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور انتظامیہ کی جانب سے زخمیوں کے لیے خون کے عطیات کی اپیل کی گئی۔ حادثے کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی افراد کا تعلق ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے مختلف علاقوں سے ہے۔ زخمیوں کا کہنا ہے کہ حادثہ ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا تاہم مقامی لوگوں کے مطابق قومی شاہراہ کا یہ حصہ گھوٹکی سے سکھر تک زیر تعمیر ہے جس کی وجہ سے تمام گاڑیوں کو کئی مقامات پر سنگل سڑک پر چلنا پڑتا ہے۔ حادثے میں ہونے والے جانی نقصان پر صدر مملکت اور وزیراعظم سمیت تقریباً تمام ہی سیاسی قائدین اور رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کسی بھی حادثے کے بعد روایتی بیانات اور افسوس اب ایک وطیرہ بن چکا ہے لیکن کیا محض افسوس کرنے سے ان جانی نقصانات کا ازالہ ہوجائے گا، کیا زخمیوں کو جو 25 ہزار فی کس دینے کا اعلان کیا گیا ہے وہ رقم ان کے دکھوں کا مداوا کرپائے گی؟ کیا انسانی جان کو دولت کے پیمانے میں تولا جاسکتا ہے؟ آخر کب تک یوں روایتی بیانات کا سہارا لیا جاتا رہے گا؟ روڈ اینڈ سیفٹی ایکٹ کا خوابیدہ قانون آخر کب جگایا جائے گا؟ اس طرح کے لانگ روٹ پر باقاعدہ ٹرینڈ ڈرائیوروں کو سفر کی اجازت دی جانے چاہیے۔ یقیناً تیز رفتاری ہلاکت خیز ہے لیکن دیگر وجوہات و محرکات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس حادثے کی ذمے داری یقینی طور پر کئی اداروں پر عائد ہوتی ہے لیکن الزام تراشی کے بجائے جب تک موثر کارروائی نہیں کی جائے گی اس طرح کے حادثات سامنے آتے رہیں گے۔
Load Next Story