حصص مارکیٹ میں مندی29000 کی حد گر گئی

غیرملکیوں کی محدوددلچسپی،مقامی سرمایہ کاروں کی بڑے پیمانے پرفروخت، انڈیکس191پوائنٹس کمی سے28878ہوگیا

224 کمپنیوں کی قیمتیں گھٹ گئیں،51 ارب کانقصان، کاروباری حجم39 فیصدکم،16 کروڑ29 لاکھ حصص کے سودے فوٹو: آن لائن/فائل

ایسٹر تعطیلات کی وجہ سے غیرملکیوں کی محدود کاروباری دلچسپی اور مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی وسیع پیمانے پر آف لوڈنگ کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو معمولی تیزی کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے۔


جس سے انڈیکس کی29000 کی نفسیاتی حد بھی گرگئی، مندی کے باعث 62.22 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے51 ارب14 کروڑ5 لاکھ95 ہزار91 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں مندی کا رحجان عارضی بنیادوں پر ہے اور آئندہ چند سیشنز کے بعد مارکیٹ میں دوبارہ بہتری رونما ہو گی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر43 لاکھ 44 ہزار886 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری سے ایک موقع پر53 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران این بی ایف سیز کی جانب سے3 لاکھ88 ہزار948 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے35 لاکھ6 ہزار304 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے4 لاکھ 49 ہزار633 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا سے تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 191.16 پوائنٹس کی کمی سے28878.77 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 180.22 پوائنٹس کی کمی سے20117.27 اور کے ایم آئی30 انڈیکس391 پوائنٹس کی کمی سے46016.18 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت39.54 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر16 کروڑ29 لاکھ 53 ہزار340 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 360 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں114 کے بھاؤ میں اضافہ، 224 کے داموں میں کمی اور22 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story