کراچی میں فائرنگ پروفیسر سمیت4 قتل دھابیجی اور دیگر علاقوں سے 7لاشیں ملیں

غریب آباد انڈر پاس پرفائرنگ سے بھگدڑ، متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، جمعہ گوٹھ سے خاتون کے 2 ہاتھ اور ٹانگیں ملیں

دھابے جی سے تشددزدہ لاشیں کراچی منتقل، اورنگی ٹاؤن کی ضیا کالونی، اسلام چوک، مسلم آباد، کھارادر، قلندریہ چوک پر فائرنگ کے واقعات ۔ فوٹو : محمد ثاقب/ ایکسپریس

کراچی میں فائرنگ کے واقعات میں پروفیسر سمیت 4افراد کو قتل کردیا گیا۔

مختلف علاقوں سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں ملیں، دھابے جی سے ملنے والی 4 افراد کی لاشوں کو تلاش ورثا کیلیے ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا جہاں فنگر پرنٹس کی مدد سے ان کی شناخت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ شریف آباد کے علاقے غریب آباد انڈر پاس پر نیشنل بینک کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان نے سوزوکی مہران کار نمبر AYY-025 پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں کار میںسوار 2 افراد شدید زخمی ہوگئے جبکہ حملہ آور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے، فائرنگ سے بھگدڑ مچ گئی اور خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، ایس ایچ او شریف آباد سلیم اﷲ قریشی نے بتایا کہ دونوں زخمیوں کو فوری طورپر عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 48 سالہ سیف الدین جعفری دم توڑ گئے جبکہ ان ہمراہ کار میں سوار 45 سالہ شکیل احمد کی حالت تشویشناک ہے، مقتول گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی (سائٹ) کے اسسٹنٹ پروفیسر تھے اور کالج سے اپنی رہائش گاہ گلشن اقبال بلاک ون جارہے تھے کہ موٹر سائیکل سوار 2 ملزما ن نے تعاقب کے بعد ان کی کار پر فائرنگ کر دی۔ ایک سوال پر سلیم اﷲ قریشی نے واضح کیا کہ مقتول سیف الدین جعفری کا تعلق اہلسنت مسلک سے تھا۔ اورنگی ٹاؤن کے علاقے پیرآباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 45 سالہ نیک زادہ ہلاک ہوگیا، پولیس کے مطابق مقتول شاہین ہوٹل کا مالک تھا اور وقوعے کے وقت مسلم آباد 2 نمبر میں اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔


پولیس نے واقعے کو بھتہ خوری کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ کھارادر کھڈا مارکیٹ کی گلی نمبر 8 میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 45 سالہ محمد اقبال پٹنی ہلاک ہوگیا، ایس ایچ او بغدادی عالم ڈاہری کے مطابق مقتول سبزی کا بیوپاری ہے، وقوعے کے وقت علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل تھی جس کی وجہ سے ملزمان باآسانی فرار ہوگئے، علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق واقعے میں لیاری گینگ کے ملزمان ملوث ہیں۔ نارتھ ناظم آباد کے علاقے قلندریہ چوک پر قائم نجی اسپتال کے مالک 45 سالہ شاہد حسین کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا، ڈی ایس پی شادمان ٹاؤن افتخار لودھی کے مطابق مقتول نے حال ہی میں قلندریہ چوک پر قائم رحمت اسپتال کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا اور اس دوران اس کی نامعلوم افراد سے دشمنی بھی ہوگئی تھی، ممکنہ طور پر واقعہ اسی دشمنی کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔ ابراہیم حیدری کے علاقے الیاس گوٹھ سے لوہے کے صندوق سے 27 سالہ نامعلوم شخص کی گلے میں پھندا لگی ہوئی لاش ملی، ایس ایچ او امان اﷲ مروت نے بتایا کہ مقتول کو گلے میں رسی کا پھندا لگا کر قتل کیا گیا جبکہ مقتول نے شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے اور لاش 10 سے 12 گھنٹے پرانی تھی، پولیس ابھی اس لاش کے بارے میں تحقیقات کر رہی تھی کہ ابراہیم حیدری کے علاقے جمعہ گوٹھ کے قریب سے خاتون کے 2 ہاتھ اور ٹانگیں ملیں،ایس ایچ او امان اﷲ مروت کا کہنا ہے کہ بعدازاں زمان ٹاؤن کے علاقے سیکٹر 51-C سے خاتون کا دھڑ بھی مل گیا، مقتولہ نے سرخ رنگ کی پھولدار قیمض شلوار پہنی ہوئی ہے۔

خاتون سمیت 2 افراد کی ملنے والی لاشوں سے شبہ ہے کہ دونوں کو کارو کاری کے الزام میں قتل کیا گیا ہے اور لاشیں اور جسمانی اعضا مختلف مقامات پھینک دیے گئے۔ قائد آباد موبائل مارکیٹ کے قریب سے 28 سالہ نامعلوم شخص کی لاش ملی جسے ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال لایا گیا بعدازاں 2تھانوں کی پولیس حدود کے تنازع پر الجھتی رہی، شاہ لطیف ٹاؤن پولیس لاش ملنے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتی رہی جبکہ قائدآباد پولیس کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ لاش شاہ لطیف ٹاؤن کی حدودسے ملی تھی۔ دھابے جی پولیس اسٹیشن کی حدود سے4 افراد کی تشددزدہ لاشیں ملیں، دھابے جی ڈویژن پولیس کے انسپکٹر راجا طارق کے مطابق چاروں مقتولین باریش ہیں اور ان کی عمریں 30 سے 45 سال کے درمیان ہے جنھیں تشدد کے بعد دل اور سر پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا جبکہ لاشیں مختلف سمتوں میں پڑی ہوئی ملی تھیں ، چاروں مقتولین نے شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے۔ دھابے جی پولیس ذرائع کے مطابق شبہ ہے کہ لاشیں کسی جہادی گروپ سے تعلق رکھنے والے یا لاپتہ افراد کی ہوسکتی ہیں۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق چند روزقبل بھی دھابے جی سے متحدہ قومی موومنٹ کے 2 کارکنوں کی لاشیں ملی تھیں، لاشیں ملنے کے واقعے کے علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے، گھگر پھاٹک اور دھابے جی کے درمیان پولیس کی 3چوکیاں ہیںجو آنے جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کرتی ہیں مگر اس کے باوجود 2بڑے واقعات پولیس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے اورنگی ٹاؤن کے علاقے گلشن ضیا لیاقت چوک گلی نمبر8 میں 2 افراد 28 سالہ مستقیماور اس کا بھائی 13 سالہ محمد طلحہ ، اورنگی ٹاؤن کے علاقے اسلام چوک کے قریب 26 سالہ نامعلوم شخص، سہراب گوٹھ آلاصف اسکوائر کے قریب عابد، ملیر کینٹ کے علاقے ریس کورس روڈ کے قریب 25 سالہ فیصل جبکہ پنجاب چورنگی کے قریب شکیل نامی شخص تیز دھار آلے کے وار سے زخمی ہوگیا۔
Load Next Story